07:08 am
  کشمیریوں کے دوست اور دشمن

  کشمیریوں کے دوست اور دشمن

07:08 am

برصغیر میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے اور ریاستی اداروں کے ذریعے پڑوسی ممالک میں سرحد پار دہشت گردی کا موجد
 برصغیر میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے اور ریاستی اداروں کے ذریعے پڑوسی ممالک میں سرحد پار دہشت گردی کا موجد بھارت دنیا بھر میں پاکستان کو آتنک واد ی دیش کا الزام دیتا پھر رہا ہے۔  بھارت نے پاکستان کو چاروں شانے چت کرنے کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر یلغار کر رکھی ہے۔ عیار ی و مکاری سے  بھرپور سفارت کاری ، سرحد پار دہشت گردی، افغانستان جیسے بغضی پڑوسی کی سرزمین سے مسلسل شرارت بازی ، میڈیا پر جنگی جنون پر مبنی پاک دشمن پروپیگنڈہ مہم ، ایل او سی پر عسکری جارحیت اور عالمی فورمز پر پاکستان کی معاشی بربادی کے لیے سازشیں گھڑ کر بھارت ہمہ وقت پاکستان کے وجود کو پارہ پارہ کرنے پر تُلا بیٹھا ہے۔ہم نے جواباً کیا کیا ہے؟ ہم سے مراد عوام نہیں بلکہ ہمارے منتخب جمہوری اور گاہے بگاہے مسلط ہونے والے غیر منتخب حکمران ہیں ؟ اگر اختصار سے کام لیا جائے تو ہمار ے حکمرانوں اور جملہ مذہبی و سیاسی  جماعتوں  نے دکھاوے اور خانہ پُری کے علاوہ کچھ نہیں کیا ؟
 وقت آگیا ہے کہ ہم جان لیں کہ  گھسے پٹے مذمتی بیانات ، ریلییوں ، جلسوں ، لمبے لمبے پرچموں اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنانے جیسے جذباتی اقدامات سے سادہ لوح پاکستانیوں کا لہو تو گرمایا جا سکتا ہے لیکن  مظلوم کشمیریوں کے مصائب کم نہیں کئے جا سکتے۔ بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے دیتے تہتر برس بیت گئے ۔ نہ تو منہ ٹوٹا ہے اور نہ ہی سازشی ذہن کی روش بدلی ہے۔  چلئے اقوام متحدہ میں متاثر کُن شعلہ بیانی پر  آپ سو میں سے سو نمبر کے حقدار ٹھہرے ۔پرچیوں کے بغیر فی البدیہہ خطاب کرنے پر آپ کو اضافی نمبر بھی دئیے جانے چاہئیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے محض خطاب ہی کافی نہیں بلکہ ایک جامع ریاستی حکمت عملی درکار ہے۔ کیا تماشا ہے کہ دنیا کو پاکستان کے ریاستی موقف سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی موثر ٹی وی چینل ہی دستیاب نہیں ۔ پی ٹی وی ورلڈ کے نام سے ایک تھکا ہارا چینل دستیاب ہے جس پر نشر کئے گئے پروگرام شائد  پی ٹی وی کے اہلکار اور اینکرز خود بھی نہیں دیکھتے۔ 
دوسری جانب بھارتی ٹی وی چینلز کی کثیر تعداد صبح و شام انگریزی زبان میں پاکستان کے لیے جھوٹ پر مبنی داستانیں نشر کرتے رہتے ہیں ۔ یہی روش بھارتی پرنٹ میڈیا نے بھی اپنائی ہوئی ہے۔ بھارتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کو یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات اور اندرونی معاملات کو ملکی سلامتی سے جڑے مسائل سے الگ رکھتے ہوئے اتفاق رائے پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے۔ اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ حزب اختلاف پہ بھی لازم ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے دی گئی مثبت دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے قومی  حکمت عملی مرتب کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔ بدقسمتی سے حکومت اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے نا اتفاقی اور انتشار کے بیج بونے پر مائل ہے ۔ حکومتی وزراء اور مشیر صبح و شام حزب اختلاف کے بارے کرپشن کی قوالی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے ماضی اور حال کے ذمہ دار وزیر و مشیر اس منفی مہم میں پیش پیش ہیں  ۔ حکومتی ترجمانوں اور مشیروں کی فوج نے جس احمقانہ انداز میں اپوزیشن کے خلاف زبانی گولہ باری کی ہے اُس کے نتیجے میں ایک جانب تو احتساب کے عمل کی شفافیت پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں اور دوسری جانب بھارتی یلغار کے مقابل اندرونی محاذ پر دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں ۔ 
حزب اختلاف  کی  دو بڑی  جماعتوں کے سر پر اپنی زیر حراست اور زیر تفتیش قیادت کو رہا کروانے کا بھوت اِس بُری طرح سوار ہے کہ اُنہیں ملکی سلامتی کا اور کوئی معاملہ اہم نہیں لگ رہا ہے۔ ایسے نازک وقت میں جبکہ کشمیری بدترین بھارتی کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں بعض عقل سے پیدل حضرات حکومت پر کشمیر کو فروخت کرنے کے سنگین الزامات لگا کر ایل او سی کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں میں مایوسی اور بد دلی پھیلا رہے ہیں ۔ اندرونی محاذ پر تیزی سے پھیلتا انتشار آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارتی یلغار اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے جامع حکمت عملی بنائے بغیر کوئی مثبت پیش رفت ممکن نہیں ۔ وزیر اعظم صاحب کئی مرتبہ فرما چکے ہیں کہ ایل او سی کے پار جا کر کشمیر میں لڑنے کی بات کرنے والے کشمیریوں کے دشمن ہیں ۔ اس نکتے کے حُسن و قبح پر بحث ہو سکتی ہے لیکن بہتر ہو گا کہ وہ وضاحت کے ساتھ مکمل بات کریں ۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کشمیر میں جاری تحریک حریت  کے حق میں خالی بیانات اور تقریریں داغ کر کوئی بھی  عملی اقدام نہ اُٹھانے والوں کو کشمیریوں کا دوست کہا جائے یا کہ منافق دشمن؟ بھارتی وزراء اور آرمی چیف جب آزاد کشمیر پر حملہ کرنے اور پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیں تو اُس  وقت مذمتی بیانات ہی کافی ہوں گے یا کوئی جوابی کارروائی بھی کی جائے گی؟ 
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شعلہ بیانی اور عالمی فورمز پر بھارتی جارحیت کی دہائی دینے سے جب مسئلہ اور بگڑتا جا رہا ہے تو  پھر متبادل حکمت عملی کیا ہے؟ کیا  بھارت جیسی متکبر اور سر کش ریاست محض زبانی بیانات یا اپیلوں سے متاثر ہو کر اپنی ظالمانہ روش بدل ڈالے گی ؟ کشمیر کے تناظر میں گاہے بگاہے جہاد کے متعلق بعض بزرجمہر اپنے خیالات کا اظہار فرما رہے ہیں ، بلاشبہ اسلامی ریاست میں پرائیویٹ جہاد کا تصور مناسب  نہیں لیکن   وزیر اعظم صاحب اور اُن کے مشیر اس پہلو پر بھی قوم کی راہنمائی فرمائیں  کہ  پاکستان جیسی  اسلامی ریاست میں بھارت کی شر پسندی سے نبٹنے اور مظلوم کشمیریوں کی جائز تحریک حریت کی اعانت کے لیے جہاد کب فرض ہوگا ؟ یہ جہاد کیسے کیا جائے گا ؟ 
بھارت اگر پاکستان پر فوجی حملہ کر دے تو اُس صورت میں حکومت کی جانب سے جہاد کے اعلان کا انتظار کرتے ہوئے محض مذمتوں اور اپیلوں پر انحصار کیا جائے گا یا جارح ملک کے خلاف جہاد کا آغاز خود بخود ہو جائے گا ؟   یہ  امر بھی  وضاحت  طلب  ہے کہ جب تک ریاست پاکستان جہاد کا اعلان نہیں کرتی اُس وقت تک مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیری کیا لائحہ عمل اختیار کریں؟ ان سب باتوں سے قطع نظر  یہ وضاحت بھی ضرور سامنے آنی چاہیے کہ حکومت پاکستان آخر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کیا سوچ کر بیٹھی ہوئی ہے؟
 

تازہ ترین خبریں