08:49 am
ایک بیرون ملک سفر کا شہر آشوب!

ایک بیرون ملک سفر کا شہر آشوب!

08:49 am

٭صبح سے بجلی پانی بندO نواز شریف روانگی تا دم تحریر لٹکی ہوئی، 7 ارب روپے کی ضمانت طلب، ن لیگ کا انکارO فضل الرحمن: ملک بھر کا لاک آئوٹ، کھلی جنگ کا اعلانOآصف زرداری، ضمانت کی درخواست مستردO چندہ جمع کرنے والی25 ہزار تنظیموں کے لائسنس منسوخO مریم کے باہر جانے کی شرط! بیمار ہونا پڑے گاO کراچی:ایئرفورس کے میوزیم میں ابھی نندن، کپڑے، تباہ شدہ بھارتی طیارہO تھرپارکر،ٹڈی دل کا حملہO ٹماٹر، وزیروں کے مضحکہ خیز بیاناتO مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 102 دن، تین مزید کشمیری شہید۔
٭صبح سے بجلی و پانی بند ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بجلی شام تک آئے گی۔ سردی میں پنکھا تو نہ چلے مگر پانی، روشنی، استری، ٹی وی، سب کچھ بند! اور ’خوش خبری‘ سنا دی گئی ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی ختم ہو گیا ہے، آٹھ پاور یونٹ بند کر دیئے گئے ہیں! سینکڑوں برس پرانا زمانہ! جب بجلی نہیں ہوتی تھی، گھروں میں ہینڈ پمپ ہوتے تھے یا ماشکی مَشکوں میں کنوئیں سے گھروں میں پانی بھرا کرتے تھے!باہر سے آواز آتی تھی، ’’پانی آیا جے!‘‘
٭نوازشریف کی بیرون ملک واپسی عجیب تماشا بن گئی! عدالتیں، نیب کابینہ، ذیلی کمیٹی، وزیروں کی بھانت بھانت کی بولیاں، قانون کے مختلف حوالے، ایک ہی نکتہ زیر بحث کہ سزا یافتہ ملزم ایک بار باہر چلا گیا تو واپسی کی ضمانت کون دے گا! حسین حقانی، اسحاق ڈار، جنرل پرویز مشرف، سلمان شہباز، حسین و حسن نواز کی مثالیں کہ جو ایک بار باہر گیا، واپس نہ آیا! ایک بڑا فرق یہ کہ ان تمام افراد کو مفرور قرار دیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں مگر ابھی تک کسی کو بھی قید کی سزا نہیں ہوئی جو غیر حاضری میں ممکن نہیں ہو سکتی جب کہ نوازشریف کو باقاعدہ سزا ہو چکی ہے اور وہ جیل کاٹ رہے ہیں۔ انہیں بیماری کے باعث عارضی طور پر رہائی دی گئی ہے۔ انہیں ایک کیس میں سزا ہوئی ہے، تین کیس مزید چل رہے ہیں۔ ایسے شخص کو باہر جانے کی اجازت کی کوئی مثال موجود نہیں۔ اس لئے سوال پیدا ہوا کہ بیرون ملک سے واپسی کی بڑی ضمانت جمع کرائی جائے، جو ملزم کی جائیداد کی مالیت (سات ارب روپے!) کے مساوی ہو۔ پہلے تو نوازشریف نے ہی کوئی شرط قبول کرنے سے انکار کر دیا! پھر ن لیگ نے مسئلہ پیش کیا کہ ضمانت پر رہائی کے لئے جب پہلے ہی عدالت میں بھاری رقوم کے مچلکے جمع کرائے جا چکے ہیں تو نئی ضمانت کیوں طلب کی جا رہی ہے؟ یہ اعتراض اس لئے درست نہیں تھا کہ موجودہ ضمانت لاہور میں علاج کے لئے لی گئی ہے، باہرجانے کے لئے نہیں دی گئی! یہاں آ کر معاملہ اٹک گیا۔ تاہم نوازشریف کا معاملہ دوسرے تمام افراد سے اس لئے الگ ہے کہ وہ بڑی پارٹی کے ذمہ دار سربراہ ہیں۔ وہ طلب کئے جانے پر لندن میں زیر علاج، آخری سفر کے نزدیک اپنی شدید علیل اہلیہ، کلثوم نواز کو تقریباً نزع کے عالم میں چھوڑ کر پاکستان واپس آئے اور گرفتار ہو کر جیل چلے گئے۔ ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ اس کے ساتھ ہی بہت اہم بات یہ ہے کہ انہیں ایک سے زیادہ تقریباً لاعلاج امراض کا سامنا ہے، دل، جگر، خون بہنے، شوگر وغیرہ کے امراض لاعلاج شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ہر قسم کے ٹیسٹ اور علاج کے باوجود خون کے خلیے ختم ہو جانے کی تشخیص ہی نہیں ہو سکی، ایسے مریض کی فوری واپسی کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے تمام امراض کسی مقررہ مدت میں ختم ہو جانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ علاج کی مدت کئی ہفتے، کئی ماہ بلکہ کئی برسوں تک بڑھ سکتی ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اس طویل عرصے میں ان کے خلاف زیر سماعت کیس رک جائیں گے اور ان کی واپسی تک رکے رہیں گے!جو کسی ناگہانی صورت میں بند بھی ہو سکتے ہیں! نوازشریف خود باہر جانے پر اس لئے رضا مند نہیں ہو رہے تھے کہ ان کی بیٹی مریم نواز کو ان کی صرف لاہور میں تیمار داری کے لئے عارضی رہائی ملی ہوئی ہے جو ان کے بیرون ملک جاتے ہی ختم ہو جائے گی اور مریم کو جیل جانا پڑے گا۔ ایک باپ کے طور پر نوازشریف اپنی زندگی میں بیٹی کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔
٭مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق موٹر وے اور ملک بھر کی تمام بڑی سڑکوں کو بند کر کے پورے ملک کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ کالم کی تحریر تک کوئی واضح اعلان نہیں آیا مگر یہ بات کہہ دی گئی کہ جے یو آئی کے تمام صوبائی امیروں کو بی پلان پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ صوبائی تنظیموں کو صوبوں میں سے کارروائی کی ہدائت کا واضح  مطلب وہاں زندگی کے معمولات کو منجمد کرنا ہے۔ پورے ملک میں ہر قسم کی آمد و رفت تعلیمی، سرکاری و غیرسرکاری اداروں اور ہر قسم کے کاروبار کو روک دینے کا واضح مقصد پورے ملکی نظام کو تہہ و بالا کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایسا خطرناک انتقام لینے کی کبھی بھارت بھی جرأت نہ کر سکا۔ مگر کیا یہ منصوبہ پرامن رہے گا؟ فوج عدالتیں اور صوبائی پولیس کے ادارے یہ شدید انتشار خاموشی سے دیکھتے رہیں گے؟ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال نے سخت بیان دیا ہے کہ ایسی سازش سے سختی سے نمٹا جائے گا! پختونخوا اور پنجاب سے پہلے ہی ایسے انتباہ آ چکے ہیں۔ سندھ کا معاملہ مختلف ہے! کیا مولانا وہاں بھی اپنا بی پلان چلائیں گے؟ سندھ کو بھی بند کر دیا جائے گا؟ سندھ کی حکومت تو مولانا کی ناک کا بال بنی ہوئی ہے، ان کا مکمل ساتھ دے رہی ہے، اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ بہرحال بات اب واقعی بڑھ چکی ہے۔ مولانا حکم دے چکے ہیںکہ دھرنے کے شرکا کسی اور جگہ (ڈی چوک) چلنے کے لئے تیار ہو جائیں! کھلے تصادم کا خطرناک امکان!! کیا یہ سارامنظر نامہ پرامن رہ سکتا ہے؟ اگر مولانا کی مخالف مذہبی تنظیمیں ملک کو بچانے کے لئے سامنے آ گئیں تو؟ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے! عرصہ ہوا، کبھی مولانا اور ان کے کمانڈروں کے منہ سے مقبوضہ کشمیر کی حالت زار کے بارے میں ایک لفظ سننے میں نہ آیا!
٭آصف زرداری کی صورت حال بھی نوازشریف جیسی بلکہ اعتزاز احسن کے مطابق زیادہ خراب ہے۔ نوازشریف تو چلتے پھرتے ہیں، آصف زرداری وہیل چیئر پر جا چکے ہیں۔ کمر میں شدید درد ہے۔ دل، جگر خراب ہو چکے ہیں، گردوں میں پتھری تکلیف دے رہی ہے! چل پھر نہیں سکتے، ہاتھوں اور ٹانگوں میں رعشہ ہے۔ احتساب عدالت نے نوازشریف کی طرح انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے اس لئے انکار کر دیا کہ ان کے خلاف متعدد زیر سماعت کیسوں کے ساتھ نئے نئے کیس بھی کھل رہے ہیں۔ وہ خود ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ عدالت نے ان کے وکلا سے کہا کہ ضمانت کے لئے حکومت اور نیب سے رجوع کریں، وکلا نے انکار کر دیا ہے۔ یہ صورت حال بھی گھمبیر شکل اختیار کر رہی ہے۔ خدا تعالیٰ اس عظیم وطن کو محفوظ رکھے!
٭کراچی: پاک فضائیہ کے میوزیم میں 27 فروری کو کنٹرول لائن پر تباہ ہونے والے بھارتی طیارے کے ٹکڑوں کے علاوہ گرفتار ہونے والے پائلٹ ابھی نندن کا ایک باوردی مجسمہ اور اس کے کپڑوں اور جوتوں کے علاوہ چائے کی وہ پیالی بھی رکھی گئی ہے جو بات چیت کرتے وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نمائش پر بھارتی وزارت دفاع اور میڈیا آگ بگولا ہو رہے ہیں۔
٭شاہ سے بڑھ کر شاہ سے وفاداری ذہنوں کو کس طرح مغلوب اور منجمد کر دیتی ہے۔ وزارت خزانہ کے مشیر حفیظ شیخ نے درفطنی چھوڑی کہ کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو بک رہے ہیں! ایک وزیر غلام سرور خان  نے کہا کہ مَٹَر پانچ روپے کلو ہو گئے ہیں (میں نے لاہور میں 100 روپے کلو خریدے)۔ وزارت اطلاعات کی حاشیہ بردار معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان گویا ہوئی ہیں کہ ٹماٹر بھی پانچ روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ ان مضحکہ خیز بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہئے۔ یہ ملازم لوگوں کی مجبوریاں ہیں۔ ٹماٹر اور مٹر پانچ روپے کلو!! شادی کی ایک تقریب کا آنکھوں دیکھا حال: دو میراثی داخل ہوئے۔ ایک ’چودھری‘ بن گیا۔ دوسرے نے کہا کہ چودھری صاحب! آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، کچھ انعام اکرام دیں۔ ’چودھری‘ نے کہا ’’کِتنا؟‘‘ دوسرا بولا یہی کوئی چار پانچ کروڑ روپے! ’چودھری‘ بولا ’’جائو لے لو!‘‘۔ دوسرا بولا ’’لُوں کہاں سے؟‘‘ چودھری بولا ’’میں دوں کہاں سے؟‘‘
 

تازہ ترین خبریں