08:54 am
عید میلاد النبی  ﷺ

عید میلاد النبی ﷺ

08:54 am

دل جس  سے ز ندہ ہے  وہ تمنا  تمہی  تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو
اور جذبۂ عشق رسول اکرمﷺکا اصل تقاضہ یہی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے فکروعمل کا پوری طرح احاطہ کرلے۔یہ بات ایمان کی ہے  اور ایمان کا ثبوت اعمال صالح کی صورت ہی میں فراہم کیا جا سکتاہے ۔ سیرت پاک کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی ہمارا جزوایمان ہونی چاہئے کہ دور رسالتِ مآبﷺ تاریخ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ساری نسلِ انسانی کیلئے قیامت تک ہدائت جاریہ ہے۔
ہمارے رسول کریمﷺنے اسلام کو ایک مکمل معاشرتی نظام بنا کر نسلِ انسانی کو عطا فرمایا ہے اور انسانی تاریخ کا حقیقی انقلاب وہی دورسعا دت آثار ہے۔رسول کریمﷺ کے وسیلے ہی سے انسانیت کو دنیا کے ساتھ ساتھ حیات و کائنات کی وسعتوں کا شعور اور نسلِ انسانی کی عالمگیرمساوات کا پیغام ملا۔انسان انفرادی طور پر جس طرح مختلف مرحلوں سے گزر کر باشعور ہونے کی منزل تک پہنچتا ہے ‘نسلِ انسانی بھی مجموعی طور پر انہی مرحلوں سے گزری ہے۔ختم نبوت کا اعلان پوری نسلِ انسانی کے باشعور ہونے کا اعلان بھی ہے  اسی لئے ہمارے حضورﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ساری نسل انسانی
کو مخاطب فرمایا۔
 
اس طرح پوری نسل انسانی کیلئے اللہ کی ہدائت حرفاً حرفاً محفوظ ہو گئی اور اس کے مطابق پوری معاشرتی زندگی بسر کرنے کا ایک مکمل عملی نمونہ سامنے آگیا۔Idealکو معاشرتی زندگی کی حقیقت بنا کر پیش کردیاگیا‘زندگی عملی نمونے میں ڈھل گئی ۔انسان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ کائنات کے نظام اور انسان کی انفرادی ‘اجتماعی زندگی اور سماجی زندگی سب اللہ کے قانون کی گرفت میں ہیں۔کائنات کے نظام میں اللہ کی حاکمیت براہِ راست ہے لیکن ارادے اور اختیار کی صفت کی وجہ سے انسانی زندگی پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نفاذ انسانی ایمان و اعمال کے وسیلے سے ہوتا ہے۔کائنات کا نظام حیرت انگیزنظم و ضبط کے تحت چل رہا ہے۔وہاں کسی نوعیت کا کوئی فساد ممکن ہی نہیں ‘کیونکہ فساد شرک سے پیدا ہوتا ہے اور کائنات میں شرک ممکن نہیں ۔سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہواہے’’زمین اور آسمانوں میںایک سے زائد الہٰ ہوتے تو فساد برپا ہو جاتا ۔‘‘
فساد شرک سے پیدا ہوتا ہے ‘شرک ناقابل معافی گناہ اسی لئے ہے کہ اس سے احترامِ آدمیت کی نفی ہوجاتی ہے ۔انسان کے مشرکانہ افکار و اعمال سے اللہ کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ساری دنیا کے انسان بھی اگر مشرک ہو جائیں تو اللہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔شرک سے انسانی فکر میں‘ انسانی عمل میں اور انسانی معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے اور جہاں فساد ہوتا ہے وہاں امن و انصاف برقرار نہیں رہ سکتا۔انسانی معاشرے میںخیر و فلاح کیلئے اورہمہ جہت ارتقاء کیلئے امن و انصاف قائم رہنا ضروری ہے۔ حریت‘ مساوات‘ اخوت‘امانت‘دیانت‘صداقت اور عدالت‘یہ صفات جنہیں ہم اخلاقی قدریں کہتے ہیں‘یہ قدریں درحقیقت وہ قوانین قدرت ہیں جن کے نفاذ سے انسانی معاشرے میں امن و انصاف کی ضمانت مہیا ہوجاتی ہے۔جس فرد میں جس حد تک یہ صفات زندہ و بیدار اور متحرک ہوں گی‘وہ فرد اسی نسبت سے خیر و فلاح قائم کرنے کا باعث ہوگااور اور جس معاشرے میں ایسے صالح اعمال والے افراد کی کثرت ہو گی وہ معاشرہ امن و سلامتی اور انصاف کا گہوارہ بن جائے گا۔
بیج کو کھلی فضا ملے تو پوری طرح پھلتا پھولتا ہے ۔اس پر کوئی دباؤ آجائے یا وہ کسی پتھر کے نیچے آ جائے تو وہ نشوونما سے محروم ہو جاتا ہے۔سرکاردوعالمﷺاس اوّلین اسلامی معاشرے سے انسانی جذبات‘ مفادات‘ خواہشات اور تعصبات کے سارے پتھر سمیٹ لئے تھے چنانچہ انسانی معاشرت کا وہ باغ ایسا لہلہایا‘ایسے پھل پھو ل لایا کہ انسانی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔اس اعتبار سے دیکھئے تو سیرت سرکار دو عالمﷺکی مثال واقعی بے مثال ہے۔حضور اکرمﷺ سب سے زیادہ با اختیار تھے اور سب سے زیادہ قانون کے پابند تھے ۔ حضور اکرمﷺکے تصرف میں ہر شئے آسکتی تھی لیکن حضور اکرمﷺ نے سب سے زیادہ سادہ زندگی بسر فرمائی۔ حضور اکرمﷺکا ہر فرمان قانون تھا اور حضور اکرمﷺنے سب سے زیادہ خود احتسابی کی زندگی بسر فرمائی۔اس اعتبار سے اسلامی معاشرے کی خصوصیات بڑی منفرد ہیں ۔اسلامی معاشرے میں تکریم کا واحد معیار شخصی کردار ہے۔
اسلامی معاشرے میں دشمن ا قوم کے افراد سے بھی انصاف کیا جائے گا اور غلطی اور جرم کرنے والا سب سے پہلے خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔اسلامی نظام میں انسانوں کی انسانوں پر حکومت کا کوئی تصور نہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں معاملات اور اشیاء کا انتظام کرنے والا ہر وقت ہر شخص کے سامنے اپنے اعمال اور طرزِ انتظام کیلئے جوابدہ رہے گااور ایسے
نظام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ خود انسان کی اپنی خواہشات نفسانی بن جاتی ہیں۔ سورۃ فرقان میں ارشاد ہے’’تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا الہ بنا لیا ہے ‘اب ایسے شخص کوتم راہِ راست پر کیسے لا سکتے ہو۔‘‘یہی خواہشاتِ نفسانی معاشرتی امن و انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں