07:24 am
 سیرۃ النبیﷺ

سیرۃ النبیﷺ

07:24 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اول یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہمااور آباء و اجداد سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھے، لہٰذا مؤمن'ہوئے۔ دوم یہ کہ یہ تمام حضرات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلان نبوت سے پہلے ہی ایسے زمانے میں وفات پا گئے جو زمانہ ''فترت'' کہلاتا ہے اوران لوگوں تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوتِ ایمان پہنچی ہی نہیں لہٰذا ہر گز ہر گز ان حضرات کو کافر نہیں کہا جا سکتابلکہ ان لوگوں کو مؤمن ہی کہا جائے گا۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ فرما کر ان کی قبروں سے اٹھایا اور ان لوگوں نے کلمہ پڑھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کی اور حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو زندہ کرنے کی حدیث اگرچہ بذات خود ضعیف ہے مگر اس کی سندیں اس قدر کثیر ہیں کہ یہ حدیث ''صحیح'' اور ''حسن'' کے درجے کو پہنچ گئی ہے۔
 
برکات نبوت کا ظہور
جس طرح سورج نکلنے سے پہلے ستاروں کی روپوشی،صبح صادق کی سفیدی، شفق کی سرخی سورج نکلنے کی خوشخبری دینے لگتی ہیں اسی طرح جب آفتاب رسالت کے طلوع کا زمانہ قریب آ گیا تواطراف عالم میں بہت سے ایسے عجیب عجیب واقعات اور خوارق عادات بطور علامات کے ظاہر ہونے لگے جو ساری کائنات کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یہ بشارت دینے لگے کہ اب رسالت کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہونے والا ہے۔
چنانچہ اصحابِ فیل کی ہلاکت کا واقعہ، ناگہاں بارانِ رحمت سے سرزمین عرب کا سر سبز و شاداب ہو جانااور برسوں کی خشک سالی رفع ہو کر پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جانا، بتوں کا منہ کے بل گر پڑنا، فارس کے مجوسیوں کی ایک ہزار سال سے جلائی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، کسریٰ کے محل کا زلزلہ اور اسکے چودہ کنگوروں کا منہدم ہو جانا،''ہمدان'' اور ''قم'' کے درمیان چھ میل لمبے چھ میل چوڑے ''بحرۂ ساوہ'' کا یکایک بالکل خشک ہو جانا، شام اور کوفہ کے درمیان وادی ''سماوہ'' کی خشک ندی کا اچانک جاری ہو جانا،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ کے بدن سے ایک ایسے نور کا نکلنا جس سے ''بصریٰ''کے محل روشن ہو گئے۔یہ سب واقعات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جو حضور علیہ الصلوات والتسلیمات کی تشریف آوری سے پہلے ہی ''مبشرات'' بن کر عالم کائنات کو یہ خوشخبری دینے لگے کہ 
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہرآنے والا ہے 
گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے 
بچپن… ولادت با سعادت
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ اصحاب فیل'سے پچپن دن کے بعد 12ربیع الاول مطابق 20 ا پر یل 571ء ولادت باسعادت کی تاریخ ہے۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عملدرآمد ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کیلئے جاتے ہیں اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ 
تاریخ عالم میں یہ وہ نرالااور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث، گردش لیل و نہار کا مطلوب، خلق آدم کارمز، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانی کعبہ کی دعا،ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا۔کائناتِ وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی 
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ماویٰ، ضعیفوں کا ملجا
یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ
سند الاصفیاء، اشرف الانبیاء، احمد مجتبیٰ،محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عالمِ وجود میں رونق افروز ہوئے اور پاکیزہ بدن، ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے خوشبو میں بسے ہوئے بحالت سجدہ، مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین میں اپنے والد ماجد کے مکان کے اندر پیدا ہوئے باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نونہال کو دیکھ کر نہال ہوتے۔ وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طوافِ کعبہ میں مشغول تھے۔ یہ خوشخبری سن کر دادا ''عبدالمطلب'' خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگا لیا۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیروبرکت کی دعا مانگی اور ''محمد'' نام رکھا۔(1) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابو لہب کی لونڈی''ثویبہ'' خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی اور ''ابو لہب'' کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوشخبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کے اشارہ سے ''ثویبہ'' کو آزاد کر دیا جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملاکہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھااور حال پوچھا،تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ(کھانے پینے) کو نہیں ملا بجز اس کے کہ ''ثویبہ'' کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتاہوں۔
مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
جس مقدس مکان میں حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی،تاریخ اسلام میں اس مقام کا نام ''مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم '' (نبی کی پیدائش کی جگہ) ہے ،یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطینِ اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی،جہاں اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ''فیوض الحرمین'' میں تحریر فرمایا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس محفل میلاد شریف میں حاضر ہوا،جو مکہ مکرمہ میں بارہویں ربیع الاول کو ''مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم '' میں منعقد ہوئی تھی جس وقت ولادت کا ذکر پڑھا جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یکبارگی اس مجلس سے کچھ انوار بلند ہوئے، میں نے ان انوار پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ رحمت الٰہی اور ان فرشتوں کے انوار تھے جو ایسی محفلوں میں حاضر ہوا کرتے ہیں۔ 
دودھ پینے کا زمانہ:سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو لہب کی لونڈی ''حضرت ثویبہ'' کا دودھ نوش فرمایا پھر اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دودھ سے سیراب ہوتے رہے، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو اپنے ساتھ لے گئیں اور اپنے قبیلہ میں رکھ کر آپ کو دودھ پلاتی رہیں اور انہی کے پاس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دودھ پینے کا زمانہ گزرا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں