07:37 am
اللہ پاکستان کی خیر ہو

اللہ پاکستان کی خیر ہو

07:37 am

کوئی راضی رہے یا ناراض ہو‘ لیکن یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں نکلنے والے آزادی مارچ نے 2014ء کے عمران خانی دھرنے پر ہر لحاظ سے اخلاقی برتری حاصل کرکے یہ بات عملاً ثابت کر دی ہے کہ داڑھیوں‘ ٹوپیوں اور بھاری پگڑیوں والے مذہب پسند نہ تشدد پسند ہیں اور نہ ہی دہشت گرد۔
2014ء میں جب عمران خان لاہور سے دھرنا دینے کے لئے نکلے تھے تو پہلے گوجرانوالہ اور پھر جہلم میں مارا ماری ہوئی تھی‘ سڑکیں بھی بند کی گئی تھیں اور گاڑیوں پر پتھرائو بھی ہوا تھا‘ اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد آبپارہ چوک بھی بند کیا گیا‘ پی ٹی وی پر حملہ‘ پارلیمنٹ پر یلغار‘ سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندے کپڑے لٹکانا‘ خان کی قیادت میں آبپارہ تھانے پر ہلہ بول کر زبردستی گرفتار کارکنوں کو چھڑانا‘ ایک حاضر سروس پولیس آفیسر کو ڈنڈوں‘ مکوں اور تھپڑوں سے مار مار کر زخمی کر دینا‘126دنوں کے اس دھرنے میں متعدد دیگر پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے‘ پولیس اور دھرنا والوں کے درمیان ہونے والی مڈبھیڑ اس کے سوا ہے۔ 27اکتوبر2019ء کو کراچی سے شروع ہونے والے آزادی مارچ پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں‘ مولانا کی زیر قیادت شروع ہونے والا یہ مارچ حیدر آباد‘ سکھر‘ رحیم یار خان‘ بہارلپور‘ ملتان‘ ساہیوال‘ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ جہلم‘ راولپنڈی سے ہوتا ہوا 31اکتوبر کی رات گئے اسلام آباد میں داخل ہوا اور اب تک اسلام آباد ہی میں موجود ہے‘ غیر جانبدار تمام مبصرین اور تجزیہ نگار یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ مولانا کے آزادی مارچ میں 2014ء میں دئیے جانے والے عمران خانی دھرنے سے کئی گناہ بڑھ کر عوام شریک ہیں‘ ملکی اور غیر ملکی میڈیا یہ بھی تسلیم کر رہا ہے کہ عمران خانی دھرنے میں عورتیں اور شیر خوار بچے بھی شریک تھے‘ جبکہ مولانا کے آزادی مارچ میں بچے اور عورتیں شریک نہیں ہیں‘ جس آزادی مارچ کے حوالے سے وفاقی وزراء یہ افواہیں پھیلاتے رہے کہ اس میں شدت پسند شریک ہیں‘ اس آزادی مارچ کے ہزاروں شرکاء کی موجودگی کے دوران لاہور میں میٹرو بس کا پہیہ بھی چلتا رہا‘ شرکاء آزادی نے ایمولینسوں کو راستہ بھی دیا اور کراچی سے راولپنڈی تک تقریباً15سو کلو میٹر کے سفر کے دوران نہ کسی گاڑی پر پتھرائو کیا گیا‘ نہ کسی دوکان کو زبردستی بند کروایا گیا‘ نہ مخالفین کے دفاتر پر حملے کئے گئے‘ بلکہ مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت نکلنے والے اس آزادی مارچ میں شریک قائدین اور شرکاء نے نہ صرف نمازوں کی پابندی کی بلکہ تلاوت قرآن پاک اور ذکر اذکار کے اعمال بھی جاری رکھے۔
ملکی اور غیر ملکی میڈیا یہ بات بھی کہنے پر مجبور ہوا کہ یکم نومبر2019ء جمعتہ المبارک کے دن آزادی مارچ کے لاکھوں شرکاء نے پنڈال میں نماز جمعہ ادا کیا اور جمعتہ المبارک کا یہ اجتماع اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا‘ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس حکومت نے خود بند کی‘ پنڈال کے شرکاء سے جب میری اس حوالے سے گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف میٹرو بس چلے بلکہ راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکیں بھی کھلی رہیں اور سکولز اور کالجز بھی‘ تاکہ دنیا والوں کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان میں رہنے والے مذہب پسند انتہائی پرامن لوگ ہیں‘ مختلف چینلز سے وابستہ لبرل خواتین اینکرز آزادی مارچ والوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوئیں کہ آزادی مارچ میں شامل نوجوانوں نے انہیں بہنوں والا احترام دیا اور انصار الاسلام کے رضا کاروں نے انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی۔
حکومتی وزراء اور ان کے حامی یہ کہہ رہے ہیں کہ آزادی مارچ میں بلوچستان اور کے پی کے کے دور دراز علاقوں کے لوگ شامل ہیں‘ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان اور کے پی کے پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ اگر حصہ ہے تو پھر ان کی باتوں پر توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے‘ جتنا کہ پنجاب والوں کی باتوں پر توجہ دی جاتی ہے۔
یہاں تک تو آزادی مارچ کا وہ زاویہ ہے کہ جس پر اپنے پرائے سب ہی متاثر نظر آتے ہیں‘ اس آزادی مارچ کا سب سے بڑا حسن یہ بھی ہے کہ اس مارچ میں صوبہ سندھ اور کے پی کے کی متعدد خانقاہوں کے ولی صفت علماء بھی اپنے ہزاروں مریدوں کے ساتھ بنفس نفیس شریک ہیں‘ حکومتی وزراء اور ان کے حامی میڈیا کا یہ بھی الزام تھا کہ آزادی مارچ میں مدرسوں کے بچے شریک ہوں گے‘ لیکن اب ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس مارچ میں مدارس کے طلباء نہ ہونے کے برابر اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن سب سے زیادہ شریک ہیں۔ میں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اتحاد تنظیمات کے قائدین سے جب اس حوالے سے بات چیت کی تو ان کا جواب تھا کہ اتحاد تنظیمات اور وفاق المدارس نے آزادی مارچ میں شرکت کے لئے طلباء یا اساتذہ کو چھٹی نہیں دی بلکہ آزادی مارچ کے دنوں میں پاکستان کے تمام مدارس میں طلباء کی حاضری پوری ہے۔
اب آتے ہیں آزادی مارچ کے دوسرے اینگل کی طرف آزادی مارچ کے اسٹیج سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین حکومت سے کئی مطالبات کر رہے ہیں جس میں سرفہرست وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی ہے‘ مولانا فضل الرحمن کے خطاب کے بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان کا ایک وضاحتی بیان بھی سامنے آیا ہے‘ یہ خاکسار پہلے سے طے شدہ پروگرام کے سلسلے میں ’’موڑکہو نوگرام اپر چترال میں ہوں‘ یہاں چونکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی سہولیات بالکل بھی نہیں ہیں‘ اس لئے مجھے حکومت اور مولانا کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ ترین صورتحال کا علم نہیں ہے‘ لیکن یہاں کے علماء معززین اور مشران سمیت میری یہ خواہش ہے کہ جس طرح کراچی سے لے کر راولپنڈی تک آزادی مارچ پرامن رہا‘ اللہ کرے کہ اسلام آباد میں بھی آخر تک یہ مارچ پرامن رہے‘ حکومت‘ اپوزیشن بالخصوص عمران خان ‘ مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیاسی معاملات مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل ہو جائیں‘ اس لئے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں‘ پاکستان ہے تو عمران حکومت بھی ہے اور سیاسی جماعتیں بھی‘ اس لئے یہاں کسی بھی قسم کا خون‘ خرابہ‘ جلائو گھیرائو یا قتل و قتال ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا سبب ہی بنے گا۔
 

تازہ ترین خبریں