08:48 am
کرتارپور‘ مدینہ اوراقلیتوں سے حسن سلوک؟

کرتارپور‘ مدینہ اوراقلیتوں سے حسن سلوک؟

08:48 am

 ملک کی مارکیٹوں میں ٹماٹر کہیں تین سو اور کہیں چار سو روپے کلو بک رہے ہیں‘ لیکن مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مطابق ٹماٹر17روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں‘ حفیظ شیخ کو چاہیے تھا کہ وہ قوم کو اس جگہ کا بھی پتہ بتا دیتے کہ جہاں انہوں نے 17روپے کلو والی ٹماٹروں کی ریڑھی لگا رکھی ہے‘ اب بڑھتے ہیں ایک دوسرے موضوع کی طرف پاکستانی عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ عمران خان حکومت کو آج کل ہندوئوں اور سکھوں کے دل جیتنے کی بڑی فکر لاحق ہے‘ کرتار پورہ میں عمرانی وزیروں کی طرف سے ست سری اکال کے نعرے لگا کر 14اگست 1947ء کے لاکھوں شہداء پاکستان کی ارواح مقدسہ کو جس طرح سے ’’نہال‘‘ کرنے کی کوشش کی گئی اس پر انہیں مستقبل کے ’’خالصتان‘‘ کی شہریت ضرور ملنی چاہیے۔
اقلیتوں سے حسن سلوک سر آنکھوں پر‘ مگر ’’حسن سلوک‘‘ کی  یہ کون سی قسم ہے کہ کراچی میں تم نے بنی بنائی مارکیٹیں‘ ہزاروں دوکانیں اور کھوکھے ناجائز تجاوزات قرار دے کر گرا دئیے جس کی وجہ سے لاکھوں  انسان بے روزگار ہوئے اور کرتار پور 842 ایکڑ پر دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں تعمیر کر دیا جس میں مزید 800ایکڑ زمین خرید کر گوردوارے میں شامل کی گئی‘ کوئی بتا سکتا ہے کہ گوردوارے میں شامل کی جانے والی 800ایکڑ زمین قومی خزانے کو کیس بھائو پڑی؟
سکھوں سے حسن سلوک اگر جہانگیر ترین اپنے خزانے سے کرتے تو کیا بات تھی؟ پاکستان 98فیصد مسلمان آبادی پر مشتمل ایک نظریاتی ملک ہے‘ عمران خان بتائیں کہ پاکستان میں کتنی مسجدیں ہیں کہ جو آٹھ سو ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہیں؟ اگر ایک بھی نہیں تو عمران خان مسلمان اکثریت کے لئے سرکاری خزانے سے ساڑھے آٹھ سو ایکڑ پر مسجد کی تعمیر کا اعلان کب کریں گے؟
کیا عمران حکومت کے نزدیک پاکستان کے مسلمان عوام حسن سلوک کے مستحق نہیں  ہیں؟
گزشتہ روز  ایک دوست نے بتایا کہ وہاں قریب ہی ایک 95سالہ بابا جی رہائش پذیر ہیں‘ جو تحریک پاکستان کے عینی شاہد ہیں‘ میں ان بابا جی کی زیارت کے لئے ان کے گھر گیا تو وہ بڑی محبت سے ملے‘ مقام پاکستان کے وقت ان کی عمر 23سال کے لگ بھگ تھی‘ تحریک پاکستان‘ مسلم لیگ‘ کانگرس‘ احرار‘ خاکسار تحریک‘ قائداعظمؒ اور گاندھی کے حوالے سے ان سے سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دوران گفتگو انہوں نے عجیب سے لہجے میں پوچھا کہ بیٹا! تمہیں 1947ء کا مشرقی پنجاب یاد ہے نا؟ جہاں لاکھوں مسلمانوں کو ذبح کر دیا گیا تھا‘ جس مشرقی پنجاب میں حاملہ عورتوں کے کرپانوں کے ذریعے پیٹ چاک کرکے نوازیدہ بچوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا گیا تھا‘ تمہیں مشرقی پنجاب کے وہ کنو یں بھی یاد ہیں کہ سکھ بدمعاشوں کی درندگی سے بچنے کے لئے جن  کنوئوں میں کود کر سینکڑوں مسلمان بیٹیوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں؟ بابا جی کے لہجے میں تلخی بڑھتی جارہی تھی‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید تلخ ہوتے میں نے فوراً جواب دیا  کہ جی بابا جی بالکل یاد ہے۔ فرمانے لگے کہ اپنے وزیراعظم اور اس کے وزیروں کو بھی ان حرماں نصیبوں کی سوختہ جاں لاشیں ضرور یاد کروانا ‘ اور یہ بات بھی انہیں بتایا کہ شہیدوں کے لہو سے دنیا کا کوئی شخص وفا کرے نہ کرے مگر آسمان کا رب شہیدوں کے لہو سے بے وفائی کرنے والوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر عمران خان اپنے کرکٹ کے زمانے کے دوست نجوت سدھو سے یاری اپنی ذاتی جیب سے نبھانے کی کوشش کرتے اور سدھو جی کو مرزا غلام قادیانی کے دجل اور فریب سے بھی آگاہ کرنے کے بعد اسے بتاتے کہ وہ مرزا قادیانی ’’امن پسند‘‘ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس نے نبی رحمتﷺ کی ختم نبوتؐ پہ ڈاکہ  ڈالنے کی تخریب کاری کر رکھی ہو؟
سرینگر کی بیٹیاں مدد کے لئے پکار رہی ہیں اور ہم کرتار پورہ میں جشن منا رہے ہیں‘ کشمیری مسلمانوں کا بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی کرتار پورہ کے معاملے پر عمران خان کا شکریہ ادا کرے تو وزیر خارجہ قبلہ شاہ جی خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔
زیادہ دن نہیں گزرے اسلام کے اقتدار کے ایک مندنشیں کو تاریخ میں نام لکھوانے کا بڑا شوق تھا‘ رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف  تاریخ کے اوراق کی بجائے کوڑا دان کا حصہ بنا‘ چنانچہ آج وہ پاک سرزمین پہ قدم بھی نہیں رکھ سکتا‘ کہا جاتا ہے کہ حکومت چار سو مندر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘ اس منصوبے کا تخمینہ گیارہ سو ارب روپے لگایا گیا ہے‘ اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتار پور کی تقریب میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔
میں اقلیتوں سے حسن سلوک کا دل سے قائل ہوں کیونکہ دین اسلام اقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بناتا ہے‘ الحمدللہ میرے سمیت ہر پاکستانی اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک اور اقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن جس ملک میں اکثریتی آبادی رل رہی ہو اور حکمران ’’اقلیتوں‘‘ کے حوالے گھل گھل کر ہاتھی بنتے جارہے ہوں تو پھر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ جان من! ایسی بھی کیا مجبوری ہے کہ سارے مندر اور سارے گردوارے آپ  نے ہی تعمیر کرنے کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے‘ آپ سکھوں سے مواخات کیجئے‘ ہندوئوں سے مواخات کیجئے ضرور کیجئے‘ مگر تھوڑی سی توجہ اس بدنصیب قوم پر بھی دیجئے کہ جس کے آپ وزیراعظم ہیں‘ قوم کو ’’ریاست مدینہ‘‘ کا لولی پاپ اور مراعات ساری غیروں کے لئے‘ اور اس پر لیبل اقلیتوں کے حقوق کا لگا لینے سے قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی۔
وزیراعظم سمیت کئی وزراء  یہ جملہ بار بار استعمال کرتے رہے کہ ’’سکھوں کے  لئے کرتار پور ویسا ہی ہے جیسا مسلمانوں کے لئے ’’مدینہ‘‘ کہاں کرتار پور اور کہاں مکہ و مدینہ؟ مکہ و مدینہ تو وہ پاکیزہ شہر ہیں کہ جن کے بارے میں آقا مولیٰﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’مکہ و مدینہ کے سوا کوئی شہر ایسا  نہیں جہاں دجال نہ آئے‘ مدینہ کا کوئی راستہ ایسا نہیں‘ جس پر فرشتے پر  باندھ کر پہرہ نہ دیتے ہوں‘‘ (بخاری و مسلم)
وزیراعظم اور ان کے وزراء بتائیں کہ کیا کرتار پورہ کو بھی یہ فضلیتیں حاصل ہیں؟ سکھ تو کرتار پور کو کرتار پور اور گردوارے کو گردوارہ ہی کہتے ہیں مگر عمران خان اور ان کے وزراء کرتار پور کو سکھوں کا ’’مدینہ‘‘ قرار دیتے رہے‘ آخر یہ سب کیا ہے؟


 

تازہ ترین خبریں