07:10 am
میں کچھ نہیں لکھ سکتا!

میں کچھ نہیں لکھ سکتا!

07:10 am

پاکستان کے حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ میں کچھ بھی لکھنے سے عاجز آ گیا ہوں۔ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں؟
پاکستان کے حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ میں کچھ بھی لکھنے سے عاجز آ گیا ہوں۔ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں؟ سوچ سمندر میں ڈوبتی تیرتی نائو کو تشبیہات اور استعاروں کے سہارے چلانابھی محال دِکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ماضی کی کہانیاں ذہن میں انتشار پیدا کر دیتی ہیں۔ آپ نے بھی بچپن میں علی بابا چالیس چور کی کہانی پڑھی ہو گی۔ علی بابا کے متعلق کتنی بار یہ خیال آیا کہ یہ اکتالیسواں چور کب سے بن گیا۔ کہانی میں تو وہ غریب لکڑ ہارا ہے۔ ہاں ایک دفعہ اس کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ جنگل میں اپنے کام پر گیا ہوا تھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ کچھ گھڑ سوار گھوڑے دوڑاتے نمودار ہوئے۔ ایک غار کے قریب آ کر رکے۔ آواز لگائی۔ کھل جا سم سم۔ دیکھا کہ وہاں ایک بڑا سا پھاٹک ہے۔ اس آواز کے ساتھ ہی پھاٹک کھلا اور وہ اندر چلے گئے۔ کتنی دیر بعد اندر سے وہی آواز۔ کھل جا سم سم۔ بس فورا ہی پھاٹک کھلا۔وہ گھڑ سوار نکلے اور یہ جا وہ جا۔ وہ حیران ہو کر دیکھتا رہا۔ ساتھ میں گنتا رہا کہ یہ کتنے ہیں۔ تعداد میں وہ چالیس تھے۔ سوچا کہ ہو نہ ہو یہ وہی چالیس چور ہیں جن کی شہرت اس نے سن رکھی تھی۔ اسے کیا سوجھی کہ اپنے گدھے وہیں درخت کے نیچے چھوڑ پھاٹک کے پاس جا کر چلایا کہ کھل جا سم سم۔ پھاٹک فورا ہی کھل گیا۔ اندر جا کر حق دق رہ گیا کہ یاں اتنی دولت بکھری پڑی ہے۔ اور کچھ تو بن نہ آیا۔ اپنی پگڑی اتار کر اس نے اس میں اشرفیاں اکٹھی کر کے باندھ لیں۔مفت ہاتھ آئی دولت چھپا نہیں کرتی۔ تو یہ دولت بھی چھپی نہیں رہی۔ بات نکل گئی اور چالیس چوروں کو بھی پتہ چل گیا کہ کسی بھیدی نے ہمارا بھید پا لیا ہے۔ وہ اس کی جان کے دشمن ہو گئے۔کہانی لمبی ہے۔ ہمارا مقصود تو صرف اتنا تھا کہ ہمارے یہاں جو قصے قضیے چل رہے ہیں ان میں الجھ کر علی بابا کسی صورت بدنام نہ ہو جائے۔ تو بس بتانا یہ تھا کہ علی بابا نے چالیس چوروں کے خزانے میں سے اشرفیوں کی ایک ڈھیری تو ضرور اٹھائی تھی۔ مگر چوروں میں شامل نہیں ہوا۔ رہا وہی علی بابا کا علی بابا۔ مطلب یہ کہ علی بابا ہمارے لینے میں نہ دینے میں۔ اشرفیاں کیا اس نے تو یہاں کے چوروں کی دولت سے ایک پائی بھی نہیں چرائی ہے۔ تو اس کو کیوں بدنام کیا جائے۔یقینایہ سماج اس کیفیت میں پہنچ چکا ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی موجودہ نظام میں ناقابل حل ہے۔ اگر اس کو حل کرنے کا کوئی نام نہاد ادھورا اقدام اٹھایا بھی جائے تو وہ پہلے سے زیادہ مسائل کوجنم دیتا ہے۔یہاں علی بابا او ر 40چو روں کی تمیز ختم ہو چکی ہے ۔عمومی طور پر ہماری سیاست میں یہ خوشنما نعرے، اصول ، قانون کی حکمرانی ، جمہوری روایات اور اخلاقی سیاست کی روایات کا عمل اب محض کتابوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کی جگہ طاقت کی سیاست نے حاصل کرلی ہے ، اور اس کی بنیاد جائز و ناجائز دونوں عوامل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست کے مسائل میں جمہوریت کا عمل بتدریج کمزور ہوکر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے ۔ایک زمانے میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی سیاست غالب تھی ۔ یہ وہ دور تھا جہاں علمی اور فکری مباحث اور سیاسی فکر کو بنیاد بنا کر سیاسی فریقین اپنی اپنی جدوجہد کر رہے تھے۔مزدور، طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں سمیت میڈیا کے محاذ پرکافی سرگرم سیاسی جدوجہد دکھائی دیتی تھی۔اس جدوجہد میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے محاذ پر سخت مصائب بھی برداشت کیے اور ان مصائب کی بنیاد پر ان کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ۔اہل دانش کی سطح پر بھی جو فکری مواد تقریروں ، تحریروں کی صورت میں سامنے آیا ، اس نے لوگوں میں فکر کی بنیاد پر تبدیلی کی جدوجہد کو آگے بھی بڑھایا۔لیکن اب یہ کام کافی حد تک کمزور ہوگیا ہے کیونکہ ہر طرف طاقت کا راج ہے ۔ او ر طاقت کا یہ طو فان ہمیں علی بابا او ر چالیس چورو ں میں فر ق کو بھی سمجھنے نہیں دیتا ۔وہ طبقہ جو کل تک سیاسی جدوجہد کو بنیاد بنا کر ایک منصفانہ نظام کی جدوجہد کا حصہ تھا، اب وہ طاقت کے حصول کی جنگ کو اپنی سیاست کا بنیادی نقطہ بنا کر ایک نئی فکر کی سیاست کو تقویت دے رہا ہے ۔یہ سب کچھ اس لیے بھی ہوا کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی کمزوری، قیادت کا کمزور فہم اور سیاست کو کاروبار کا ذریعہ سمجھنے کی حکمت نے پوری سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچایا۔سماج کو تبدیل کرنے میں ایک بڑی ذمے داری سیاسی جماعتوں اور سیاسی اشرافیہ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے لیکن یہ دونوں فریق اجتماعی طور پر کمزور ہوئے ہیں ۔ہماری سیاسی اشرافیہ میں بھی اسی طرز کی قیادتوں کا سیاسی جواز پیش کیا جاتا ہے ۔ جب ان کو دلیل دی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ غلط ہورہا ہے تو ان کی منطق ہوتی ہے کہ آپ لوگ خوابی دنیا کے باشندے ہیں اور حقائق سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بات بجا ہے کہ ہمارے حقائق تلخ ہیں ، لیکن ان تلخ حقائق کو ہمیں بدلنا ہے یا ان ہی خرابیوں کو اور زیادہ سیاسی جواز و طاقت فراہم کرکے ہمیں سیاست کو اور زیاد ہ آلودہ کرنا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستان کی روائتی اور طاقت کی سیاست کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑے ہوں ۔ علی بابا او ر چالیس چو رو ں میں فر ق کو نا صر ف واضح کر یںبلکہ اس عام آدمی تک بھی پہنچا ئیںلیکن یہ لڑائی کسی بندوق کے زور پر نہیں بلکہ ہمیں پرامن سیاسی جدوجہد اور منظم و فعال مزاحمت کے ساتھ اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا۔یہ کام آسان نہیں ، لیکن مشکل بھی نہیں ۔ کیونکہ جہاں جہاں سماج بدلتے ہیں اس میں بنیادی بات یہ ہی ہوتی ہے کہ لوگ جو طاقت کی سیاست کے نتیجے میں استحصال کا شکار ہوتے ہیں، وہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ اب ہمیں اپنے آپ کو بھی بدلنا ہے ۔اگرچہ تبدیلی کا عمل سیاسی جماعتوں اور قیادت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ، لیکن سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو بیدار کرنا اور ان کی روائتی سیاست کے سامنے دباو کی سیاست بڑھانا بھی ہماری ہی ذمے داری ہے ۔ اس لیے اگر ہم اپنی طاقت کو پہچانیں اور واقعی ایک ایسی سیاسی جدوجہد کا حصہ بنیں جو واقعی سماج کو بدلنا چاہتے ہیں تو اس کا فائدہ انفرادی سطح پر لوگوں کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو مہذب اور ذمے دار معاشرے میں تبدیل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں