07:27 am
پاک چین زرعی تعاون فورم

پاک چین زرعی تعاون فورم

07:27 am

 اسلام آبادپاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے، کے تعاون  سے عوامی جمہوریہ چین کی وزارت زراعت اور دیہی امور اور وزارت برائے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ آف پاکستان، سرمایہ کاری بورڈ کے بھرپور تعاون سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں صدر پاکستان  عارف علوی نے اظہار خیال کیا کہ چین اور پاکستان ہرموسم کے  شراکت دار ہیں۔ پاکستان کو چین کی ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘اقدام سے بہت فائدہ ہوا ہے اور چین،پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کی معاشرتی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت چین اور پاکستان کے مابین ہمہ جہت تعاون زراعت کے میدان میں چل رہا ہے۔ زراعت پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ستون ہے اور زرعی پیداوار کی مالیت پاکستان کی کل معیشت کا تقریبا ً40 فی صدہے۔ پاکستان چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے فعال طور پرفائدہ حاصل کرے گا، چین کے جدید جنیاتی وسائل کومتعارف کرائے گا، چین کو پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمد میں توسیع دے گا  اور پاکستان کی زرعی ترقی کے معیار اور کسانوں کی آمدنی کی سطح کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہے گا، تاکہ چین پاکستان زرعی تعاون کی کامیابیوں سے دونوں ممالک کے عوام کو جلد از جلد بہترفائدہ پہنچ سکے۔
 چینی سفیر  نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان دونوں ہی زرعی ترقی کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ چین کی زراعت نے پچھلے 70 سالوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں، جو دنیا کی 9 فی صدقابل کاشت اراضی سے  دنیا کی آبادی کے تقریباً 1/5 فیصد حصہ کو پروان چڑھا رہی ہے۔ اس وقت چین دنیا میں ایک بہت بڑا زرعی اور زرعی تجارتی ملک بن چکا ہے۔ جغرافیائی فوائد اور بہت وسیع ترقی کی گنجائش کے ساتھ زراعت پاکستان کی اہم ستونی صنعت ہے۔  اس وقت چین،پاکستان اقتصادی راہداری سے تعمیر اور توسیع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور یہ صنعتی شعبوں اور لوگوں کے ذریعہ روزگار میں وسعت پذیر ہوگی اور زراعت اس تعاون کا نیا ارتکاز ہوگی۔ دونوں ممالک کی حکومتوں نے چین پاکستان زرعی تعاون پر متعدد باراتفاق رائے حاصل کی ہیں جن سے وسیع تر اور گہری سطح پر تعاون کو فروغ ملے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ چین پاکستان زرعی کاروباری اداروں سے رابطے اور تبادلے کو تقویت ملے گی زرعی مصنوعات میں چین اور پاکستان نسل در نسل ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں اور رہیں گے روایتی دوستی اٹوٹ ہے۔ نومبر2018ء میں دونوں ممالک کے مابین زرعی تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد، جب وزیر اعظم عمران خان نے چین کا دورہ کیا تھا تواس وقت سے چین پاکستان زرعی تعاون میں تیزی آ گئی ہے۔ اس فورم کو چین اور پاکستان کے مابین زراعت سے متعلق موضوعاتی تقاریر اور اعلیٰ سطح کے مکالمے میں،دونوں ممالک کے زرعی ماہرین نے زرعی سائنسی تحقیق، فصلوں کی کاشت، جانوروں کی پرورش، زرعی میکنائزیشن، ذہانتی زراعت، زرعی مصنوعات کی ڈیپ پروسیسنگ، زرعی تجارت، غذائی تحفظ، زرعی غربت کے خاتمے، وغیرہ کے بارے میں بات چیت اور تبادلہ خیال کیا۔جس کے باعث دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہواہے۔ 
31 اکتوبر سے 5 نومبر تک، وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی دعوت پر، چین کی زرعی سائنس کی اکیڈمی اور چین کی ٹراپیکل زرعی سائنس اکیڈمی کے سائنسی تحقیقی ماہر ضلع سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، لاہور، کراچی اور دیگر مقامات پر مویشیوں کے فارم، مچھلیوں کے فارم، چاول کے کھیتوں، لیموں کے کھیتوں، آم کے باغات، روئی کی فیکٹریوں، ٹیکسٹائل ملوں اور ٹریکٹر فیکٹریوں اور صوبہ پنجاب کے محکمہ زراعت، محکمہ زراعت سندھ اور زرعی یونیورسٹی وغیرہ کے مقامی ماہرین سے تکنیکی تبادلے اورمعلومات کے لئے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ان جدید معلومات سے دونوں ممالک کے ماہرین کے ذریعے زرعی انقلاب لایا جاسکے گا زرعی اجناس ہر ملک کی اہم ضروریات میں شمار کئے جاتیں ہیں انسانی زندگی کی بقاء کیلئے زراعت جتنی ضروری اور اہم ہے اتنی کوئی اور صنعت ضروری ناہو پاکستان تو ویسے بھی زرعی ملک ہے  چین سے جدید زرعی معلومات ہماری زراعت کے فروغ میں مدد گار ثابت ہوگا۔ یہ فورم چین اور پاکستان کے مابین زرعی میدان میں تبادلہ خیال اور تعاون کومضبوط بنیاد فرہم کرے گا۔

تازہ ترین خبریں