08:52 am
کیا حکومت کو دھرنوں سے ہٹایا جا سکتا ہے ؟

کیا حکومت کو دھرنوں سے ہٹایا جا سکتا ہے ؟

08:52 am

مولانافضل الرحمٰن کو جن بیرونی و اندرونی قوتوں نے دھرنے دینے کے لئے اکسایا تھا شاید ان کو اس بات کاادراک نہیں تھا کہ حکومت کو چیلنج کرنے کے لئے کون سے ٹھوس نکات تھے ؟صرف عمران خان سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں تھا اور نہ ہی عمران خان ان کے مطالبے کے پیش نظر استعفیٰ دیتے کیونکہ وہ پاپولر ووٹوں کے ذریعے اقتدارمیں آئے ہیں یہ دوسری بات ہے کہ انہیں ابھی حکومت چلانے کا گہرا تجربہ نہیں ہے
بلکہ وہ آہستہ آہستہ حالات کے پیش نظر سیکھتے جا رہے ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں جمہوریت کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس وقت کوئی آئینی بحران درپیش ہے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ فضل الرحمن کیونکر لاہ و لشکر لے کر اسلام آباد کو" فتح" کرنے چلے تھے ۔پاکستان کے باشعو ر افراد اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ مولانا صاحب کسی اور کا کھیل کھیل رہے تھے جس میں انہیںبری طرح ناکامی ہوئی ہے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی بادل نخواستہ اس آزادی مارچ میں شامل ہوئی تھیں لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہو گیا کہ فضل الرحمن قومی سطح پر ان کے قائد بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس صورت میں ان دونوں جماعتوں کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ جائے گی چنانچہ انہیں نے فوراً ہی دھرنے میں بیٹھنے سے معذرت کر لی اور اس طرح انہوں نے اپنا علیحدہ سیاسی تشخص برقرار رکھا ہے ۔ فضل رحمان کو چاہئے تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے چلے جائیں جن پر گزشتہ تین ماہ سے بھارت کی ظالم فوج اور انتظامیہ بربریت اور درندگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن وہ مودی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کیونکہ بھارت کی سیاسی قیادت کے ساتھ ان کے بزرگوں کے دیرینہ تعلقات تھے ۔ مزید براں جس طرح بھارت نے 31اکتوبر کی رات کو مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور اسے بھارت کا حصہ بنا لیا ہے مولانا صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنے لشکر کو لے کر نئی دہلی جائیں اور وہاں کی حکومت کو چیلنج کریں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ان کی آزادی مارچ کی پالیسی تقریباً وہی ہے جو نواز شریف نے استعمال کی تھی یعنی اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیکن نواز شریف کا ماضی یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ مل کر ایک طویل عرصے اقتدار کا مزا لوٹا اور جب کسی وجہ سے عسکری قیادت کے ساتھ ان کی ناراضگی ہوگئی تو انہوں نے ان کے خلاف بے بنیاد باتیں کرنا شرو ع کر دیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سویلین بالادستی کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن اب وہ جیل میں سات سال کی سزا کاٹ رہے ہیں ، بیمار ہیں لیکن پاکستان کے خلاف کام کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں نواز شریف کا بہت بڑا کردار ہے دوسری طرف ان کے بھائی شہباز شریف اپنے بیمار بھائی کی پالیسیوں کے خلاف نظر آتے ہیں لیکن خاندانی اتحاد کی خاطر وہ جے یو آئی کا ساتھ دینے پر مجبور تھے لیکن اس صورتحال کے پیش نظر شہباز شریف کی حیثیت اپوزیشن لیڈر سے کم ہو کر محض فضل الرحمن کے پیروکار کی ہوگئی تھی انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کس طرف جا رہے ہیں ذاتی طور پر وہ سیاست میں مذہب کے کارڈ کو استعمال کرنے کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنی سیاست میں مذہب کو استعمال کیا ہے ان کے نزدیک مذہب ایک مقدس شے ہے جو انسان کی فکری رہنمائی کر کے اللہ سے قریب کرتی ہے چنانچہ وہ اپنی تقریروں میں سیاسی گفتگو کرتے نظر آئے ہیں لیکن مذہب کا نام نہیں لیا ویسے بھی انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو اپنے مقاصد کی خاطر مذہب کو استعمال نہیں کرنا چاہئے یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے کھل کر مولانا کی مذہب کو استعمال کرنے کی کوشش کو پسند نہیں کیا بلکہ مذمت کی چنانچہ دو بڑی جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ میں علیحدگی سے مولانا تنہا رہ گئے ہیں اور وہ رہبر کمیٹی کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل تیارکرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا تاہم ان کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ کسی طرح ان کی فیس سیونگ ہو جائے تاکہ سیاست میں ان کا بھرم قائم رہے ۔ یہ سب کچھ ان کی آئندہ کی حکمت عملی سے پتہ چل سکے گا انہوں نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو وہ ایک بار پھر پورے ملک میں دھرنا مہم شروع کریں گے جو کہ ممکن نہیں ہو سکے گا عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میںپس رہے ہیں دھرنے کی صورت میں ( اگر ایسا ہوتا ہے ) تو انہیں جو روزگار میسر ہے اس سے بھی جائیں گے اور نوبت فاقوں تک آجائے گی نیز اس وقت پاکستان جس صورتحال سے گزر رہا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کا ہونا اشد ضروری ہے تاکہ قومی معیشت کا پہیہ چلتا رہے پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بھارت اور افغانستان کی جانب سے مسلسل خطرات درپیش ہیں بلکہ ایل او سی پر بھارت گولہ باری کر کے پاکستان کے فوجیوں اور نہتے شہریوں کوہر آئے روز شہید کرتا رہتا ہے اور وہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ مولانا صاحب اسی ایجنڈے پر قائم ہیں تاکہ پاکستان معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط بنیادوں پر کھڑا نہ ہو سکے ۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے پاکستان میں اندرونی خلفشار پھیلا کر پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے اندر مزید مضبوط کاروائیاں کرنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے پڑھے لکھے عوام اس حقیقت کو بھانپ چکے ہیں کہ مولانا صاحب کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی حکمت عملی پاکستان میں ایک سیاسی بحران کو جنم دینے کے مترادف ہے اس صورتحال کے پیش نظر عمران خان کی حکومت مولانا صاحب کے خلاف قانونی کاروائیاں کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ عدالت کے ذریعے ان کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کا جائزہ لے کر انہیں گرفتار کیا جا سکے یا پھر انہیں معاف کر دیا جائے دونوں صورتوں میں جے یو آئی کے صدر کو عدالت کا سامنا کر کے اپنی دھمکی آمیز تقریروں کا جواب دینا ہوگا جو انہوں نے دھرنے کے دوران دی تھیں جن میں نوجوانوں کو مشتعل کر کے ریاست کے خلاف اکسایا تھا ۔ در اصل میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو ریاست کی طاقت کا انداذہ نہیں تھا وہ دشمنوں کے اشارے پر پاکستان کی ریاست کو کمزور کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی یہ آرزو پوری نہیں ہو سکی اب وقت آگیا ہے کہ عدالت اور دیگر قانونی ادارے ان کی تادیب کریں تاکہ آئندہ ریاست کی سا  لمیت کے خلاف کوئی بھی شخص ایسا طریقہ کار اختیار نہ کر سکے ۔

تازہ ترین خبریں