08:32 am
ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے

08:32 am

میاں نواز شریف کی بیماری اتنی شدید ہے کہ شایداس نے اڑکراہل سیاست اہل اقتدار کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی نواز شریف کی بیماری پر قابو نہیں پاسکے جبکہ حکومت وقت میاں نواز شریف پر پوری طرح قابو پائے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر اور میاں صاحب کے چاہنے والوں کی کوشش اور خواہش ہے کہ میاں صاحب جلداز جلد بیرون ملک علاج کے لئے چلے جائیں لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ ایسی کیاجلدی ہے وہ مختلف حیلے بہانے اور قانونی نکات کے ذریعے میاں کاراستہ روکے ہوئے ہے۔ میاں صاحب کے قریبی ہمدروں کا کہناہے کہ حکمران انتقام میں اندھے ہوگئے ہیں
 
ان کی کوشش ہے کہ میاں صاحب کوہاہرنہ جانے دیا جائے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت میاں صاحب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھڑاناچاہ رہی ہے۔ یہی طرزعمل ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کے وقت کیاگیاتھا۔ میاں صاحب کی بیماری کی آڑ میں میاں نوازشریف کوطبعی طور پرقتل تو کرنا نہیں چاہ رہی۔ ایک طرف انسانی ہمدردی کااظہار کیا جارہا ہے باہر جانے کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ کیسی ہمدردی ہے جو طرح طرح کی رکاوٹیں بھی کھڑی کی جارہی ہیں ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے سانپ کے منہ میں چھچوندرپھنس کررہ گئی ہے۔ نااگلتے بن رہی ہے نانگلتے بن رہی ہے۔ حکمرانی کارندے اپنی انتقامی شوخی میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کااظہار کررہے ہیں۔  بیماری جس کی تصدیق سر کار کے اپنے منتخب ڈاکٹرز کی ٹیم نے بھی کی اور میاں صاحب کے معالج نے بھی کی میاں نوازشریف کی بیماری کوئی ڈھونگ نہیں وہ حقیقت میں شدید بیمار ہیں ان کی بیماری کو مذاق بنایا جارہاہے خدا نخوستہ کل کلاں ان میاں  کے مخالفین میں سے کوئی ایسا ہی بیمار پڑجائے تو وہ بھی کیا اس ہی طریقے سے اتنی پریشان کن کیفیت کاشکار ہوکر باہر جاسکے گا یایہ رویہ میاں نواز شریف کے لئے مخصوص ہے۔ ریاست مدینہ کے حکمران نے تو ہمیشہ اپنے دشمن کومعاف فرمایا ہے یہ کیسی ریاست مدینہ تعمیر کی جارہی ہے جس کی بنیاد ہی انتقام ودشمنی پر رکھی جارہی ہے۔ ریاست مدینہ کے حکمران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم توقول کے پکے تھے۔  اللہ معاف کرے انھوں نے کبھی کسی بھی حالت میں یوٹرن نہیں لیا۔ اسلامی تاریخ اور سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہے اپنے جانی دشمن تک کو معاف فرمایا کبھی اپنی پوری حیات مبارک میں کسی سے کسی بھی طرح انتقام نہیں لیا یہ کیسی اور کس ریاست مدینہ کے خواب دیکھے اور دیکھائے جارہے ہیں۔ کیا ریاست مدینہ کو بھی مذاق بنایا جارہا ہے۔     میاں نواز شریف کی شدید بیماری کی تصدیق خود وزیر اعظم نے اپنے طور پرتحقیق کرکے کی ہے اس کے باوجود مسلسل ڈرامہ کیا جارہا ہے۔  اپنے پر سے کالک ہٹانے کے لئے پہلے انہیں گھر بھیج دیا اب باہر جانے کے راستے ایک ایک کرکے بند کے جارہے ہیں یاشاید میاں صاحب کاکوئی نادیدہ دوست نمادشمن نہیں چارہا کہ میاں صاحب اس جہان فانی سے بیرون ملک پرواز کریں۔ اگر اللہ ناکرے ایسا ہوگیاتو بھی میاں صاحب کو ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی طرح آخری منزل پہنچانے کے لئے واپس تو پاکستان لاناپڑے گا۔ اگر میاں صاحب کاوقت آہی گیا ہے تو باہر جاکر جان دینے سے توبہتر ہے کہ اپنے گھر میں ہی سفر آخر پرنکلیں تاکہ دیگر اہل خاندان کوپریشانی نہ ہو۔ یہ کیسی ستم گر ی کیسی ظالم سوچ کے لوگ ہیں جو کسی کی شدید بیماری پر بھی سنجیدگی اختیار نہیں کررہے۔ کل روز محشر اللہ کوکیا جواب دیں  گئے۔ ہمیں سب کوہی ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوجاناہے۔ کل نفس ذائقہ الموت کسی کوحیات جاویداں حاصل نہیں ہے کیاکبھی کسی حکمران نے سوچاہے کہ آج ہم جوحشر ملک پر تین بار بطور وزیراعظم رہنے والا شخص کاکررہے ہیں وہ آج کتنا مجبور وبے بس کردیاگیاہے۔   آج کے حکمران جوکچھ بورہے ہیں کل اس کی ہی فصل کاٹی جائے گی۔ یہ  ممکن  نہیں کہ ہم آج کیکر بوئیں اور کل گلاب کی فصل ہمیں حاصل ہوسکے گی جواور جیسا بویاجائے گا وہی کاٹنے کوملے گا ۔یہی اللہ کاقانون ہے اس سے کسی طرح کوئی انحراف نہیں کرسکتا۔ اب ایسا محسوس کیاجارہاہے کہ حکومت میاں صاحب کی جگہ ان کی روح کے پروازکرنے کاانتظار کررہی ہے عوام یہ ساراتماشا فی حال بڑے تحمل صبر سے دیکھ رہی ہے۔ سارا کھیل سمجھ رہی ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کادھرنا بھی دھرا رہ جائے گا۔ انھوں نے اپنے دھرنے کی بساط اسلام آباد سے لپیٹ لی ہے کچھ حاصل نہیں ہوا میاں صاحب کی بیماری اور مولانا کادھر نا اور پلان بی سب خلائی مخلوق کے رحم وکرم پر ہے۔ میاں صاحب کو ان کی ضد اور تکبر نے یہ دن دیکھائے ہیں اگر میاں صاحب اپنی انا کو اپنے گھر رکھ کرمیدان میں آتے تو ابھی تک میاں صاحب موج مار رہے ہوتے ۔ نہ یو ں تذلیل ہوتی ،نہ سزا ہوتی اور اس سزا نے ہی انھیں اس حال کو پہنچایا ہے ان کی بیماری جیل کی دین ہے یہ سب میاں صاحب کی ضدانا کانتیجہ ہے آج بھی میاں صاحب اپنی آئی چھوڑ دیں توبھی کچھ نہ کچھ حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔  مولانافضل الرحمن ان اپنے بی پلان پرعملدرآمد کے لئے نکل پڑے ہیں۔ میاں نواز شریف کو باہر جانے کے لئے حکومت نے سات ارب کی زرضمانت جمع کراکر وہ صرف چار ہفتہ کے لئے جاسکتے ہیں۔ چارہفتہ میں انہیں لازمی واپس آناہوگا چاہے علاج مکمل ہویانہ ہو۔ زرضمانت کے ساتھ بہت سی شرائط بھی لاگو ہوںگی انھیں مشروط اجازت ہوگی۔ یہ اجازت چار ہفتہ کی صرف ایک بار کے لئے ہے۔ ایسا معلوم ہورہا ہے کہ حکومت نواز شریف  کی بیماری سے کھیل رہی ہے۔ اللہ رحم کرے اور حکمرانوں کر توفیق دے ۔آمین