07:55 am
ملکی معاملات نجوم و وجدان کے میزان میں

ملکی معاملات نجوم و وجدان کے میزان میں

07:55 am

الحمد اللہ چار ، پانچ نومبر خیریت سے گزر گئی ہے جبکہ مولانا کا اجتماع جم غفیر کی صورت موجود ہے۔ میں نے حنفی دیوبندی مفکر مفتی عبدالخالق آزاد ماہر علوم و افکار شدہ ولی اللہ محدث دہلوی کو لاہور میں رابطہ کرکے مبارکباد دی کہ آپ کا مسلک تو چھا گیا ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ مگریہ سب سیاسی اجتماع تو استعمار کے لئے ہے اس سے خیر کہاں برآمد ہوتی ہے؟ یہی پیغام میں مولانا فضل الرحمٰن کے منطق و درس نظامی قوت ارادی کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ کاش مولانا مسلم لیگی ہوتے، جمعیت العلمائے ہند کے تاریخی وزن سے مکمل آزاد ، تو آج وہ نواز شریف کا نہ صرف متبادل ہو جاتے بلکہ وزیراعظم کا استحقاق پاتے۔ ان کی خامی صرف یہ ہے کہ اوصاف میں وہ مکمل مسلم لیگی ہیں مگر اصلاً وہ مسلم لیگی نہیں ہیں، مگر میں مولوی کی حیثیت اور اہمیت کا ہمیشہ سے ہی قائل اور مئوید رہا ہو ں لہٰذا مولانا کے اجتماع سے عمران خان کی حکومت میں موجود وافر بہت بڑی کچھ خرابیوں کا علاج بالغذاء ممکن دیکھتاہوں۔ اگلی تاریخیں اندیشہ ہائے دور دوراز کے حوالے سے 17-18 نومبر سے 25نومبر تک ہیں۔ جس طرح27-28 اکتوبر مدوجزر کی حامل ثابت ہوئیں۔4-5 نومبر فساد بپا کرتی محسوس ہوئیں۔ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ خوف پیدا کرتی افلاک سے اترتی نجوم و سموات کی کرنیں تصادم و کشمکش کو نئی زندگی دے ڈالیں۔ اگر مارشل یا سیمی مارشل لاء از قسم ایمرجنسی یا معاشی ایمرجنسی کا نفاذ امر الٰہی بن چکا ہے تو عملاً20سے24 نومبر کے درمیان ایسا ممکن ہوسکتا ہے( واللہ اعلم بالصواب)۔ عمران خان کو اگر چند اہم فیصلے از قسم کابینہ میں اہم ترین ردوبدل کرنا ہے تو وہ زمینی حقائق کے زیادہ قریب آجائیں گے۔ عمران خان کی امر الٰہی سے بھرپور نئی مقبولیت کا سورج 25-26 نومبر کو طلوع ہوسکتا ہے۔ مجھے نجوم و افلاک سے وابستہ علوم سے ذرا سا بھی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ البتہ انگریزی زبان و ادبیات کے استاد پروفیسر غنی جاوید سے 20 سالہ تعلق سے کچھ باتیں آگے بیان کر دیتا ہوں۔ پروفیسر غنی جاوید نے نواز شریف کو ملتی سہولتوں کا ذکر کررکھا تھا وہ انہیں ضمانتوں کی صورت میں مل چکی ہیں۔ مریم نواز شریف کی ضمانت بھی اصلاً نواز شریف کو حاصل ہوچکی۔ سہولتوں کا ہی اضافہ ہے مگر اندیشہ ہے آزادی پاکر مریم نواز بہت جارحانہ رویہ اپنائیں گی جس کا نقصان ملکی سیاست، مسلم لیگ اور شریف خاندان کو شدید تر ہوسکتاہے۔ فوج اور   جنرل باجوہ کے لئے17 نومبر سے 25 نومبر کے مابین شدید دبائو، کشمکش، امتحانی  لمحے موجو د ہوسکتے ہیں جس کے سبب نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں کچھ ایسے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں جو شاید پہلے وہ نہ کرنے پر کاربند تھے۔ مجموعی طور پر 2  دسمبر تک جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے بہت سے شدید خطرات موجود ہیں۔ عمران خان کی زندگی بہت اہم ہے اس کی اس عرصے بلکہ پورا دسمبر حفاظت کا انسانی مکمل بندوبست ہوناچاہیے۔ عمران خان کی ذاتی تلخ رویہ پر مبنی بیان بازی، وزراء کی غیر دانش مندانہ باتیں ایک بار پھر آگ لگاسکتی ہیں۔ ممکن ہے وزراء اور حکومتی  ترجمانوں کی عدم فراست پر مبنی بیان بازی17 سے 25 نومبر کے درمیان پھر سے پرسکون ہوتی سیاست و جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کے اسباب پیدا کر دے لہٰذا ترجمانوں، وزراء کی بیان بازی پر مکمل پابندی لگائیں ان کے ٹویٹ بند کرائیں، انہیں اپنی اپنی وزارتوں کا کام کرنا چاہیے بطور خاص شیخ رشید کو  زبان بند رکھنے پر مجبور کیاجائے۔
 
محمد خان جونیجو صدر مسلم لیگ کچھ علیل تھے پروفیسر غنی جاوید کو انہوں نے رہنمائی کے لئے بلوایا تو زائچہ بناکر جونیجو کو پر وفیسر غنی نے بتایا کہ انہیں جو بیماری لاحق ہے وہ بہت زیادہ سنجیدہ علاج چاہتی ہے و ہ سیاست چھوڑ دیں اور مکمل توجہ صرف علاج اور بحالی صحت پر مرکوز کریں۔ ان کے مشورے پر ہی وہ لندن جاکر علاج کراتے رہے مگر دو تین ہفتے کے علاج  کے باوجود وہ موت کی وادی میں جار ہے تھے ان کے بقول نوا ز شریف کی صحت بہت زیادہ تو جہ چاہتی ہے انہیں ہر قسم کی سیاست سے بہت دوراور مکمل علاج کے لئے توجہ کی ضرورت ہے اگر ان کا علاج باہر ممکن ہے تو انہیں چلے جانا چاہیے۔ مسلم لیگ اور ملکی سیاست کو وہ بالکل ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اس حوالے سے شہباز شریف کا موجودہ رویہ اور موقف درست ہے کہ ملکی مسائل کے حل  میں مثبت کردار کو اپنالینا چاہیے۔ عمران خان کی حکومت کو احتجاجی دھرنے کے ذریعے بھجوانے کا عمل جمہوریت کے مکمل خاتمے کا راستہ آسانی سے بن سکتاہے اور 25  نومبر تک ایسا سچ مچ ہو بھی سکتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کا تبدیل ہونا یوں ممکن ہے نجوم و افلاک  کے فہم کے مطابق کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ نئے سیاسی اتحاد ایجاد ہو جائیں۔ جن اتحادیوں نے عمران خان کی مدد کی بجائے خاموشی اور دوری اختیار کی ان پر انحصار ترک کرکے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جائے مگر میں اپنے تجزیہ و جدان کی روشنی میں شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی کو اقتدار میں آتا نہیں دیکھ رہا، البتہ دیگر کچھ اراکین مسلم لیگ کے لئے اقتدار میں آنا اور ملک و قوم کی خدمت کرنا ممکن دیکھتاہوں۔
 نواز شریف کو بقول پروفیسر غنی ان کے قریبی ساتھی دسمبر میں چھوڑ جائیں گے جبکہ مریم نواز شریف شدید مخالفت کے سبب تنہا رہ جائیں گی۔ اس کا مطلب میرے تجزیئے کی روشنی میں مسلم لیگ ن کا بڑا حصہ اقتدار میں شامل ہو جانے کا مئوید ہو جائے گا۔ عمران خان نواز شریف کے مقروض ہیں جب وہ لاہور میں بڑے حادثے کا نشانہ بنے تھے تو نواز شریف ان کی تیماداری کے لئے آئے تھے۔ عمران خان اپنا قرض اگر اتارنے کے لئے نواز شریف کی تیمارداری کے لئے چلے جائیں تو اس سے عمران کا قد کاٹھ بڑا ہو جائے گا اور ریاست و جمہوریت و پارلیمنٹ میں مثبت تبدیلی آجائے گی۔
پس تحریر: مولانا کی شخصیت جوزا (جیمنائی)  ہے وہ نجوم میزان میں معاہدہ کی جدوجہد میں ہیں جو انہیں شائد نہیں ملے گا ان کے مخالفین ان کے خلا ف فعال اور متحرک ہیں جو ان کے بظاہر ساتھ ہیں وہ بھی اندر سے مخالف ہیں۔

تازہ ترین خبریں