07:55 am
اقبال کاپاکستان

اقبال کاپاکستان

07:55 am

اقبال کاکلام انسانی فکروعمل کی تاریخ کانہائت دقیق تجزیہ ہے۔انہوں نے اپنی غیرمعمولی بصیرت کی بناپرتاریخی حوادث سے متعدددورس نتائج اخذکئے، بعض وہ نتائج بھی جوابھی رونمانہیں ہوئے تھے۔ان کایہ شعرمبنی برحقیقت ہے:

حادثہ  جو ابھی پردہ افلاک میں ہے 
عکس اس کامرے آئینہ ادراک میں ہے
برصغیرکے مسلمانوں کی تاریخ پراقبال نے خصوصیت کے ساتھ توجہ دی،انہوں نے دیکھاکہ یہ وسیع وعریض خطہ مدت تک مسلمانوں کے فکروعمل کی عظیم جولانگاہ بنارہااورانہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ ایک عظیم الشان اسلامی معاشرہ تشکیل کیاجس کے برجستہ تمدنی نقوش ناقابلِ محوہیں۔مسلمان یہاں اگرچہ دوسری اقوام کی نسبت تعدادمیں کم اورمختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے لیکن عقیدہ توحیدنیا نہیں ہمیشہ اسلام کے رشتہ وحدت میں منسلک رکھا۔ متعدد مسلمان خاندانوں نے یہاں ایک ہزارسال تک حکومت کی،ان میں غزنوی، غوری،خلجی،تغلقی،لودھی اورمغل خاندان زیادہ معروف ہیں۔یہ حکومتیں اگرچہ مذکورہ خاندانوں کے نام سے منسوب تھیں لیکن چونکہ وہ اسلامی اصولوں کی اساس پراستوارکی گئیں اوراسلامی اقدارکی حفاظت اور نشرواشاعت کیلئے کوشاں رہیں،اس لئے انہیں اسلامی حکومتوں کے نام سے یادکیاجاتاہے۔ان کے حکمران مسلمان تھے اوردین اسلام کواپنی حکومت کاتشخص اورطرہ امتیازقراردیتے تھے۔وہ اپنی قائم کردہ عدالتوں میں اسلامی قوانین رائج کرتے،مدرسوں اورمساجدکی تاسیس کرتے اوران میں اسلامی تعلیمات و روایات اورمسلمانوں کی زبان وادب کوفروغ دیتے ، اکثرسلاطین ِوقت صوفیااورعلماکی عزت وتکریم کرتے اوران سے ہدایات حاصل کرتے،صوفیاہمیشہ سلاطین کو رعایا
کے ساتھ عدل واحسان کی تلقین فرماتے۔
محمدبن قاسم کے بعدمحمودغزنوی نے مسلمانوں کیلئے ہندوستان کے دروازے کھول دیئے،محمودغزنوی نے دہلی کومسلم حکومت کادارالسلطنت قراردیا۔تمام مسلمان بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنی حکومت کی شناخت دین اسلام کوقراردیااورہرایک نے اپنے آپ کودین کے مبلغ ومحافظ اوراس کی عظمت کے مظاہرو مویدکے طورپرملقب کیا،اس حوالے سے اکثرسلاطین کے القاب قابل ملاحظہ ہوں مثلاًمعزالدین غوری، قطب الدین ایبک،شمس الدین التمش،رکن الدین فیروزشاہ، غیاث الدین بلبن،علائوالدین محمد شاہ، ظہیرالدین بابر ، نصیرالدین ہمایوں،جلال الدین اکبر، نورالدین جہانگیر، شہاب الدین شاہجہان اورمحی الدین اورنگزیب عالمگیر وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلاطین تخت نشینی کے وقت یہ اصرارکرتے تھے کہ وہ دین سلام کے تحفظ اورترویج میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔اگراحیامیں کوئی بادشاہ دینی امورکی اشاعت میں کچھ کوتاہی کرتا تو صوفیاء اورعلماء اسے متنبہ کرتے اوراس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرتے۔ صوفیامیں نظام الدین اولیا،بہا الدین ذکریا،شرف الدین بوعلی قلندر،جلال الدین بخاری،شیخ احمدسرہندی اورشاہ ولی اللہ سلاطین وقت کواسلامی احکام کی تعمیل کی تاکید فرماتے رہے۔
برصغیرکی تاریخ سے متعلق جن عظیم حکمرانوں کو اقبال نے خراجِ تحسین اداکیاان میں محمودغزنوی، اورنگ زیب عالمگیر،احمد شاہ ابدالی اورٹیپوسلطان خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکرہیں ۔یہ وہ اشخاص ہیں جنہوں نے پرچمِ توحیدکوہمیشہ بلندرکھااورباطل قوتوں سے نبردآزما ہوئے۔ اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کا عظیم الشان معاشرہ بادشاہوں اورامیروں کی اخلاقی بے راہروی کی بناپرفتنہ وفساداور انتشار کا شکارہوا تو اقتدار انگریزوں کے ہاتھوں میں چلاگیا۔اس کے بعد مسلمانوں کی بیداری میں سرسیداحمدخان،شبلی نعمانی، مولانا حالی،  اکبرالہ آبادی اورسب سے بڑھ کر اقبال نے نہائت اہم کرداراداکیا۔ اقبال نے ہندوقوم کے تاریخی کردار اوراس کے عصری خطرناک عزائم کوپیشِ نظررکھتے ہوئے مسلمانوں کے دین ومذہب،جان ومال اورتہذیب وتمدن کی حفاظت کیلئے اپنی فکری اورعملی توانائیاں وقف کردیں۔انہوں نے فرمایا:
’’آئندہ نسلوں کی فکرکرناہمارافرض ہے،ایسانہ ہوکہ ان کی زندگی گونڈاوربھیل اقوام کی طرح ہوجائے اوررفتہ رفتہ ان کادین اورکلچراس ملک میں فناہو جائے ‘‘۔
 اقبال نے برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک آزادمملکت کاتصورہزارسالہ اسلامی تمدن کی حفاظت اوربقاکیلئے پیش کیا،ان کے نزدیک مذہب قوت کے بغیر محض ایک فلسفہ ہے۔انہوں نے فرمایا’’اگرہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام ایک تمدنی قوت کے طورپرزندہ رہے تواس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے‘‘۔
 اقبال اسلام کے بغیرمسلمان کی زندگی کاتصور بھی نہیں کرتے تھے،وہ مسلمانوں کی آزادی کی حفاظت صرف نفاذِاسلام کیلئے چاہتے تھے۔انہوں نے فرمایا: ’’اگرہندوستان میں مسلمانوں کامقصدسیاست سے محض آزادی اوراقتصادی بہبودہے اورحفاظتِ اسلام اس مقصدکاعنصرنہیں جیساکہ آج کے قوم پرستوں کے رویئے سے معلوم ہوتاہے تومسلمان اپنے مقاصدمیں کبھی بھی کامیاب نہ ہوں گے‘‘۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں