07:59 am
محسن انسانیتﷺ،غیر مسلموں کی نظر میں

محسن انسانیتﷺ،غیر مسلموں کی نظر میں

07:59 am

صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے میں ہے، دنیا چاہے جتنی مرضی جدید ہو جائے ،انسان ایک بار نہیں بلکہ سینکڑوں بار چاند پر چلا جائے  لیکن اس کی کامیابی کا انحصار حضرت محمد کریم ﷺ کا حقیقی غلام بننے میں ہی ہے۔ سکول،کالج،یونیورسٹیوں کی تعلیم ضرورت کے درجے میں ہے لیکن قرآن و سنت کی تعلیم دنیا و آخرت میں کامیابی کا زینہ ثابت ہوتی ہے۔
خاتم الانبیاء ﷺ سے نباتات، جمادات، جن و انس، حیوانات،چرند ، پرند ، شجر و حجر بھی محبت کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد نبویؐ شریف میں شہنشاہ دو عالم ﷺ  کھجور کے تنے کے ساتھ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ، دوران خطاب اکثر آپﷺ کھجور کے تنے پر دست اقدس رکھ دیتے، جب نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو دور بیٹھنے والے نمازی آپ کی زیارت نہ کرپاتے، صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کے آرام کا بھی خیال رکھتے کہ زیادہ دیر کھڑا ہونے سے آپﷺ کو تھکاوٹ نہ ہو جاتی ہو لہٰذا آپﷺ کے آرام کے لئے انہوں نے ایک منبر تیار کرنے کا سوچا،  فخر دو عالمﷺ نے بھی رائے کو پسند فرمایا تو آپﷺ کے لئے منبر تیار کرلیا گیا، جب منبر کو مسجد میں رکھ دیا گیا اور آپﷺ خطبہ جمعہ کے لئے حجرہ مبارک سے نکل کر منبر کی طرف بڑھے جیسے ہی آپﷺ کھجور کے تنے کے پاس سے گزرے اور آپﷺ تنے کے پاس رکنے کی بجائے آگے جاکر منبر پر جلوہ افروز ہوگئے تو کھجور کے تنے نے شدت غم اور جدائی میں چیخ و پکار شروع کر دی، تنا اس قدر پرسوز آواز میں رویا کہ پوری مسجد میں اسکی آواز سنی گئی۔
 رحمت دو عالم ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور تنے پر دست اقدس رکھا گلے سے لگایا اور اسے دلاسا دیا، آپﷺ کے دلاسا دینے اور گلے لگانے سے وہ خاموش ہوگیا ،پھر سرور کونین ﷺ نے بے جان تنے سے گفتگو کی اور اسے یہ اختیار دیا کہ اگر وہ چاہے تو تجھے پھل دار درخت بنا دیا جائے اور اہل ایمان تیرا پھل کھائیں اور تجھے باغ میں لوٹا دیا جائے یا تجھے جنتی درخت بنا دیا جائے، جنت میں تیری جڑیں جنت الفردوس کی نہروں اور چشموں سے فیض یاب ہوں، جنت میں تیرا پھل انبیاء رسل اور اس کے متقی بندے شوق سے کھائیں، کھجور کے تنے نے جنت کا درخت بننا پسند فرمایا۔
حضرت حسن بصریؒ نے خوب فرمایا ہے۔ اے مسلمانو ایک لکڑی اللہ کے رسولﷺ کی ملاقات کے شوق میں روتی ہے تو تم تو آپﷺ کے عشق کے زیادہ حقدار ہو، آج کل کے مادیت پرست معاشرے میں خال خال ہی کوئی خوش قسمت ہے جو عشق رسول ﷺ کے جذبے سے معمور ہے،سید عرب و عجمﷺ کے مقام اور عشق سے جانور، پہاڑ، درخت تک واقف تھے چاند آپ کے حکم پر دو ٹکڑے ہوگیا ،درخت چل کر پاس آگیا، پاگل اونٹ نے اپنا سر آپﷺ کے قدموں میں رکھ دیا ، کنکریوں  نے آپؐ  کی مٹھی میں کلمہ شہادت پڑھا۔ آج ہماری نوجوان نسل مغرب کی پرستش میں لگی ہوئی ہے۔
آئو دیکھو جن کے نقش قدم پر تم چلنے کی کوشش کررہے وہ عظمت مصطفی ﷺ کے کس طرح گن گاتے ہیں، کیونکہ تعریف وہ نہیں جو اپنے منہ کی جائے، فضلیت تو وہ ہے جس کے دشمن اور مخالفین بھی معترف ہوں۔ محسن انسانیت ﷺ کے بلند مقام اور اخلاق کی تعریف تو ان لوگوں نے بھی جو آپﷺ پر ایمان نہ لائے۔
جارج برناڈ شاہ لکھتا ہے ’’آنے والے سو سالوں میں ہماری دنیا کا مذہب اسلام ہوگا مگر یہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اسلام نہیں ہوگا بلکہ یہ وہ اسلام ہوگا جو محمد رسول اللہﷺ کے زمانے میں دلوں، دماغوں اور روحوں میں جاگزیں تھا۔‘‘
فادر ولیم لکھتا ہے ،پیغمبر اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ انسان اپنی نیک فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، آپﷺ نے مال و دولت حسب نسب یا رنگ کی بنیاد پر انسانوں کے درجے قائم کرنے کی مخالفت کی اور دنیا سے غلام و آقا، مفلس و مال کے فرق کو ختم کر دیا لیکن آج کی دنیا میں یہ امتیاز باقی ہے۔ 
نپولین بوٹا پارٹ ،اس طرح اظہار خیال کرتا ہے محمدﷺ نے اہل عرب کو اتحاد کا درس دیا۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم کئے، تھوڑی سی مدت میں آپﷺ کی امت نے نصف صدی سے زیادہ دنیا فتح کرلی۔پندرہ برس کے مختصر عرصے میں عرب کے لوگوں نے بتوں اور جھوٹے خدائوں کی پرستش سے توبہ کرلی، مٹی کے بت مٹی میں ملا دیئے گئے، یہ حیرت انگیز کارنامہ محمدﷺ کی تعلیمات اور ان پر عمل کرنے کے سبب انجام پایا۔
باسورتھ اسمتھ مشہور برطانوی مصنف،اس طرح اظہار خیال کرتاہے صبح دم ہونے والی موذن کی آواز ہر روز اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جہاں جہاں بھی آپﷺ کا پیغام پہنچا اس کا آرام طلبی پر گہرا اثر پڑا، یہ آواز یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ محمد ﷺ کو دنیا میں اللہ کی حکومت کے قیام پر اور انسان کی آزادی فکر پر کتنا گہرا یقین تھا، ان کی خصوصی  توجہ کا مرکز غلام اور یتیم تھے۔ آپﷺ چونکہ خود بھی یتیم تھے اس لئے آپﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ جو حسن سلوک ان کے ساتھ خدا نے کیا ہے وہی دوسروں کے ساتھ بھی روا  رکھیں، آپﷺ کی زندگی دراصل سورج کی طر ح ہے جس کی کرنیں پوری دنیا کو منور کئے ہوتی ہیں، آپﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک سادگی اور عاجزی کو اپنائے رکھا۔
مشہور جرمن شاعر گوئٹے ،آپﷺ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کرتا ہے اگر اسلام یہی ہے تو ہم سب مسلمان ہیں بے شک محمدﷺ کا لایا ہوا دین اخلاص انسانیت کے ساتھ ہمدردی اور معاشرے کے لئے اعلیٰ ترین اخلاقی  ہدایت ہے۔
مشہور انگریز افسانہ نگار ایچ جی ویلز کے خیالات کچھ یوں ہیں ،انسانی برابری اور انسانی اخوت کا پیغام اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مگرتاریخ میں پہلی بار جس شخصیت نے ایک باعمل معاشرہ قائم کیا وہ صرف محمدﷺ کی ذات گرامی ہے۔
پروفیسر راما کرشنارائو میسور یونیورسٹی میں پروفیسر تھے لکھتے ہیں  محمدﷺ کا قلب مبارک محبت اور اخوت سے لبریز تھا۔ آپﷺ زندگی بھر اپنے بدترین دشمن کو بھی معاف کرتے رہے ہیں۔ آپﷺ بے غرض اور نام و نمود سے دور رہنے والے تھے۔ آپﷺ  اللہ کے بندے اور پھر اس کے رسول تھے۔

تازہ ترین خبریں