07:06 am
خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے

خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے

07:06 am

مولانافضل الرحمن اپنی سیاسی مذہبی قوت کےسا تھ بخیریت کراچی سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں
مولانافضل الرحمن اپنی سیاسی مذہبی قوت کےسا تھ بخیریت کراچی سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ مولانا کراچی سے اپنے ساتھ ایک بہت بڑی تعداد اپنے حامیوں اپنے جاں نثاروں کولے کر نکلے تھے ان کے مخالفین کابھی اور غیرجانب دار حلقو ں کابھی خیال تھا کے اتنے طویل سفر میں کہیں ناکہیں کوئی بھی گڑبڑ ہوسکتی ہے  لیکن حیرت انگیز طور پر مولانا کاآزادی مارچ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گیا۔اتنے بڑے ہجوم کوکیسے قابو میں رکھا گیا حیرانگی کی بات ہے۔ راستہ بھر جگہ جگہ استقبال بھی پرجوش انداز میں کیاگیا سب سے اچھی بات یہ رہی کہ تمام نمازیں وقت پرباجماعت ادا کی گئی ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا  نہ ہی اس طرح کا طول طویل مارچ اس طرح سے کیاگیا ۔ اسلام آباد میں مقررہ مقام پر دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کا مجمع نظرآنے لگا اس کے باوجود کہ بقول مولانا صاحب پنجاب میں چھوٹے شہروں، گائوں، دیہاتوں سے آنے والوں کومقامی انتظامیہ نے روکاانہیں نکلنے نہیں دیا اس کے باوجود بہت بڑی تعداد مولاناکے حکم کی تعمیل میں پہنچ گی۔ آزادی مارچ نے میدان سجادیا ہے ناصرف سیاسی بساط بچھادی گی ہے بلکہ دودن کی مہلت کااعلان کرکے اپنے حصے کی چال بھی چل دی ہے۔ اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اپنے مہرے کس طرح لگاتی ہے اور کیسی چال چلتی ہے۔ 
حکمران وقت عمران خان نے اپناردعمل کسی وزیراعظم کسی سیاست دان کی طرح دینے کی بجائے ایک متکبر آمر کی طرح دیاہے۔ وزیراعظم مصلحت کی جگہ شایداپنی اقتدار کی قوت سے تصادم کے ذریعے معاملات نمٹانا چاہتے ہیں اسی وجہ سے وہ تہمت در تہمت کاانداز اپنارہے ہیں ۔ شاید ان کاخیال ہے کے ان کے مد مقابل سیاست دان نہیں چور اچکے، ڈاکوجمع ہوکر گیڈر بھپکیاں دے رہے ہیں۔  ان کاخیال ہے کہ وہ اپنی حکمرانی کی قوت سے مخالفین کوچوٹکیوں میں مسل کررکھ سکتے ہیں ان کے پاس اقتدار ہے، حکومت ہے، تمام سیکورٹی فورسز ان کے ماتحت ہیں جب حکم کریں گے تمام مخالفین کو کچل کرختم کردیں گے حالانکہ وہ جانتے ہیں کے جوپشت پناہ سیاسی قوتیں مولانا کی پشت پر ہیں وہ سب قومی اسمبلی میں اپنی سیاسی قوت بھی رکھتی ہیں وہ سب مل کر اپنی اسمبلی کی رکنیت کی قوت سے بھی کام لے سکتیں ہیں اگر عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کریں توبھی حکمران  انہیں اپنی حکمت عملی سے اپنی طاقت سے ناکام بناسکتے ہیں لیکن اگر تمام مخالف سیاسی جماعتوں نے یکجا ہوکراستعفے دینے کافیصلہ کیاتوحکومت کووقت پڑسکتا ہے۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں سیاسی جماعتیں ہیں ان میں ایک سے بڑھ کرایک سیاست دان موجود ہے جبکہ حکمران جماعت سیاست کی جگہ غصہ انتقام اور انااپنی اقتدار کی قوت سے کام نکانے پریقین رکھتی ہے۔ اب جب تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوچکی ہیں انہیں یک جا کرنے میں بھی حکومتی جماعت کابڑادخل ہے۔ حکمرانوں نے اپنے خلاف خود کئی محاذ کھول لے ہیں عوام کومشکل میں ڈال کر مہنگائی، بیروز گاری کرنے کے باوجود مسلسل مزید مہنگائی کی خبر دیتے رہنا  تمام سیاسی جماعتوں کوحکومت خود اپنے مدمقابل لائی ہے۔ اپنے آمرانا متکبرانا رویوں کے باعث ،اب جبکہ خطرے کی گھنٹی بجادی گئی ہے۔ دیکھناہے کہ آزادی مارچ کایہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس وقت دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی ہے کچھ ناکچھ ہوکر رہے گا۔سیاسی اجتماع کچھ ناکچھ کرکے ہی اٹھے گا۔  اللہ خیر کرے ان دو سیاسی ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان ملک وقوم کاہی ہوتا نظرآرہاہے فل وقت کوئی کسی سکیم نہیں، حکمران جماعت کے وزیر مشیر کی زبانیں مسلسل چل رہی ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زبان درازی سے مخالفین خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹ جائیں گے۔ اس بار ایسا محسوس ہورہاہے کہ مخالف سیاسی جماعتوں نے میدن میں اتر نے سے پہلے اپنی کشتیاں جلادی ہیں فیصلہ ہوکر رہے گا۔ آریاپار کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی بہت احتیات سے اپنے پتے کھیل  رہی ہیں۔ وہ کسی بھی مناسب پیشکش پراپنی کشتی کالنگر اٹھا کر رخ موڑ سکتے ہیں  اس کے باوجود اگر ایسا ہوبھی گیا تب بھی مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کردیا ہے ۔ 
ایک جم غفیر ان کے حمایتیوں کاجان نثاروں کاان کرساتھ آیاہے جو پیچھے ہٹنے کے لئے نہیں بلکہ مولانا کے حکم پر شہادت نوش کرنے کے جذبے کیساتھ میدان میں اترتے یں۔ مولانانے اپنی بھرپور سیاسی قوت وبصیرت کا اظہار کردیاہے خود کومنوالیا ہے۔ جولوگ کل  تک مولانا کو 12واں کھلاڑی کہتے تھے  ان کاخیال تھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے مولانا کو استعمال کرنے کیلے ان کی کمر ہاتھ رکھاہے چڑھ جا بیٹا سولی پررام بھلی کرے گا لیکن مولانا سیاسی میدان میں نووارد نہیں ہیں وہ ایک منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی ہیں یہی وجہ کہ تمام تجزیہ کارکہنے ہر مجبور ہوگئے ہیں مولانانے میدان مارلیاہے۔ اب جوبھی ہوگا جیسا بھی ہوگا اللہ کرے وہ ملک وقوم کے لئے بہتر ہو۔ ہاں یہ  بھی درست ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپناسیاسی کردار دائو پرلگادیاہے۔ یقینا مولانا نے بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھایاہے فتح ہویاشکست دونوں صورتوں میں کامیابی ان کامقدر ہے وہ اپنے اس عمل سے صف آخر سے صف اول میں پہنچ گئے ہیں اب ان کی سیاسی بصیرت وقوت ان کی انتظامی صلاحیت کاادراک مقتدر قوتوں کوبخوبی ہوگیا ہوگا  اب تک ناصر ف مقتدر قوتیں اور تمام سیاسی قوتیں بھی مولانا کو مذہنی پیشوا سمجھتی رہی ہیں اس لیے ان سے عقیدت واحترام کے رشتہ بنائے رکھتے ہیں۔ مولانا کا حلقہ ارادت پورے پاکستان میں پھیلاہواہے اس لئے ان کا منتشر ووٹ دوسری جماعتوں کے کام آتاہے۔ اپنے کثیر تعداد میں ووٹر ہوتے ہوئے بھی مولانا اپنے ہی ووٹر کے ووٹ سے محروم رہ جاتے ہیں وہ اپنی پوری اکثریت حاصل نہیں کرپاتے۔ اب دیکھناہے کہ میدان کون مارتاہے۔
 

تازہ ترین خبریں