08:28 am
      ٹماٹر کی ٹرپل سنچری   اور نرالی معیشت 

      ٹماٹر کی ٹرپل سنچری   اور نرالی معیشت 

08:28 am

 ہمارے یارِ خاص تبریز میاں کا مطالبہ ہے کہ سونے کے بھائو کی طرح نیوز چینل دس گرام ٹماٹر کا بھائو بھی باقاعدگی سے نشر کریں ۔ ٹماٹر کی گرانی اب گھر گھر کی کہانی ہے! ٹماٹر کی دہائی دیتے ایک صحافی نے جب وزیر خزانہ مدظلہ العالی سے گرانی کی وجہ دریافت فرمائی تو آنجناب نے یہ چشم کشا انکشاف فرما کے بھونچال پیدا کردیا کہ کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر سترہ روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ تین صد روپیہ سکہ رائج الوقت فی کلو گرام قیمت پر بکنے والے نایاب ٹماٹر کی سترہ روپے میں دستیابی کا اعلان چونکہ وزیر خزانہ بزبان خود فرما چکے تھے تو ہنگامہ تو بپا ہونا ہی تھا
!
اس دعوے نے دھوم مچا دی ! عوام جوق در جوق سبزی منڈی کی جانب دوڑ پڑے کہ سترہ روپے کلو والا ٹماٹر زیادہ سے زیادہ مقدار میں خرید کر بیگمات کی نگاہوں میں اپنے درجات بلند کروا سکیں ۔ المیہ یہ ہوا کہ آخری خبریں آنے تک سبزی منڈی تو کیا کراچی سمیت ملک بھر میں عاشقانِ ٹماٹراں کو ایسا کوئی نیکدل خدا ترس سبزی فروش نہیں مل سکا جو انہیں سستا ٹماٹر فروخت کرنے پر راضی ہو ! چولہوں پہ ہانڈیاں دھرے سرخ سرخ ٹماٹروں کی راہ تکتی بیبیوں کی آنکھیں پتھرا گئیں ! عشاق گوہر مراد حاصل کئے بنا واپس لوٹے تو دل جلی بیبیوں نے وزیر خزانہ کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر صلواتیں سنانی شروع کر دی ہیں ۔ ناس پیٹی حکومت نے ہانڈیوں کی رونق چھین لی! سلاد کی پلیٹیں ویران ہیں ! وہ دن گئے جب تبریز میاں ٹماٹر کی چٹنی چٹخارے لے لے کر چاٹا کرتے تھے ! تبریز میاں منفرد سوچ کے حامل ہیں اور ٹماٹر کی گرانی کو ملت پاکستان کی بداعمالیوں اور اس خوش زائقہ عطیہ خداوندی کی قدر ناشناسی کی سزا قرار دیتے ہیں ۔ جس ٹماٹر کو آج قوم چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈتی پھرتی ہے ماضی میں اسی ٹماٹر کو بے سرے گوئیوں ، بے تکے مقررین اور بے وزن کلام اگلنے والے شاعروں پر مار مار کر دل کا غبار نکالا جاتا تھا ۔ قوم غلط کاریوں سے رجوع کرے کہیں کفران نعمت کی بدولت فارمی و دیسی انڈوں کا بحران بھی پیدا نہ ہو جائے ۔ وزیر خزانہ نے سترہ روپے فی کلو والی شُرلی کیوں چھوڑی ؟ اس معاملے پر کئی آراء سامنے آرہی ہیں جو کہ حسب دستور مستند نہ ہونے کے باوجود بے معنی ہرگز نہیں ۔ جب کابینہ کا ہر وزیر بلاناغہ کوئی نہ کوئی شُرلی چھوڑ رہا ہے تو پھر وزیر خزانہ کی معصومانہ شُرلی پر ہی اعتراض کیوں ؟ ویسے بھی اس شُرلی نے اپنے ہی تنبو میں آگ لگا کر اپوزیشن کو واویلا مچانے کا تازہ مواد فراہم کر دیا ہے۔ گرانی اپنی جگہ لیکن بقول وزیر محترم معیشت پیہم ترقی کر رہی ہے ۔ ایسی سمجھ میں نہ آنے والی ترقی کے متعلق انور مسعود صاحب نے نرالی معیشت کے عنوان سے کیا خوب لکھا 
یہ حالت ہو گئی خلقِ خدا کی
کہ مہنگائی کے ہاتھوں مر رہی ہے
نرالی ہے معیشت بھی ہماری
کہ یہ پھر بھی ترقی کر رہی ہے
 عین ممکن ہے ٹماٹر کے نرخ بیان کرتے ہوئے وزیر محترم کی زبان پھسل گئی ہو وہ سترہ سے پہلے دو یا تین سو کہنا بھول گئے ہوں ۔ عالی جناب چونکہ امپورٹڈ منسٹر ہیں اور غالباً وطن عزیز کی سرزمین پر پاکستانی کرنسی میں سبزی خریدنے کا تجربہ بھی نہیں رکھتے لہٰذا ٹماٹر کے متبادل نرخ ڈالر میں بیان فرما تے ہوئے غلطی سے روپیہ کہہ بیٹھے ۔ یہ بھی امکان ہے کہ آج سے دس بارہ برس قبل جب وزیر موصوف نے ٹماٹر اپنے دست مبارک سے خریدے ہوں تو تب بھائو سترہ روپے فی کلو ہی ہو ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نیک دل سبزی فروش وزیر موصوف کو ماضی کے خوشگوار تعلقات کی بنا پر واقعی ٹماٹر سترہ روپے فی کلو فروخت کر رہا ہو تاہم ابھی تک ایسی کوئی شہادت نہیں مل سکی کہ وزیر صاحب نے ماضی قریب میں ٹماٹر خریدنے کا شغل فرمایا ہو! عام آدمی کے لیے البتہ ٹماٹر خریدنا اب شغل نہیں بلکہ عیاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ بلاشبہ حکومت کی حکمت بھری پالیسیوں کی بدولت ٹماٹر گرانی کے اُس اعلیٰ مقام پہ فائز ہوچکا ہے کہ اُسے سونے جیسا وقار دیا جانا چاہئے! سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں عاشقِ صادق مخملی ڈبیہ میں نفاست سے رکھا سُرخ ٹماٹر محبوبہ کو پیش کرتا ہے تو فرطِ مسرت سے چھلکتے آنسووں والے دیدہ تر سے وہ خوش ادا عفیفہ یہ کہہ اُٹھتی ہے کہ ہائے اﷲ اتنا پیار! ایک تصویر میں ٹماٹر کی ریڑھی کے آگے پیچھے بندوق بردار سپاہی بطور محافظ چلے جا رہے ہیں ۔ غالب امکان ہے ملک بھر میں انجمن سبزی فروشاں ٹماٹر کی لوٹ مار روکنے کے لیے صرافہ بازار کی طرز پر سبزی منڈیوں میں مسلح محافظین کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیں۔ ابھی چند روز قبل چلغوزے کی بوریاں لوٹنے کا منفرد واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ کیا عجب اب اغوا کرنے والے تاوان میں نقدی کے بجائے ٹماٹر کی پیٹیوں یا چلغوزے کی بور یوں کا مطالبہ کرنے لگیں۔ ٹما ٹر کی ٹرپل سنچری ثقافتی اور معاشرتی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ عین ممکن ہے شادی بیاہ اور سالگرہ جیسی تقریبات میں ٹماٹر کا تحفہ دیا جانے لگے۔ احباب لڑکی والوں سے کہیں کہ شادی کے موقع پر دو پیٹی ٹماٹر ہماری طرف سے قبول فرمائیں ۔ جہیز میں ٹماٹر کی پیٹیاں اور چلغوزوں کی تھیلیاں دی جانے لگیں۔ شادی والے گھروں سے یہ نغمہ گونجنے لگے
میری اماں نے آج مجھے بھیجی!
ٹماٹر کی پیٹی ، ٹماٹر کی پیٹی 
اور چلغوزے کی تھیلیاں!

 


 


 

تازہ ترین خبریں