07:28 am
پہلے سے زیادہ طوفانی بارش!خدا خیر کرے!

پہلے سے زیادہ طوفانی بارش!خدا خیر کرے!

07:28 am

٭9نومبر: یوم پیدائش علامہ اقبال، کرتار پور راہداری کا افتتاح!!O آزادی مارچ، حکومت مذاکرات کوئی حل نہیں نکل رہاO اسلام آباد! آج پھر تیز سرد ہوائیں، موسلا دھار بارش، آزادی مارچ، متعدد بیمارO نوازشریف ومریم نواز گھر چلے گئےO افغانستان، پاکستان کشیدگی، ویزے بند!959 کلومیٹر ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگے گی!O صدر اور وزیراعظم کو جرائم سے استثنا کا مسئلہOبجلی صبح9 بجے گئی تھی، تین بجے تک نہیں آئی۔
٭اس بار9 نومبر کا دن خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یوم ولادت ہے۔ اسی روز گوردوارہ کرتار پور کی بھارت کے ساتھ راہداری کا بھی افتتاح ہو رہا ہے۔ اسی روز 9 نومبر2016ء کوامریکہ کے صدر ٹرمپ کی کامیابی کا اعلان ہوا اور اسی روز کمبوڈیا فرانس سے آزادی (1953ء) کا دن بھی منا رہا ہے! بہت سے اور اہم واقعات بھی ہیں۔ 
٭حکومت اور ’آزادی مارچ‘ کے درمیان مذاکرات کسی فیصلے پر پہنچتے دکھائی نہیں دے رہے۔ صورت حال تا دم تحریر کوئی واضح رُخ اختیار نہیں کر سکی تھی۔ دونوں فریق ’’میں نہ مانوں‘‘ پر اڑے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کو دو دِن کے اندر وزیراعظم کے عہدہ سے استعفا دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ آج چھٹا دن ہے، حکم بھی موجود ہے، اور عمران خان بھی بدستور وزیراعظم ہے۔ مولانا نے اعلان کیا کہ آزادی مارچ کااگلا پڑائو اسلام آباد کے ڈی چوک میںلگے گا (وہاں سے وزیراعظم ہائوس نزدیک ہے) فوج کے ذمہ داروں نے دوبار یاد دلایا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنا فوج کی ذمہ داری ہے اس پر مولانا کا بیان آ گیا کہ ڈی چوک چھوٹی جگہ ہے، ہم موجودہ جگہ پر ہی ٹھیک ہیں۔ (مجھے سابق مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان کی بڑی بڑی مونچھیں یاد آ گئی ہیں۔ کسی کو کوئی بات بہت سخت انداز میں کہنا ہوتی تھی تو ملک صاحب دائیں مونچھ کو ذرا سا مروڑتے تھے اور سامنے بیٹھا شخص سخت خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا تھا)۔ بہر حال فوج نے صاف صاف طے کر دیا کہ فوج آئین اور ملکی سلامتی و امن کے تحفظ کی ضامن ہے۔ اب صورت حال یہ بن چکی ہے کہ مولانا نے دھرنے سے پہلے دو ٹوک کہا تھا کہ استعفے کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، بات کرنی ہے تو استعفا لے کر آئو! اب تک استعفے کے بغیر کئی مذاکرات ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے آئے، تقریریں کیں اور گھروں کو چلے گئے! اسی دوران چودھری شجاعت حسین اپنی سخت علالت کے باوجود چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مولانا کے پاس جا پہنچے۔ انہیں سیاست میں نرمی اور لچک کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی۔ پھر رات گئے مولانا چودھری برادران کے گھر جا پہنچے۔ صبح تک خَیر کی کوئی خبر نہیں تھی۔ کالم کی اشاعت تک شائد کوئی بڑی خبر آ گئی ہو!
٭یہ سب کچھ تو انسانی سطح پر ہو رہا ہے، آسمانی سطح پر حالت بالکل مختلف ہے۔ اچانک سائبیریا کی برفانی تیز سرد ہوائیں شمالی علاقوں اور اسلام آبادپر چھا گئیں، موسلا دھار بارش! سردی اک دم بڑھ گئی۔ اسلام آباد کے پشاور موڑ پر جمع ’’آزادی مارچ‘‘ کے جم غفیر کے لئے سخت تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو گئی۔ ان لوگوں کو تقریباً 20 روز کا راشن اور عام گرم کپڑے لانے کو کہا گیا تھا۔ شدید سرد موسلا دھار بارش میں یہ کپڑے کیا کرتے؟ کچھ افراد نے نزدیکی بالائی سڑک کے پلوں کے نیچے پناہ لی مگر اکثریت کھلے آسمان تلے بیٹھی رہی، کوئی دوسری پناہ نہیں تھی۔ ان میں بہت سے کمزور، ضعیف اور بیمار افراد بھی ہیں۔ خراب حالت پربہت سے افراد ہسپتالوں میں چلے گئے ہیں۔ مگر بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج، بروز جمعرات، اسلام آباد میںپہلے سے زیادہ گرج دار طوفانی موسلا دھار بارش آنے والی ہے۔ میں ایک انسان ہوں، پاکستان کا شہری ہوں، سیاست کو دور کریں، دھرنے میں بیٹھے یہ سارے لوگ میرے سادہ دل کھرے پاکستانی بھائی ہیں۔ ان کی پریشانی میری پریشانی ہے۔ ان میں سے بے شمار لوگوں کو علم ہی نہیں کہ دھرنا کیوں دیا جا رہاہے! صرف یہ بات کہ ہمارے امیر نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے! اور امیر اعلان کر رہا ہے کہ میں 24 گھنٹوں میں عمران خان کو شکست دے کر حکومت پر قبضہ کرسکتا ہے۔ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اب ہم حکومت چلا کر ملک کی معیشت کو درست کریںگے! یہی کچھ عمران خان نے اپنے دھرنے میں کہا تھا۔ حکومت ہاتھ آئی تومختلف طویلوں سے بھاگ کر آنے والے گھگھو گھوڑوں کو جمع کر لیا۔ ابھی تک کوئی سنجیدہ، مدبر، ٹھنڈے مزاج والا چہرہ دکھائی نہ دیا۔ ہر طرف بڑھکیں ہی بڑھکیں! اور وزیراعظم ہائوس سے ہر صبح اٹھتے ہی پہلا اعلان کہ ’’کسی کو این آر او نہیںدوں گا۔‘‘ کسی کو کچھ خبر نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے مگر بازار میںایک دوسرے کو للکارا جا رہا ہے۔
٭جیل سے باہر وزیراعظم، جیل کے اندر بھی وزیراعظم! ملک کے 22 کروڑ افراد سے کہیںبالاتر، نوازشریف نام کی لاہور کی ایک شخصیت بالآخر جیل سے اپنے گھر جاتی عمرا پہنچ گئی۔ ساتھ جیل میں سات سال قید کی سزا بھگتنے والی بیٹی کو بھی لے گئی، جو مکمل طور پر صحت مند ہے، اسے کوئی ایسی بیماری لاحق نہیں جس پر انسانی ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ملک کی جیلوں میں ہزاروں ایسے قیدی موجود ہیں جن کے بوڑھے ضعیف ماں باپ سخت تکلیف کے عالم میں تڑپ رہے ہیں کوئی ان کی خبر گیری کرنے والا نہیں۔ اس ملک کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ لکھا جاتا ہے! مگر ان 22 کروڑ افراد میں کسی کا نام نوازشریف نہیں! ہر حکومت، ہر اپوزیشن، ہر ادارہ اسلام کا نام بہت! مگر رہائی ایک شاہی مہمان اور اس کی مکمل صحت مند قیدی بیٹی کی!
٭افغانستان کے ساتھ 2430 کلو میٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام ختم ہو گیا۔ اب ایران کے ساتھ 959کلو میٹر سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ ایران کے ساتھ سرحد افغانستان اور ایران کی سرحد کی نوک پر واقع ’’کوہ مالک صالح‘‘ سے شروع ہو کر گوادر کی سمندری ساحلی پٹی پر ختم ہوتی ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف دو بڑے دریا ’’نہنگ اور ماش خیل‘‘ اور متعدد جھیلیں اور دشوار گزار پہاڑ آتے ہیں۔ ایران پہلے ہی تقریباً 700 کلو میٹر سرحد پر دس فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی دیوار تعمیر کر چکا ہے۔ پاکستان کا ایران کے ساتھ کوئی سرحدی تنازع نہیں اس نے ایران کا دیوار تعمیر کرنے کا حق تسلیم کیا ہے مگر بلوچستان اسمبلی نے سخت مخالفت کی ہے اس کی قرارداد کے مطابق ایران اور پاکستان کے پاس بلوچستان کے وہ حصے ہیں ایران میں اسے سیستان اور پاکستان میں بلوچستان کہا جاتا ہے۔ دونوں طرف بلوچ قبیلوں کے مشترکہ خاندان بستے ہیں جو کسی روک ٹوک کے بغیر آپس میں ملتے رہتے ہیں۔ دیوار اور باڑ سے ان کا یہ میل جول بند ہو جائے گا۔
٭اور قارئین محترم! کل5 نومبر، مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر کے کشمیریوں نے ’یوم شہدائے جموں‘ منایا۔ میں دن بھر ٹیلی ویژن اور اخبارات دیکھتا رہا، بڑے بڑے ’محب وطن، لیڈروںکی تقریریںسنتا رہا، کسی کے منہ سے شہدائے جموں کے بارے میں ایک جملہ! ایک لفظ! کچھ بھی نہیں۔ ان ’’لیڈران ملت‘‘ کو شائد یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ یہ کیا واقعہ تھا؟ ایک لیڈر لائولشکر لے کر وزیراعظم کی کرسی کی طرف بھاگ رہا ہے۔ دوسرا لیڈر ’این آر او‘ کی گردان کئے جا رہا ہے۔ آصف زرداری نام کا ایک باپ اسلام آباد کے ہسپتال میں کمردرد، مثانہ اور دل کی تکلیف سے تڑپ رہا ہے، ہاتھ پائوں سن ہو رہے ہیں اور بیٹا کبھی اسلام کوٹ، کبھی ملتان میں ضیافتیں اڑا رہا ہے، اور قیامت ہے کہ انتہائی پرتعیش زندگی گزارنے والے جیل کے دروازے سے گزرتے ہی سخت بیمار ہوجاتے ہیں، سکھر میں خورشید شاہ وہیل چیئر پر اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی کا آپریشن ہو رہا ہے مگر دیکھا دیکھی وزیراعظم کا سیاسی ترجمان نعیم الحق اپنے گھر پر ہی بیمار ہو گیا ہے۔ شائد حالت اتنی خراب کہ وزیراعظم کو حال دیکھنے جانا پڑا۔ چودھری شجاعت حسین پہلے سے ہی سخت علیل ہیں، کسی طرح فضل الرحمان کے پاس گئے، وہاں طبیعت خراب ہو گئی تو فضل الرحمان کو ان حال پوچھنے ان کے گھر جانا پڑا!

تازہ ترین خبریں