07:27 am
اجتماعی استعفے

اجتماعی استعفے

07:27 am

قومی اسمبلی میں342 نشستیں ہیں جن میں سے پی ٹی آئی کے پاس156 نون لیگ کے پاس84 پی پی پی کے پاس55 اور ایم ایم اے کے پاس16 سیٹیں ہیں۔ آئین  کے مطابق اگر ایک تہائی اراکین اسمبلی استعفیٰ د ے دیں تو اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ عمران خان کو نکالنے کے لئے دھرنے اور مارچ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر ن لیگ ، پی پی پی اور ایم ایم اے کے اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں تو قومی اسمبلی قائم ہی نہیں رہے گی تو پھر یہ پارٹیاں حکومت گرانے کا یہ آسان اور تیر بہدف نسخہ کیوں نہیں استعمال کررہی ہیں؟ اس کم از کم6 وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ن لیگ اور پی پی پی کی ٹاپ لیڈر شپ یا تو شدید علیل ہے یا پھر جیلوں میں ہے۔ اگر یہ لیڈر انتخابی مہم کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے تو ان کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ جو سحر نواز شریف ، رانا ثناء اللہ اور شاہد خاقان عباسی کی شخصیت میں ہے اس کی کمی دیگر لیگی رہنما پوری نہیں کرسکتے۔ اسی طرح جو مہم آصف زرداری چلا سکتے ہیں جو انتخابی جوڑ توڑ وہ کرسکتے ہیں وہ کسی اور پی پی پی قائد کے بس کا روگ نہیں ۔ لہٰذا مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پہلے ان گرفتار رہنمائوں کو رہائی دلوائی جائے اور اس کے بعد الیکشن کی بات ہوگی۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر نئے الیکشنز کا اعلان ہو جاتا ہے تو اس با ت کا قوی امکان ہے کہ یہ بھی اسی ادارے کی نگرانی میں ہوں گے جس پر پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں نے غلط مداخلت کا الزام لگایاہے۔ اگر واقعی ایسا ہواتو نئے انتخابات کے نتائج بھی متنازعہ ہوں گے۔ اس سے کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔ لہٰذا مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ عوامی پریشر پید ا کیا جائے اور نئے الیکشنز اس وقت تک نہ کروائے جائیں جب تک یہ مقتدر قومی ادارہ واضح اعلان نہ کردے کہ وہ انتخابات میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ جب ن لیگ کو یہ ضمانت مل جائے گی تب ہی وہ الیکشن کے میدان میں اترے گی۔
تیسری وجہ یہ ہے  الیکشن ایک بہت مہنگا کھیل ہے۔ قومی اسمبلی کی ہر سیٹ پر ہر امیدوار بیس سے چالیس کروڑ روپے تک کا خرچہ کرتاہے۔ ابھی پچھلے الیکشن کو صرف15 ماہ ہوئے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے اور خاص کر ن لیگ کے امیدواروں کی جیبیں خالی ہیں۔ الیکشن ہارنے والوں کی تو بات ہی کیا جو جیت کر بھی آئے ہیں ان کو بھی ابھی تک کمائی کا کوئی موقعہ نہیں ملا لہٰذا یہ سب لوگ مزید بڑا خرچہ کرنے پر فی الحال تیار نہیں ہیں۔ صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ اگر آج ن لیگ اپنے اراکین اسمبلی سے استعفے طلب کرے تو امکان غالب ہے کہ تقریباً چالیس ایم این اے اپنے استعفے پارٹی کے حوالے نہیں کریں گے۔ اس کا ایک مظاہرہ ہم سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے وقت دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا مقصد صرف عمران خان کا خون خشک کرنا ہے فوری طور پر نئے انتخابات نہیں ہیں۔
 چوتھی وجہ یہ ہے کہ جب تک آرمی چیف باقاعدہ طور پر اپنی ملازمت میںتوسیع قبول کرتے ہوئے اپنی کمان میں واضح تبدیلیاں نہیں کرلیتے اس وقت تک سیاسی پارٹیوں کو ہوا کا اگلا رخ نظر نہیں آئے گا اور تب تک وہ کوئی حتمی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ فضل الرحمن کے دھرنے کی ٹائمنگ خود بتاتی ہے کہ ان کے مقاصد میں اس توسیع پر اثر انداز ہونا بھی ہے۔ بظاہر نظر تو نہیں آتا کہ مولانا اس ضمن میں کوئی کامیابی حاصل کرسکیں گے مگر ان کی امیدیں اس بات پر لگی ہیں کہ توسیع ہو جانے کے بعد عمران خان فوج کیلئے تقریباً بے کار ہو جائیں گے۔ پھر عمران کو واپس حکومت میں لانے کی انہیں کوئی ضرورت نہیں ہوگی لہٰذا پھر نئے الیکشنز زیادہ آزادانہ ہوسکتے ہیں۔
پانچویں وجہ یہ ہے کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں چاہتی ہیں کہ عوام اچھی طرح عمران سے بدظن ہو جائیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم، کاروبار الغرض ہر شعبے میں عوام عمران خان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ مگر اب بھی عوام کا ایک اچھا خاصا حصہ ایسا ہے جو عمران سے مایو س نہیں ہوا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ انہیں ن لیگ اور پی پی پی کی کرپشن  اور منہ زوریاں بھولی نہیں ہیں۔ لہٰذا ایک اسٹرٹیجی یہ بھی ہے کہ عوا م کو عمران سے اچھی طرح تنگ آنے دیا جائے تاکہ انہیں ن لیگ کی حکومت مقابلتاً اچھی لگنے لگے۔ ن لیگ اور پی پی پی کو قطعاً یہ خطرہ نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں عمران کی حکومت عوام کی مشکلات کم کرسکے گی لہٰذا یہ پارٹیاں صبر کرسکتی ہیں۔
چھٹی وجہ یہ ہے کہ پی پی پی کے پاس55 سیٹیں قومی سمبلی میں ہیں اور سندھ اسمبلی میں اکثریت ہے۔ وہ اس سے زیادہ کی امید کر رہی نہیں سکتی۔ لہٰذا اسے نئے انتخابات میںکوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ وہ عمران خان کو دھکا تو دینا چاہتی ہے مگر فی الحال نئے انتخابات کا رسک نہیں لیناچاہتی ۔ ان کے لئے یہ بات کہیں زیادہ پرکشش ہے کہ عمران پر عدڈم اعتماد کی تحریک لائی جائے۔ اس طرح انہیں مرکزی حکومت میں حصہ مل جائے گا اور ان کی سندھ کی حکومت کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اب اگر پی پی پی اجتماعی استعفوں کی مہم میں شریک نہیں ہوتی تو (ن) لیگ اور ایم ایم اے مل کر 114 استعفوں کا انتظام نہیں کرسکتے اور اگر114 سے کم استعفے پیش کر دیئے گئے تو پی ٹی آئی کی تو چاندنی ہو جائے گی وہ فوراً ان استعفوں کو قبول کرکے ان خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروا کر اپنی حکومت کو مزید مضبوط کرے گی اور ن لیگ بالکل ہی باہر ہو جائے گی۔ لہٰذا یہ رسک نہیں لیا جاسکتا۔
لہٰذا اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مستقبل قریب میں حزب اختلاف کی طرف سے اجتماعی استعفے آئیں  گے۔ نون لیگ اور ایم ایم اے تو نئے انتخابات برداشت کرلیں گی مگر اس مہم جوئی میں پی پی پی شامل نہیں ہوگی۔ باقی رہے عوام ۔تو ان کی مرضی کی بظاہر کسی کو پرواہ نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں