08:55 am
 مکالمہ  یا  ٹکرائو

 مکالمہ  یا  ٹکرائو

08:55 am

 کل راولپنڈی کے مصروف ترین تجارتی مرکز راجہ بازار  اور صدر جانا ہوا ۔ خلق خدا  ر وزمر ہ کے معمولات میں مصروف دکھائی دی۔ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا ۔ بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ۔ کسی شخص کو پرواہ نہیں تھی کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر جڑواں شہر اسلام آباد میں ہزاروں افراد حکومت کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں ۔ مذہبی سیاسی جماعت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے  اسلام آباد تک آنے والے ہزاروں افراد نے گذشتہ تین راتیں کھلے آسمان تلے بسر کی ہیں ۔ صوبہ سندھ سے احتجاجی ما ر چ کا آغاز ہوا ۔ پنجاب سے  اسلام آباد پہنچنے تک  تادم تحریر کو ئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ مارچ کے شرکاء پرامن اور منظم ہیں۔ 
عام شہریوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے کے بجائے مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو راستہ دینے کے عمل کو مخالفین نے بھی سراہا ہے۔ ٹی وی چینلز نے  احتجاجی دھرنے کے شرکاء کو  صفائی ستھرائی  اور کھانے پکانے کا اہتمام کرتے دکھایا تو دل کو خوشی ہوئی۔ فٹبال کھیلی جا رہی تھی اور بعض خوش طبیعت افراد اپنے ساتھی کو  چادر پر لٹا کر ہوا میں اچھالنے کے شغل میں مصروف تھے۔ بلاشبہ احتجاج پرامن ہے اور سادہ لوح  شرکاء دوستانہ مزاج کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ تاہم  ان مثبت پہلوئوں  کے باوجود احتجاج کی قیادت کرنے والے محترم قائدین اور حکومتی ترجمانوں کو کچھ اہم نکات پر غور کرنا چاہیے۔  گذشتہ شب جے یو آئی کے قائد نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسائل اور مذہبی حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات کا تزکرہ کیا ۔ جو نکات انہوں نے اُٹھائے اُن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ بلاشبہ عوام مہنگائی اور  بے روزگاری کی ہاتھوں بے حال ہوئے جا رہے ہیں ۔ گذشتہ پندرہ ماہ میں حکومت کی کارکردگی ناقص رہی ہے ۔ معاشی زبوں حالی  اور انتظامی نااہلی کے اعتبار سے اس  حکومت  کا دور نون لیگ اور پی پی پی  کا تسلسل ہی دکھائی دے رہا ہے۔   جہاں حکومتی نااہلی کا انکار ممکن نہیں وہاں یہ  حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ عوام کی اکثریت موجودہ احتجاجی سیاست سے لاتعلق دکھائی دے رہی ہے۔ 
بلاشبہ جے یوآئی تعداد کے اعتبار سے  ایک بڑا  اور متاثرکُن  عوامی اجتماع کرنے میں کامیاب رہی ہے لیکن سندھ اور پنجاب سے نون لیگ اور پی پی پی کے کارکنان کی عدم شرکت چھپائے نہیں چھپ رہی ۔ اسلام آباد ایچ نائن کے میدان میں عوام کی کثیر تعداد  اپنی قیادت کے ساتھ دھرنا دئیے بیٹھی ہے لیکن اُس سے کئی گُنا زیادہ تعداد راجہ بازار میں معمولات زندگی میں مصروف ہے ۔  حزب اختلاف کی جانب سے  عوامی مسائل کی دی جانے والی دہائی پر عوام کان نہیں دھر رہے۔ اسلام آباد میں کنٹینرز کی صورت  کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کی بدولت معمولات زندگی متاثر ضرور ہو رہے ہیں لیکن راولپنڈی شہر قطعی طور پر حالیہ احتجاج سے لاتعلق دکھائی دے رہا ہے ۔ یہی معاملہ سندھ ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ گو اسلام آباد میں ایک بڑا مجمع لگ چکا ہے لیکن یہ حاضرین جے یو آئی کے قدیمی روایتی حامی ہیں ۔ نون لیگ اور پی پی پی کے قائدین اگرچہ کنٹینر پر شعلہ بیانی کی رسم پوری کرچکے ہیں لیکن عملی طور پر احتجاج یا دھرنے میں اِن دونوں جماعتوں کے کارکنان کی عملی شرکت دکھائی نہیں دی۔ اس عوامی لاتعلقی کی یہ تشریح بھی کی جاسکتی ہے کہ اگرچہ عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے تنگ ہیں لیکن اس کے باوجود حزب اختلاف پر اعتبار کرنے کو بھی تیار نہیں ۔ پی پی پی اور نون لیگ کی ناقص کارکردگی ، بدانتظامی اور کرپشن کے بھاری بھرکم الزامات نے ان بڑی جماعتوں سے عوام کو متنفر کر دیا ہے۔
  گو جے یو آئی نے بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ہاتھوں اپنی سیاسی میراث کا بڑا حصہ گنوا دیا ہے تاہم اِس جماعت کا مخصوص ووٹ بینک بھی محفوظ ہے  اور  اسے روایتی کارکنوں کی حمایت بھی دستیاب ہے۔ اسی بل بوتے پر جے یو آئی ایک بڑا اجتماع کرنے میں تاحال کامیاب رہی ہے۔ جے یو آئی ایک نظریاتی  مذہبی سیاسی  جماعت ہونے کی دعویدار رہی  ہے۔ ضرورت پڑنے پر نظریاتی مخالفین کے لیے اس جماعت نے ہمیشہ لچک اور کشادگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر محمود خان اچکزئی اور اسفند یار ولی جیسے نظریاتی مخالفین کے لیے جے یو آئی اپنے بازو وا کر سکتی ہے تو عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی سے بھی سیاسی مفاہمت کی سبیل پیدا ہوجائے۔  درج زیل نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے جے یو آئی کی قیادت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اول ، عوام احتجاج سے لاتعلق ہیں اور موجودہ اجتماع صرف جے یو آئی کے روایتی حامیوں پر مشتمل ہے۔ دوم، پی پی پی اور نون لیگ گو مگو کی کیفیت میں ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں سے احتجاج کے حوالے سے کوئی توقع نہیں قائم کی جاسکتی۔ سوم، قوم پرست نظریاتی مخالفین اور ماضی کی بدعنوان نااہل حکمراں جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہو کر جے یو آئی اپنے کارکنوں کو بھی بد دل کر بیٹھے گی۔ عوامی سطح پر یہ تاثر جڑ پکڑ سکتا ہے کہ ایک  دینی جماعت ماضی کے کی نااہل جماعتوں کی کرپٹ قیادت کی وکیل صفائی بن رہی ہے۔ چہارم ، جماعت اسلامی جیسی اہم مذہبی جماعت اس احتجاج کا حصہ نہیں ۔ گو جے یوپی کی جانب سے اویس نورانی صاحب کی علامتی شرکت دکھائی دے رہی ہے تاہم علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم جیسی جلیل القدر ہستی سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے نظریاتی کارکن تشویش کا شکار ہیں ۔ پنجم ، چالیس یا پچاس ہزار افراد کا اجتماع منعقد کر کے وزیر اعظم کا استعفیٰ طلب کرنا جمہوریت اور آئین کی روح کے منافی ہے جو کہ جے یو آئی جیسی جماعت کو زیب نہیں دیتا ۔ا گر الیکشن دھاندلی زدہ تھے تو پھر اُس کے نتیجے میں جنم لینی والی پی پی پی کی سندھ حکومت بھی ناجائز قرار پاتی ہے ۔ 
کنٹینر پر شعلہ بیانی سے پہلے  اگر بلاول میاں اپنی سندھ اسمبلی تحلیل کروا آتے تو یقیناً احتجاج کا آتش فشاں وفاقی حکومت کو بھسم کر ڈالتا ۔ موجودہ حالات میں خالی خولی گرم گفتاری سے اپوزیشن کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ششم ، مقبوضہ کشمیر کے مخصوص ریاستی تشخص کے خاتمے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور مودی سرکار کی جانب سے آزاد کشمیر پر حملے اور قبضے کی مسلسل دھمکیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تقاضا ہے کہ اندرونی محاذ پر یک جہتی برقرار رکھتے ہوئے بھارتی یلغار کے مقابل متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔  حکمراں ٹولہ بھی اپنے زبان دراز اور منہ پھٹ ترجمانوں کو قابو میں رکھے ۔ حزب اختلاف کی تنقید کو برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ سیاسی مخالفین پر زمین تنگ کرنے کے شوقین وزیر اور مشیر اپنی حکومت کا دھڑن تختہ کروانے کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی ناقابل تلافی نقصان کروا بیٹھیں۔ فریقین سے گذارش ہے کہ مکالمے ، مفاہمت اور تدبر کو شعلہ بیانی پر ترجیح دیں۔ 

تازہ ترین خبریں