07:38 am
یہ صحیح طریقہ نہیں ہے

یہ صحیح طریقہ نہیں ہے

07:38 am

اس بات میں تو اب کوئی شک نہیں رہا کہ عمران مغرور اور منتقم مزاج شخص ہے۔ اس کے پاس سوائے ایک صلاحیت کے اور کوئی صفت نہیں ہے جس کی بناء پر اسے ملک کی وزارت اعظمیٰ پر برقرار رکھا جاسکے اور وہ صلاحیت ہے نوجوانوں میں اس کی مقبولیت۔ اپنی تمام ناکامیوں کے باوجود وہ آج بھی ہماری آبادی کے ایک اچھے خاصے حصے میں بہت مقبول ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ عمران خان کے شیدائی زیادہ تر ناسمجھ لوگ ہیں جنہیں لیڈر کو پرکھنے کا گر نہیں آتا۔ مگر آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ بہت سے ناسمجھ لوگ مل کر سمجھداروں کی چٹنی بنا سکتے ہیں۔
عمران خان کی پندرہ ماہ کی حکومت غلط فیصلوں اور انتقامی کارروائیوں کی ایک لمبی داستان ہے مگر پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ دھرنے کے زور پر اس سے استعفیٰ لینا صحیح طریقہ کار نہیں ہے۔ اگر وہ آج چلا بھی جائے اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ذرا اس طرح سے عمران کی رخصتی کے ممکنہ نتائج پر نظر ڈالیں تو یہ صاف نظر آئے گا کہ یہ راستہ کسی طرح بھی پاکستان کو ایک شاندار مستقبل کی طرف نہیں لے جائے گا۔
پہلی بات! چاہے آپ اسے عمران خان کی عاقبت نا اندیشی کہہ لیں مگر اس وقت ملک میں بری طرح پھوٹ پڑ چکی ہے ۔ ہم بری طرح بٹ چکے ہیں۔ اس وقت عمران سے استعفیٰ لینا اس تقسیم کو مزید گہرا کرے گا۔ وقت کا تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ یہ تقسیم اور گہری ہو۔
دوسری بات‘ عمران کے حامیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ اگر آج وہ چلا بھی جائے تو چند ماہ بعد وہ بھی لائو لشکر لے کر اسلام آباد میں اپنا احتجاج کرنے کا حق استعمال کرتے پہنچ جائے گا۔ پھر کیا ہوگا۔ اگر پھر ایک استعفیٰ آیا تو پھر کیا ہوگا۔ چند ماہ بعد اسلام آباد پر ایک اور چڑھائی؟ کیا یہ طریقہ کار ہمارے مسائل کا حل ہوسکتا ہے؟
تیسری بات‘ اگر عمران خان کے استعفیٰ کے بعد ان ہائوس تبدیلی آتی ہے تو کیا نئی حکومت ایک مضبوط حکومت ہوگی؟ بالکل نہیں ۔ اس وقت قومی اسمبلی کی جو ہیئت ہے اس میں ایک مضبوط حکومت بن ہی نہیں سکتی اور اگر نئی حکومت کمزور ہوگی تو وہ موجودہ حالات میں کیا تیر مارے گی۔ مہنگائی اور بے روزگاری کو فوراً ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد عوام نئی حکومت سے بھی بیزار ہو جائیں گے اور احتجاجوں اور جلوسوں کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
چوتھی بات‘ عمران کے استعفیٰ کو لوگ ایک مقتدر ادارے کی شکست سے تعبیر کریں گے۔ یہ تاثر ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ اگر ملک میں ایک بھی ادارہ ایسا نہ رہا جس پر عوام بھروسہ رکھتے ہوں تو یہ اچھی بات نہیں ہوگی۔ اگر ہم یاد کریں تو ماضی میں سیاسی جماعتیں خود یہ تقاضا کرتی رہی ہیں کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔ اب اگر ہم نے وقتی سہولت کی خاطر فوج پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو مستقبل میں ہمیں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پانچویں بات‘ اگر عمران کے ساتھ یہ اسمبلیاں بھی رخصت ہوتی ہیں اور نئے انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو یہ انتخابات ہماری تاریخ کے بدترین انتخابات ثابت ہوسکتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے حامی جنہیں ہم پہلے ہی ناسمجھ قرار دے چکے ہیں وہ آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔ دوسری طرف دھرنے کی ’’کامیابی‘‘ کے بعد مولانا کے حوصلے مزید بلند ہو جائیں گے۔ ن لیگ بھی شیر ہو جائے گی اس سے خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں فوج کو بھی دیوار سے لگا دیا جائے تو حالات کو کون کنٹرول کرے گا۔ ملک انارکی کی طرف جانکلے گا۔ فوری طور پر نئے انتخابات مسائل کو حل نہیں کریں گے بلکہ مزید مسائل پیدا کریں گے۔
اب سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے۔ مولانا کو سمجھانا مشکل ہے اور عمران خان میں عقل ہی نہیں ہے کہ وہ صحیح فیصلہ کر سکے۔ اگر عمران خان میں تھوڑی سی بھی فراست ہوتی تو صورتحال اس موڑ تک آہی نہ پاتی۔ اس نے اپنی کارروائیوں سے ملک کی عوام کے ایک بہت بڑے حصے کو خود سے متنفر کرلیا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی‘ بے روزگاری عروج پر ہے اور معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچا دی گئی ہے‘حکومتی امور پر عبور ہے اور نہ ہی اتنی سمجھ کہ ملک کے مسائل حل کر سکے۔ اگر ملک کے سمجھدار لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عمران خان کو مزید وقت دینا ملک کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہوگا تو زیادہ غلط نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پچھلے دو سالوں میں عوام کی نظر میں فوج کی توقیر میں جو کمی ہوئی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان ہی ہے۔
اب میں دوبارہ اپنے سوال کی طرف آتا ہوں کہ کیا کیا جائے۔ میری تجویز ہے کہ فوج اعلان کرے کہ وہ غیر جانبدار رہے گی اور یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کرے کہ وہ عمران کو حکومت میں رکھنے پر مصر ہیں۔ مولانا کو گرجنے چمکنے کے بعد اسلام آباد سے واپس بھیج دیا جائے جیسا کہ عمران اور قادری صاحب کے ساتھ 2014ء میں کیا گیا تھا۔ پھر ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ عمران خان اور ان کے وزراء کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ وہ زہر اگلنا بند کردیں۔ کل جماعتی کانفرنس چند فوری نوعیت کے فیصلے کرے۔ فردوس عاشق اعوان‘ شیخ رشید‘ فیصل واوڈا‘ شہریار آفریدی اور اس قبیل کے وزراء کو فارغ کیا جائے۔ صدارتی آرڈینینسوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ عمران اپنی چند فاش غلطیوں کا عوامی اعتراف کریں اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ کریں۔ حکومتی معاشی ٹیم کی ناکامی ظاہر ہوچکی ہے۔ کم از کم ڈاکٹر حفیظ شیخ سے جان چھڑائی جائے۔ پارلیمان کی کمیٹیوں کو متحرک کیا جائے اور حکومتی فیصلوں میں اپوزیشن کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ احتساب کے نام پر کئے جانے والے انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے۔ محض الزام کی بنیاد پر پکڑدھکڑ بند کی جائے۔ اس وقت ملک کی سول سروس کا مورال بری طرح گرا ہوا ہے اسے بحال کیا جائے۔ عدالتی فیصلوں میں مداخلت بند کی جائے۔ نیب چیئرمین کو برطرف کرکے نیب کو اپنی حد میں رہ کر کام کرنے کا کہا جائے۔ تاجروں اور صنعتکاروں پر ہاتھ ہولا رکھا جائے۔ ان کے جائز مطالبات منظور کئے جائیں۔ الغرض ماحول کو ٹھنڈا کیا جائے اور جب ماحول سازگار ہو جائے تو پھر نئے انتخابات کئے جائیں تاکہ لوگ غصے کی حالت میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر نئی حکومت منتخب کریں اور ہاں انتخابی عمل میں فوج یا کوئی اور ادارہ بالکل مداخلت نہ کرے۔
اس وقت کسی فوری حل کی گنجائش نہیں ہے۔ دھرنوں کو حکومت تبدیل کرنے کا ذریعہ بنانا نہ تو جمہوری طریقہ ہے اور نہ ہی یہ دیرپا حل ہے۔ ایک مضبوط اور قابل عمل حل تلاش کرنے لئے سب کو عموماً اور عمران خان کو خصوصاً اپنی انا کو قربان کرنا ہوگا۔ سب مل کر بیٹھیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔
ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایک پانچ رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جس میں دو رکن حکومت نامزد کرے اور تین رکن اپوزیشن کے نامزد کردہ ہوں۔ یہ کمیشن 2018ء کے انتخابات کی تحقیقات کرے۔ جس جس کو ان انتخابات کے بارے میں شکایات ہوں یا معلومات ہوں وہ کمیشن کو مہیا کرے۔ یہ کمیشن 30دن میں اپنا کام مکمل کرکے اپنی رپورٹ دے اگر یہ رپورٹ کنفرم ہوتی ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں اتنی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں کہ انتخابات قابل اعتماد نہیں رہے تو پھر فوری طور پر حکومت مستعفی ہو جائے اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ انہی 30دنوں میں حکومت اور اپوزیشن عبوری وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ اور وزیراعلیٰ کے ناموں پر بھی اتفاق کرلیں۔ اس طرح سب کی عزت رہ جائے گی۔ 


 

تازہ ترین خبریں