07:36 am
انمول ہیرا

انمول ہیرا

07:36 am

(گزشتہ سے پیوستہ)    
رات کوسونے سے پہلے میں یہ ضرور دعاکرتا ہوں!یااللہ!دن میں نے پورازورلگاکرتیری مرضی کے مطابق گزاردیا،اب میں سونے لگاہوں،رات کی شفٹ اب توسنبھال،بڑی مہربانی ہوگی۔جب ہم ایساکچھ کرتے ہیں توہمارااندربتاتاہے کہ یہ توگناہ ہے، توہم اپنی عزتِ نفس سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔پھراپنے ساتھ رہنابھی مشکل ہوجاتاہے پھرہم ندامت کامقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔زندگی مشکل ہوجاتی ہے،ضمیر ہروقت ملامت کرتارہتاہے۔اب ہم یاتواس کوبھول جائیں،یااسے دماغ سے نکال دیں لیکن یہ دونوں کام ہی مشکل ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ایک فعلِ ندامت،پشیمانی اورتوبہ ہے۔جب ہم اپنے کریم رب کے سامنے اپنی تمام بے بسی ، ندامت کے احساس کے ساتھ سجدے میں گرکرتوبہ کی درخواست اپنے آنسوئوں کی تحریرکی شکل میں۔
اس کی عدالت میں اس کی رحمت کی استدعا کرتے ہیں،تونہ صرف توبہ قبول ہوجاتی ہے بلکہ اگراس مناجات میں اخلاص بھی ہوتوہم بھی قبول ہوجاتے ہیں۔پھرزندگی آسان ہوجاتی ہے۔بابااقبال نے تواپنی منظوم زندگی کاآغازہی اس پہلے شعرسے کیاتھا:
موتی سمجھ کرشانِ کریمی نے چن لئے 
قطرے جوتھے مرے عرقِ انفعال کے
دوستی کیاہے؟اگرمیں تمہارادوست ہوں اورتم میرے دوست ہو،تویہ ہمارے لئے ایک بڑااعزازہے کہ ہم نے دنیاکے بڑے بڑے مشہور،لائق فائق اعلی درجے کے لوگوں کوچھوڑ کرایک دوسرے کو پسندکیا۔ کیا پاکیزہ رشتہ باندھا،واہ واہ۔دوستی کارشتہ عمربھر چلتا ہے۔ جوان ہوئے توشادی ہوگئی۔بہن بھائی، عزیز رشتہ دار،گھر،محلہ،شہرچھوٹ گیا۔بوڑھے ہوئے تواولاد چھوڑگئی،لیکن دوستی میں یہ تبدیلی نہیں آئی،دوستی کارشتہ بے لوث ہوتاہے،یایوں کہئے کہ یہ روحانی ہوتاہے۔ دیگررشتوں میں توکچھ جسمانی ضرورتوں کوپوراکرنا پڑتا ہے ،مگردوستی میں صرف روح کی ضرورتوں کوپوراکرنے کاتقاضا ہوتاہے۔روحیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آغوش ہوجاتی ہیں اورجسمانی تقاضا ایک بھی نہیں ہوتا۔والدین بچپن میں ملتے اورپھرساتھ رہتے ہیں۔ پھروہ ہمیں یاپھرہم ان کوچھوڑدیتے ہیں۔بیوی یاشوہرجوانی کی عمرمیں ملتے ہیں۔بچے شادی کے بعدکی عمرمیں نصیب ہوتے ہیں۔اسی طرح بہن بھائی بھی ہوتے ہیں مگروقت کے ساتھ ساتھ ہرکوئی اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ میں مگن ہوجاتا ہےلیکن دوستی کیلئے عمرکی کوئی قیدنہیں۔آپ 8کے ہوں یا80 کے،9کے ہوں یا90 کے، 16کے ہوں یا60کے، آپ میں اگر اخلاص ہے اوراگرآپ دوستی کامطلب جان گئے ہیں توپھرآپ کسی بھی عمرمیں دوستی کرسکتے ہیں،دوست بن سکتے ہیں۔ایمان کیاہے؟ایک اختیارہی توہے۔ ایک ’’چوائس‘‘ہی توہے۔کوئی مباحثہ یامکالمہ نہیں،یہ ایک فیصلہ ہے، قطعاًمباحثہ نہیں ہے۔ایک کمٹمنٹ ہے،کوئی زبردستی نہیں ہے۔یہ ہمارے دل کے خزانوں کوبھرتاہے اورہماری ذات کومالامال کرتارہتاہے،بالکل ایک پرخلوص دوست کی طرح ۔ پھردوستوں میں تحائف کے تبادلے بھی ہوتے ہیں۔یادیں ایک بہترین اور خوبصورت تحفوں کی طرح ہردم آپ کو گھیرے رکھتی ہیں،اوروہ تحفہ جس میں کچھ قربانی شامل ہوجائے ، وہ تحفہ جس نے آپ کوجینے کاڈھنگ سکھایاہو،جس نے آپ کوسراٹھاکرچلنے کافخر عطاکیاہو،وہ تحفہ توپھرسرمایہ حیات بن جاتاہے۔ پھرایسے تحفے کی حفاظت کیلئے ایک جان توبہت کم محسوس ہوتی ہے۔اگررب کریم دوست ہیں توپاکستان اس رحیم دوست کاسب سے بڑا قیمتی اور نایاب تحفہ ہے۔ایک ایساانمول ہیرا ہے جس نے آپ کے سرپررکھے ایمانی تاج کوباقی دنیاسے ممتاز کر رکھا ہے۔ کہیں ایساتونہیں کہ آج کسی کمہارکے ہاتھ لگ گیاہو اوروہ اس کی قدرنہ پہنچانتے ہوئے اس کواپنے گدھے کے گلے کی زینت بنادے؟ جلدی کریں، وقت بہت کم ہے۔اپنے دوست کے تحفے کی قدرنہ کی توپھردوستی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اجازت دیں۔میں تومنادی کرنے آیاتھا۔ ملتے رہیں گے جب تک سانس کی ڈوربندھی ہوئی ہے۔ کچھ بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گامیرے رب کاجو الحی القیوم ہے۔ 
یہ بازی عشق کی بازی ہے،جوچاہولگادوڈرکیسا
گرجیت گئے توکیاکہنا،ہارے بھی توبازی مات نہیں

تازہ ترین خبریں