08:04 am
نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

08:04 am

٭کرتار پور راہداری کا افتتاحOیوم اقبال دب گیاO لاہور ہائی کورٹ: جیل بھیجنے کے حکم پر ڈاکٹروں کی ہڑتال ختمO بجلی، پٹرول: قیمتیں بڑھا کر قیمتیں کم کرنے کا حکم!!O اب لاشیں گریں گی، فضل الرحمنO دھرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کیا جائے: شہباز شریفO نوازشریف کی حالت خراب، خون کے خلیے خطرناک حد تک کمO مریم نواز کی عدالت میں پیشیO خواجہ سلمان رفیق بھی ہسپتال میں O آزادی مارچ میں پاک فوج زندہ باد کے نعرےO نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت مل گئی۔
٭وزیراعظم پاکستان آج نارووال سے تقریباً 20 کلو میٹر دور ’دربار صاحب کرتار پور‘ کے مقام پر سکھ مذہب کے بانی گورونانک کی سمادھی تک کی راہداری کا افتتاح کریں گے۔ اس تقریب میں ہزاروں سکھ یاتریوں کے علاوہ بھارتی اہم سکھ رہنما بھی شریک ہوں گے۔ اس راہداری کا سنگ بنیاد 26 نومبر 2018ء کو عمران خان نے ہی رکھا تھا۔ سکھوں کے اس متبرک گوردوارے کی عمارت بھارت کی سرحد سے 4.7 کلو میٹر دور ہے۔ اس کے راستے کے لئے چھ لائنوں کی چوڑائی والی سڑک بنائی گئی ہے۔ سرحد پر دونوں طرف بہت سی چیکنگ چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ دربار کے علاقے میں ایک اعلیٰ ہوٹل اور لنگر خانوں کے علاوہ ہسپتال وغیرہ میں موجود ہیں۔ اس راہداری کے بارے میں 1999 میں وزیراعظم نوازشریف اور بھارتی وزیراعظم واجپائی کے درمیان لاہور میں ملاقات کے دوران پہلی بار تجویز زیرغور آئی تھی۔ اس کے بعد متعدد بھارتی حکمرانوں نے پاکستان پر زور دیا کہ یہ راہداری کھولی جائے۔ یہ ساری تفصیل چھپ چکی ہے۔ یہ قابل ذکر ہے کہ بابا گورونانک کا 550 واں جنم دن 12 نومبر کو آ رہا ہے۔ اس روز ننکانہ میں بہت بڑے پیمانے پر تقریب منعقد ہو گی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سکھوں کی اکثریت والے مشرقی پنجاب میں کرتار پور راہداری کے قیام پر جشن منایا جا رہا ہے۔یہاں دو باتوں کا خاص ذکر ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مشرقی پنجاب میں جالندھر اور دوسرے مقامات پر سکھوںکے گھروں پر پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ امرتسر میں ایسے بینر لہرائے گئے جن پر ایک طرف عمران خان اور دوسری طرف اس راہداری کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے نوجوت سنگھ کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ ان بینروں سے انتہا پسند ہندو مشتعل ہو گئے، انہوں نے سارے بینر پھاڑ دیئے۔ دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس راہداری کے بارے میں جو دستاویزی فلم تیار کی ہے اس میں 37 ویںسیکنڈ پر ایک پوسٹر دکھایا جاتا ہے جس پر بھارتی حکومت نے سخت اعتراض کیا  ہے ۔پوسٹرمیں 1984ء میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے خالصتان تحریک کے تین رہنمائوں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، سابق میجر جنرل صاحب سنگھ اور امریک سنگھ کی تصویریں نمایاں ہیں۔ میجر جنرل صاحب نے 1971ء میں مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش کی مسلح تنظیم ’’مکتی باہنی‘‘ کی تربیت کی تھی۔ اس فلم، بینروںاور پاکستانی جھنڈوں کا بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان اس راہداری کے ذریعے خالصتان کی تحریک ابھار رہا ہے۔
٭نوازشریف کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ڈاکٹروں اور بیٹی مریم نواز نے اس پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ شہباز شریف کی درخواست پر وزارت داخلہ نے باہر جانے پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجازت تو مل جائے گی مگر اہم مسئلہ یہ ہے کہ طیارے میں سفر کے لئے انسان کے پلیٹ لٹس (خون کے خلیے) کم از کم 50 ہزار ہونے چاہئیں جب کہ نوازشریف کے خلیے 55 ہزار سے گر کر(تادم تحریر) 24 ہزار تک آ چکے تھے۔ ایسی حالت میں سفر بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ لاہور سے لندن تک کم از کم پانچ گھنٹے کا سفر ہے۔ جو فی الحال ممکن نہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ ایئرایمبولینس میں سفر کیا جائے۔ پاکستان میں ایسی کوئی ایمبولینس نہیں، یہ جرمنی سے منگوانا پڑے گی۔ نوازشریف کے ذاتی ڈاکٹر عدنان بھی مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز چودھری ملز کیس میں پیشی پر مریم نواز نے کسی سیاسی موضوع پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست تو عمر بھر چلتی رہے گی اس وقت والد کی زندگی بچانے کا مسئلہ ہے۔ ان کا دنیا بھر میں جہاں بھی علاج ممکن ہو گا، ہم انہیں لے جائیں گے اور یہ کہ میرا پاسپورٹ اس وقت ہائی کورٹ کے پاس ہے، وہاں سے ملے گا تو میںبھی جا سکوں گی۔ سفر کی صورت میں فی الحال شہباز شریف نوازشریف کے ساتھ لندن جائیں گے جہاں دونوں بیٹے حسین نواز، حسن نواز اور دوسری بیٹی، ان کے سمدھی اسحاق ڈار موجود ہیں۔ کچھ حلقوں اور مبصرین کے مطابق نوازشریف ایک بار باہرچلے گئے تو پھر طویل عرصے تک واپس نہیں آئیں گے۔ انہیں بیک وقت شوگر، دل، مثانے میں پتھری، گردوں کی خرابی اور سانس کی بیماریاں لاحق ہیں ان کے علاج میں غیر معینہ عرصہ لگ سکتا ہے۔ ان کی پاکستان میں عدم موجودگی خود حکومت کے لئے بھی باعث اطمینان ثابت ہو گی۔
٭اسلام آباد میں حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان کش مکش زیادہ تیز ہو گئی۔ دونوں طرف کے رویے مزید سخت ہو رہے ہیں۔ مختلف سطحوں پر مذاکرات اور چودھری برادران کی مفاہمانہ کوششوں کے ساتھ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف سخت کلامی بھی ہو رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور چودھری پرویز الٰہی کو صاف کہہ دیا ہے کہ اب مذاکرات کے لئے آئے ہوئے عمران خان کا استعفا ضروری ہے، اس کے بغیر مت آئو۔ فضل الرحمان نے حکومت کے بعض حفاظتی اقدامات پر سخت تنقید بھی کی ہے۔ انہوں نے دھرنے کے آغاز پر فوج کی طرف سے حمائت نہ ہونے پر فوج پر سخت الزامات لگا دیئے مگر فوج کے غیر جانبداری کے واضح اعلانات اور سخت رویہ پر اچانک اپنا رویہ بدل لیا اور دھرنے میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگوا دیئے۔مولانا نے گزشتہ روز کھلی دھمکی دے دی ہے کہ استغفا نہ آنے پر دوسرے منصوبہ پر عمل کیا جائے گا اس میں لاشیں بھی گر سکتی ہیں۔ اور یہ کہ ہم اپنی لاشیں اٹھانے کو تیار ہیں اور یہ کہ اب سارے ملک کو بند کیا جا سکتا ہے۔
٭وزیراعظم عمران نے ایک رسمی معمول کا اجلاس بلایا۔ تشویش ظاہر کی اور حکم دیا کہ ملک میں مہنگائی کم کی جائے۔ یہ حکم اس لئے مضحکہ خیز ہے کہ صرف دو تین دن پہلے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمر توڑ اضافے کئے گئے۔ اب تک کئی بار اضافے ہو چکے ہیں۔ ساری معیشت بجلی اور پٹرول کے سہارے چلتی ہے۔ قوم کے ساتھ کیا مذاق کیا جا رہا ہے کہ خود شدید مہنگائی پیدا کر کے اس پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
٭گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہنگامہ ہوا۔ حکومت نے صرف ایک گھنٹے کے اندر 9 آرڈی ننس اور دو بل منظور کرا لئے اور دو سابق آرڈی نینسوں میں چار ماہ کی توسیع منظور کرا لی! اپوزیشن نے اس پر شدید ہنگامہ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر واک آئوٹ کر دیا۔ اپوزیشن کا اعتراض بالکل درست ہے۔ قانون اور روائت کے مطابق کوئی بھی بل یا آرڈیننس قانون سازی کے لئے پیش کیا جائے، اس پر حکومت اور اپوزیشن کے کم از کم دو مقررین کی بحث ضروری ہوتی ہے۔ اور یہاں کیا ہوا کہ اک دم گیارہ آرڈی ننس اور دو بِل کسی بحث کے بغیر آنکھ جھپکنے میں منظور کرا لئے گئے۔ کوئی بحث نہیں ہوئی، ان کی کوئی خوبی یا خامی سامنے نہیں آ سکی۔ بہت اہم اور قابل اعتراض بات یہ کہ اسمبلی کا اجلاس ہونے والا تھا تو آرڈی ننس کیوں جاری کرائے گئے؟ یہ صرف اسی حکومت کا معاملہ نہیں، ماضی میں ہر حکومت یہ جمہوریت دشمن رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔ اسمبلیوں کو خود قانون سازی کا موقع دینے کی بجائے ان پر آرڈی ننس مسلط کر دیئے جاتے ہیں۔ انتہا کر دی گئی ہے کہ صرف دو بل اور گیارہ آرڈی ننس! حکومت ایسے چلانی ہے تو اسمبلیوں کی ضرورت کیا ہے۔ اور ایوان صدر! جمہوریت کا بہت نام لیتا ہے اور آرڈی ننس یہ آرڈی ننس جاری کئے جا رہا ہے!! چند روز کے اختیارات ہیں، پھر یہ شان و شوکت کہاں؟

تازہ ترین خبریں