07:34 am
بابا گورو نانک جی اور سکھ ازم نھضتہ العلماء اور پاکستانی علماء

بابا گورو نانک جی اور سکھ ازم نھضتہ العلماء اور پاکستانی علماء

07:34 am

ہمارا اسلام ایک ہے ۔ ہمارا قرآن پاک ایک ہے ہمارے نبی محمدﷺ ایک ہے۔ مگر ہر ملک کے علماء کی سوچ اور فکر کیوں ایک اور یکساںنہیں ہے؟ کرتارپور… جہاں بابا گورو نانک جی نے اپنی زندگی کے آخری20سال گزارے۔ جو سکھوں کا مقدس مقام ہے۔ حکومت پاکستان نے سکھ انسانوں کے مذہبی احساسات کے احترام کے طور پر اور مسلمانوں کی طرف سے سکھ قوم و تہذیب و تمدن کے ساتھ اظہار محبت، رواداری، تحمل، برداشت کے طور پر کرتارپور گردوراہ بابا نانک جی کو عام سکھوں کی آمدورفت کے لئے کھول دیاہے۔
انشاء اللہ عنقریب اس کا افتتاح بھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کرنے والے ہیں سابق بھارتی سکھ وزیراعظم من موہن سنگھ اس تقریب میں ایک سکھ یاتری کے طور پر مدعو ہیں۔ یہ عمل کتنا خوبصورت، امن و سلامتی اور انسانی محبت کا راستہ اور پیغام ہے؟ بابا گورو نانک جی تلونڈی ضلع شیخوپورہ کے گائوں میں پیدا ہوئے، ننکانہ صاحب سے ان کی خاص نسبت ہے۔ وہ مسلمانوں سے محبت کرتے تھے۔ وہ مذہبی طور پر انسان کو چار ذاتوں اور طبقوں میں تقسیم کرتے ہندو ازم سے الگ ہوکر تلاش حق میں مصروف رہے۔ وہ قرآنی تعلیمات سے خود کو فیض یاب کرتے رہے تھے۔ بابا فرید الدین اور باباگنج شکر کی تعلیمات ان کی سکھ تعلیمات کاحصہ بنیں۔ شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر وہ توحید کے راستے کے راہی بنے تھے۔ کیا ایسے موحد بابا گورونانک سے نفرت کی جاسکتی ہے؟ کیا ایسے بابا گورو نانک کو مذہبی گورو اور رہنما و قائد ماننے والوں سے دشمنی کا راستہ اپنایا جاسکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ تقسیم برصغیر میں سکھوں نے مسلمان دشمنی کا ثبوت دیا تھا اور یہ ماسٹر تارا سنگھ کی بے عقلی کے سبب اور ہندتوا فلسفہ کے انتہا پسندوں کی سازش کے سبب ہوا تھا اگر سکھ مدبر ہوتے اور مستقبل بین بھی ہوتے تو ان کا پنجاب ایک رہ سکتا تھا۔ مگر قائداعظم کی بات نہ مان کر ، نہرو اور سردار پٹیل کی باتیں مان کر روہ ہندو دھوکے سے دوچار ہوئے تھے اور خسارے میں چلے گئے جونہی پنجاب تقسیم ہوا تو سکھوں کا مشرقی پنجاب بھی نہرو نے جنڈی گڑھ، ہریانہ اور پنجاب میں تقسیم کرکے ریزہ ریزہ کر دیاتھا۔
سکھوں کے گولڈن ٹمپل پر ا ندرا گاندھی نے حملہ کیا اور سکھوں کے مقدس مقام کو تباہ کر دیا تھا۔ گولڈن ٹمپل کی بنیاد جب اٹھائی گئی تو لاہور سے صوفی مزاج کے میاں میر کو خاص طور پر امرتسر بلوا کر ان سے سنگ بنیاد رکھوایا گیا تھا۔ کیا گولڈن ٹمپل کی مسلمان صوفی میاں میر کے ہاتھوں بنیاد استوار کیا جانا مسلمان سکھ تہذیب میں توحیدی تعلق اور اشترک کی علامت نہیں ہے؟ سماجی و معاشرتی تعلق کا راستہ نہیں ہے؟ تو پھر ہمارے کچھ علمائے کرام نے جن کا سیاسی تعلق جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہے کرتارپور گورداورہ کے راستے سکھوں کی پاکستان آمد پر بار بار اعتراض کیا ہے؟ کیا ہمیں اس عمل کو نبویؐ عمل کی روشنی میں دیکھنے کی توفیق ہے کہ یہودی اور مسیحی علمائے کرام جب آپؐ سے ملاقات کے لئے آتے تو مسجد نبویؐ میں ان کی آمد، قیام و طعام کو اپنایا جاتا تھا۔ کیا یہ اخلاق نبویؐ ہمارے لئے مینارہ نور نہیں ہے؟ اس نبویؐ عمل کی روشنی میں اگر کرتارپور گوردوارہ کو سکھوں کے لئے کھولا جارہاہے تو ہمیں کیوں اعتراض کا حق حاصل ہوگیا ہے؟ مفتی کفایت اللہ نے 2 نومبر کو نجی ٹی وی پر جمعیت علمائے اسلام کا تعلق جمعیت علمائے ہند کی بجائے مولانا شبیر احمد عثمانی کے ساتھ بتا کر تاریخ کی درستگی کر دی ہے۔ میں مفتی کفایت اللہ کے اس موقف کی تائید کرتا ہوں کہ جمعیت العلمائے ہند پاکستانی علماء کی نہ نمائندہ تھی نہ موجودہ جمعیت العلمائے اسلام کا مولانا حسین احمد مدنی سے کوئی تعلق ہے۔ اگر کوئی ایسا تعلق قائم کرتا ہے تو وہ عملاً مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع کی قائم کردہ جمعیت العلمائے اسلام کو غلط طورپر استعمال کرتا ہے۔ مفتی کفایت اللہ کا دوبارہ شکریہ کہ انہوں نے کچھ دیوبندی علماء کے جمعیت العلمائے ہند سے تعلق کو اپنے قول سے غلط ثابت کیا ہے۔ 
انڈونیشیا میں فقہہ حنبلی اور شافعی عوامی طور پر مقبول ہے۔ وہاں نھضتہ العلماء علماء کرام کی سیاسی پارٹی ہے جس طرح ہمارے ہاں جمعیت العلمائے اسلام اور جمعیت العلماء پاکستان اور جماعت اسلامی ہے۔ نھضتہ العلماء کے ایک مولانا انڈونیشیا کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں نھضتہ العماء کے ایک وفد نے الشیخ یحییٰ کی قیادت میں روم جاکر سینٹ پیٹر اسکوائر میں مسیحی پوپ فرانسس سے ملاقات اور بات چیت کی ہے۔ پوپ فرانسس کو الشیخ یحییٰ نے نھضتہ العلماء کے تیار کردہ اسلامی لٹریچر کا تحفہ دیا ہے۔ نھضتہ العلماء کا موقف ہے کہ اسلام انسانی دین ہے لہٰذا اس کو انسانیت میں محبت و رواداری، تحمل و برداشت کے فروغ کا عمل کہا جانا چاہیے۔ نعضتہ العلماء کا موقف ہے کہ وہ انسان جو اسلام کو قبول نہیں کرتے بلکہ کسی دوسرے دین، مذہب کو قبول کرتے ہیں یا جو ملحد ہیں یا کمیونسٹ ہیں انہیں کافر نہیں کہنا چاہیے بلکہ انہیں غیر مسلم کہنا چاہیے۔ نھضتہ العلماء انڈونیشیا سے اٹھنے والی وہ آواز ہے جس کی پذیرائی ہونی چاہیے تاکہ تمام تہذیبوں میں دوستی ، محبت، برداشت ، تحمل کو فروغ حاصل ہو۔ کیا کرتارپور گوردوارہ کو سکھوں کے لئے عام زیارت گاہ کے طور پر تیار کرنا حکومت پاکستان کی طرف سے ننھضتہ العلماء کے موقف کی روشنی میں انسانی خدمت نہیں ہے؟ جی بالکل اسلام اور مسلموں کی خدمت بھی اور سکھ مسلمان انسانی محبت و تعلق کا قیام بھی ۔ اگر ہم نفرت کے ساتھ دوسروں کو کافر کافر کہنا ازخود چھوڑ دیں گے تو شائد ایک فرقے کی طرف سے دوسرے فرقے کے مسلمان کو کافر کہنے کا عمل بھی ختم ہو جائے گا۔
 

تازہ ترین خبریں