08:31 am
حضور ﷺ کی دو بعثتیں

حضور ﷺ کی دو بعثتیں

08:31 am

 سورۃ الجمعہ کی دوسری آیت میں دراصل آپؐ کے وظائف چہارگانہ کا بیان ہے یعنی: تلاوت آیات، تزکیہ، تعلیم کتاب اور  تعلیم حکمت۔ فرمایا:’’وہی تو ہے جس نے امیوں میں ان ہی میں سے (محمدؐ کو) پیغمبر (بنا کر)  بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور(اللہ کی)کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ۔‘‘
متذکرہ وظائف سے اُس پر اسس کا پتہ چلتا ہے جس کے ذریعے نبی کریمﷺ نے ایک عظیم الشان انقلابی جماعت تیار کی۔ وہ مشرکین مکہ جو امی تھے، جن کے ہاں پڑھنے لکھنے کا کوئی رواج نہ تھا، اڑھائی ہزار سال تک جن تک نبوت و رسالت کے انوار نہیں پہنچے تھے اور کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے، جنہیں قرآن ’’قوماًلدًا‘‘ کہتا ہے، آپؐ نے انہیں دنیا کا امام بنا دیا۔
 اس آیت میں افراد کی سیرت و کردار کی تعمیر کے ضمن میں مذکور نبی اکرمﷺ کا طریق کار اور وظائف چہار گانہ دراصل آپؐ کی چار شانیں ہیں، جن کا بڑا گہراربط ہے ان چار اسماء حسنیٰ کے ساتھ ہے جوپہلی آیت میں آئے ہیں۔ اللہ ’’الملک‘‘ یعنی بادشاہِ ارض و سماوات ہے۔ چنانچہ اس کی آیات پڑھ کر سنائی جارہی ہیں‘    جیسے کوئی منادی کرنے والا شہنشاہ کے فرامین (proclamations)  لوگوں کو سنا رہا ہو۔ گویا {یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ}عکس ہے اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی ’’اَ:لْمَلِکُ‘‘ کا۔ دوسری شان اللہ کی یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ ’’اَ:لْقُدُّوْسُ‘‘ ہے‘ یعنی انتہائی پاک۔ اللہ تعالیٰ کی شان قدوسیت کا بڑا گہرا تعلق نبی اکرم  ؐ کے بارے میں بیان کردہ دوسری اصطلاح عمل تزکیہ کے ساتھ ہے،اسی طرح  (وہ تعلیم دیتا ہے انہیں کتاب یعنی احکامِ شریعت کی) میں اللہ تعالیٰ کی شان ’’العزیز‘‘ کا عکس جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ زبردست ہے‘ مختارِ مطلق ہے‘ وہ جو چاہے حکم دے۔ بندوں کا کام ہے اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت!سورۃ التغابن میں یہ مضمون آچکا ہے:  ’’سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ سورۃ البقرہ میں سود کے بارے میں فرمایا: { کان کھول کر سن لو! اللہ نے سود حرام کیا ہے اوربیع کو حلال ٹھہرایا ہے‘ تم کون ہوتے ہو اُس پر ا عتراض کرنے والے؟ یہ ہے ’’العزیز‘‘ کا مفہوم۔ یعنی ایک ایسی ہستی جس کے اختیارات پر  کوئی تحدید نہ ہو‘ کوئی limitations نہ ہوں‘      کوئی checks and balances نہ ہوں‘    مختار مطلق!   --- اور آخری اور چوتھا لفظ جو اللہ کی شان میں آیا ہے وہ ’’الحکیم‘‘ ہے۔ اس کا ربط و تعلق گویا از خود ظاہر ہے نبی اکرم ﷺ کے فرائض چہارگانہ میں سے چوتھے کے ساتھ ہے جو درحقیقت نبی اکرمﷺ کے اساسی منہاج کا نقطۂ عروج ہے‘ یعنی تعلیم حکمت! غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل e کی دعا میں تلاوت آیات کے فوراً بعد تعلیم کتاب و حکمت کا ذکر   آیا ہے‘ تزکیہ کا ذکر آخر میں آیا ہے۔ قرآن میں باقی تینوں جگہوں پر پہلے تلاوت آیات‘ تزکیہ اور آخر میں کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب فرق کیا ہے؟ اس سے لطیف فرق یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیمd کے عہد میں اعلیٰ قدر تزکیہ تھی‘ اب یہ حکمت ہے۔ کیونکہ تین جگہ اللہ تعالیٰ نے حکمت کا ذکر آخر میں فرمایا ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ ’’الحکیم‘‘ ذات ہے۔ اور دین کے احکام میں جو حکمت ہے، اور انسان حکمت کے لیول پر جہاں تک جا سکتا ہے، اس کی تعلیم دے رہے ہیں محمدرسول اللہﷺ۔ یہ پہلی اور دوسری آیت کے درمیان خوبصورت ربط ہے۔
تیسری آیت ہے:’’اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے)جو ابھی ان (مسلمانوں سے)نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ ‘‘
یہاں اشارہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کی بعثت صرف اہل عرب کے لیے نہیں تھی۔ آپؐ کی اولین بعثت تو امیین کی طرف تھی اور امیین سے مراد بلاشبہ اہل عرب ہیں۔ لیکن آپ سابقہ نبیوں اور رسولوں کی طرح صرف ایک قوم کی طرف نہیں آئے، بلکہ آپؐ کی بعثت امیین کے ساتھ ساتھ کل روئے ارضی کے تمام لوگوں کے لیے بھی تھی۔ ’’وآخرین منھم‘‘ کے ذیل میں ایک مفہوم یہ بھی بیان ہوا کہ اُمی کا لفظ یہود غیر اسرائیلیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ تمام نوع انسانی کو Gentile اور گوئمز کہتے تھے۔ حضورﷺ کو پوری نوع انسانی کی طرف بھی بھیجا گیا۔ اس بات کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات میں بڑے واضح انداز میں آیا ہے۔ سورۃ الاعراف میں فرمایا:  ’’(اے محمدﷺ)کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول ہوں (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے‘‘۔یعنی میں اللہ کا نمائندہ بن کر آیا ہوں، لیکن صرف قوم عرب کے لیے نہیں بلکہ پوری نوع انسانی کے لیے۔ سورۃ الانبیاء کی آیت ہے:  ’’اور (اے محمدﷺ)ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر)بھیجا ہے۔‘‘ سورۃ الفرقان میں فرمایا ’’وہ (خدائے عزوجل)بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا، تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے۔‘‘ سورۃ سبا میں بھی بڑے واضح الفاظ ہیں: ’’اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ دراصل آپؐ کی دو بعثتیں ہیں: ایک بعثت خاص،  دوسری بعثت عام: آپؐ کی بعثت خاص بنی اسمٰعیل کی طرف ہوئی اور اس بعثت کے فرائض کی تکمیل حضورﷺ نے بذات خود فرمائی۔ آپؐ کی بعثت عام تمام خلق کی طرف ہوئی۔ اس کے فرائض انجام دینے کے لیے اللہ نے آپؐ کی امت کو شہداء للہ فی الارض کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ اس آیت سے اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپؐ کی بعثت پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔  
آگے فرمایا:’’یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘
 جس شخص کو بھی ایمان کی دولت نصیب ہو جاتی اُس کو اِس فضل کا ادراک ہو جاتا تھا کہ یہ قرآن کتنی بڑی دولت ہے جو ہمیں حاصل ہو گئی۔ کتنا بڑا انعام ہم پر اللہ کا ہوا۔ لیکن دوسری طرف یہود کا حال یہ تھا کہ جتنا قرآن نازل ہوتا تھا، اتنا ہی اُن کی پریشانی، کوفت اور ذہنی اذیت میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ ان کا حسد اور بڑھ جاتا تھا کہ یہ عظیم نعمت ہدایت، یہ آخری رسالت کا شرف ہمیں کیوں حاصل نہیں ہوا۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ اہل عرب نے دین کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ اگرچہ عرب دنیا میں نیک لوگوں کی کمی نہیں ، لیکن ان کی اکثریت اس وقت دجالی تہذیب کے اندر جکڑی جا چکی ہے۔ مال و دولت اور عیاشیوں نے انہیں کہیں نہیں چھوڑا۔ ظاہر ہے کہ جن کے رتبے ہیں سوا اُن کی سوا مشکل ہے۔ جن پر فضل الٰہی زیادہ ہو گا اُن پر عذاب بھی اس قدر سخت آئے گا۔ امیین کو فضل میں سبقت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ناشکری اور دین سے بے وفائی کی تو آج عذاب بھی اُن پر بہت سخت آ رہا ہے۔ خطۂ عرب آج تیسری عالمی جنگ کا میدان بننے والا ہے۔ حالات بہت تیزی سے اس طرف جا رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں آخری دور کی بڑی جنگیں ہوں گی اور ان میں بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی۔ کیونکہ آج عرب دین سے بے وفائی کے سب سے بڑے مجرم بن چکے ہیں۔ 
دوسرے نمبر پر بڑے مجرم ہم پاکستانی ہیں۔ اللہ نے ہمیں یہ ملک معجزانہ طور پر عطا کیا تھا۔ یہ دنیا میں واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، مگر 66 سال ہونے کو آ گئے، ہم نے یہاں اللہ کا دین و شریعت نافذ نہ کی۔ وہی طاغوتی نظام جو پوری دنیا میں رائج ہے یہاں پر بھی آج تک چلا آتا ہے۔ آئین میں اگرچہ لکھ دیا گیا ہے کہ یہاں پر حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہے، مگر پھر اسی آئین میں چور دروازے بھی ہیں، جو نفاذ اسلام سے فرار کا راستہ مہیا کرتے ہیں۔ دین سے بے وفائی کے نتیجے میں آج ہم عذابوں میں گرفتار ہیں۔ 




    


 

تازہ ترین خبریں