07:31 am
مثالی دھرنا؟

مثالی دھرنا؟

07:31 am

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا امن و امان،حسن اخلاق ،تہذیب و شائستگی اور عورتوں کے احترام کے حوالے سے عالمی سطح پر ممتاز اور نمایاں مقام حاصل کر ہی چکا۔ اگر ’’مولانا‘‘ آزادی مارچ والوں کے دھرنے کو تشدد اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم سے بچا لینے میں کامیاب ہوگئے تو بلاشبہ یہ مارچ اور دھرنا پاکستان کی تاریخ میں ایک مثالی مقام پا کر تاریخ کے لئے یہ رقم ہو جائے گا۔
2014ء کے جدید دور میں ’’مولانا‘‘ نے عملاً ثابت کر دکھایا کہ مارچ اور دھرنے، ڈسکو ڈانس، مخلوط ناچ گانوں اور ڈھول ڈھمکوں کے بغیر بھی کامیاب بنائے جاسکتے ہیں، حکومت کے  خلاف دئیے جانے والے دھرنوں میں تہذیب و شرافت اور انسانی حقوق کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے، لاکھوں انسانوں کے احتجاج کو ’’اعتدال‘‘ پہ رکھ کر ’’‘مولانا‘‘ نے جو انوکھا کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
5نومبر کی شام اسلام آباد کے سرد موسم میں جب بارش شروع ہوئی تو خیال تھا کہ اس بارش سے آزادی مارچ کے دھرنا نشینوں کے قدم اکھڑ جائیں گے، مگر 6نومبر کی شام بہارہ کہو کے عالم دین مولانا سہیل عباسی نے فون کرکے بتایا کہ وہ دھرنے والوں کے درمیان موجود ہیں اور دھرنے کے شرکاء کے لئے حلوے اور بریانی سے بھری ہوئی چار دیگیں لائے ہیں، میں نے پوچھا کہ بارش اور سردی کے اس موسم میں وہاں کی صورتحال کیا ہے؟
 ان کا کہنا تھا کہ ہاشمی صاحب! یہاں تو کئی کلو میٹر تک اک نئی دنیا آباد ہے، عمران خان چودہ مہینوں کی حکومت میں نیا پاکستان تو نہ بنا سکے مگرمولانا نے اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر میں خیموں پر مشتمل اک ایسی نئی دنیا ضرور آباد کر دکھائی کہ جہاں  کے احتجاجی  محبتیں کشید کرتے ہیں، جہاں نماز کے اوقات میں پنجگانہ نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہیں، درود پاک کے ترانے بھی گونجتے ہیں، قرآن کی تلاوت کے زمزمے بھی پھوٹتے ہیں، سفید ڈاڑھی والے بوڑھے ہوں یا سیاہ داڑھیوں والے نوجوان، ننگے سر والے ہوں یا بھاری پگڑیوں والے سب ہی رو رو کر نفرت مانگتے ہیں‘ بارش اور سردی نے دھرنے والے سب ہی رورو کر اللہ کی نصرت مانگتے ہیں، بارش اور سردی نے دھرنے میں شریک بوڑھوں کو بیمار تو کر دیا مگر ان کے حوصلے نہ توڑ سکی۔
خبر یہ بھی ہے کہ دھرنے میں شریک حضدار کے 70سالہ بزرگ سیف اللہ اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 80سالہ بزرگ محمد اختر کا دھرنے میں ہی انتقال ہوگیا‘ اللہ پاک ان بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور کوئی حکومتی ترجمان بتانا چاہے تو ضرور  بتائے کہ 70سالہ سیف اللہ اور 80سالہ محمد اختر کن مدرسوں کے ’’معصوم‘‘ بچے تھے اور یہ بھی کہ ’’را‘‘ اور این  ڈی ایس نے ستر اور اسی، اسی سال کے ’’معصوم‘‘ بچوں کو دھرنے میں بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟
مولانا فضل الرحمٰن ذہانت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں شاید اسی لئے اب ان کے لہجے میں اداروں کے حوالے سے  کافی نرماہٹ پیدا ہوگئی ہے، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ  ’’مولانا‘‘ فوج کے سیاسی کردار پر تو شاکی ہیں مگر ملکی دفاع کے حوالے سے پاک فوج کے کردار سے نہ صرف مطمئن بلکہ سلام عقیدت بھی پیش کرتے رہے ہیں اور یہ بات ہے بھی حقیقت ہے کہ اس ملک کے دفاع کی خاطر پاک فوج کے بہادر جوان آج بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے نظر آرہے ہیں، کسی  فرد واحد کی غلطی کی بنیاد پر کسی بھی ادارے کے لئے غلط تاثر قائم کرنے کی روایت بہرحال درست نہیں  ہے۔
پاک فوج وہ واحد قومی ادارہ ہے کہ جس کے منظم ہونے  پر پوری قوم کو فخر ہے اس لئے میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور اس منظم قومی ادارے کے درمیان کوئی دوری، دشمنی  یا نفرت پائی جاتی ہے ۔ انتخابات کے دوران اگر فوجی جوانوں کی پولنگ اسٹیشنز پر تعیناتی نہیں چاہیے تو اچھی بات ہے، لیکن فوجی ترجمان کی اس بات کا جواب بھی سوچ لیا جائے کہ  ’’پاک فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کریں، فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے، فوج غیر جانبدار ادارہ اور ملکی دفاع کے کاموں میں مصروف ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فضل الرحمٰن ملک سے محبت کرتے ہیں۔
جس طرح مولانا فضل الرحمٰن ملک سے محبت کرتے ہیں بالکل اسی طرح پاک فوج بھی ملکی سلامتی کا سب سے بڑا ضامن ادارہ ہے اور اس ادارے کی ساری صلاحیتیں، ساری وفائیں اور محبتیں پاکستان کے لئے ہی وقف ہیں، جب دونوں اطراف کا محبوب ’’پاکستان‘‘ ہے تو  چاہیے کہ وہ اب اس مشترکہ محبوب  ’’پاکستان‘‘ کو سنوارنے اور مضبوط بنانے کے لئے ضد، ہٹ دھرمی اور جھوٹی انا کے خول سے باہر نکل کر مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کچھ ’’بونے‘‘ میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’’مولانا‘‘ کا یہ آزادی مارچ اور دھرنا خدانخواستہ کسی سیکیورٹی ادارے کے خلاف ہے، میں ان ’’بونوں‘‘ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس قسم کا غلط تاثر پھیلا کر پاکستان  دشمنوں کی ہی مدد کر رہے ہیں، آئی ایس پی آر کے ترجمان جس فضل الرحمٰن کی پاکستان سے محبت کی گواہی دے رہے ہیں اس مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے حوالے سے یہ کہنا کہ یہ فوج مخالف دھرنا ہے بدترین زیادتی کے مترادف ہے۔
رہ گئی بات پیپلزپارٹی اور مسلم  لیگ (ن) کی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی، قارئین جانتے ہیں کہ یہ خاکسار پہلے دن سے ہی یہ بات لکھتا چلا آرہا ہے کہ یہ دونوں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں ہونے کے باوجود اپنے اپنے مفادات کی ’’اسیر‘‘ ہیں،کراچی سے لے کر اسلام آباد تک مارچ اور دھرنے میں شرکت کرنے والے نوے فیصد سے زائد لوگ مولانا کی جماعت کے مذہب پسند ہیں، اگر اس دھرنے میں مسلم  لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو بھی لائے جانے کا بندوبست شہباز شریف اور بلاول کرتے تو اسلام  آباد میں تل دھرنے کی جگہ نہ بچتی، مگر شہباز اور بلاول نے ایسا کیوں نہ کیا؟ شاید اس لئے کیونکہ مہنگائی، بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور دوسرے عوامی مسائل سے بڑھ کر ان کی ترجیح نواز، مریم، زرداری اور دیگر نیب زدہ اسیر ہیں۔جمعتہ المبارک کے دن جب شہباز شریف آزادی مارچ سے خطاب کے لئے پنڈال پہنچے تو ان کے قافلے میں شریک گاڑیوں کو اس خاکسار نے خود گنا، جن کی تعداد اٹھارہ بنتی ہے،اس میں بعض کاریں ایسی تھیں کہ جن میں ڈرائیور کے علاوہ کوئی دوسرا سوار نہ تھا، اسے بھی مولانا کی ذہانت ہی قرار دے دیا جائے تو یقیناً غلط نہ ہوگا کہ ’’مولانا‘‘ نے ان دونوں بڑی جماعتوں کو عوام کے سامنے بری طرح ایکسپوز کرکے رکھ دیا، چنانچہ آج یہ بات ہر سمجھدار پاکستانی جان چکا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سیاست ’’ڈیل‘‘ کی ڈور سے بندھی ہوئی ہے۔ ’’مولانا‘‘ کے دھرنے کی طاقت سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی فائدہ ضرور اٹھانا چاہتی ہیں،لیکن عوامی مسائل پر اپنے کارکنوں کو جوق در جوق  دھرنے میں شریک بھی نہیں کرنا چاہتیں۔
سنا ہے کہ منکرین ختم نبوت اور اسرائیلی مائینڈ سیٹ رکھنے والوں میں بھی مولانا کے آزادی مارچ نے کہرام برپا کر دیا ہے،خوشی کی بات یہ ہے کہ  ’’مولانا‘‘ اور ان کے دھرنے کے ہزاروں شرکاء قادیانی اور اسرائیلی مائینڈسیٹ کے حوالے سے مکمل باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ کلیئر بھی ہیں، پاکستان عشاق رسولﷺ پر مشتمل ملک ہے، پاکستان اولیاء کرامؓ کا فیضان ہے، یہاں اسرائیل اور قادیانیت کے حوالے سے بعض عاقبت نااندیشوں نے جو ریشہ دوانیاں شروع کر رکھی تھیں،آزادی مارچ نے ان سازشیوں کو بھی شٹ اپ کال دے دی ہے۔
جداہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
جو ملک کے ایوانوں اور سیاست سے مذہب کو نکالنا چاہتے تھے، چنگیزی خورکھنے والی اس ذہنیت نے بھی جان لیا ہوگا کہ نہ سیاست سے مذہب کو جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایوانوں سے .(وماتوفیقی الاباللہ)

تازہ ترین خبریں