08:33 am
آئیے امید کاشت کر یں

آئیے امید کاشت کر یں

08:33 am

ان دنوں ایک مرتبہ پھرٹڈی دل وبا کی طرح نازل ہورہے ہیں اوردیکھتے ہی دیکھتے میلوں تک فصلوں کوچٹ کرجاتے ہیںبالکل اسی طرح وطن عزیزمیں مایوسی کے ٹڈی دل ہماری امیدوں کی فصلیں برباد کرکے رخصت ہوجاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کی گندم کی فصل کے بحران سے بڑابحران امیدکی فصل کا ہے۔ اس بحران کاسب سے افسوسناک پہلویہ ہے کہ معاشرے کے کسی طبقے کوامید کی فصل کاشت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیکن جوکچھ سامنے ہے استثنائی مثالوں کے ساتھ افسوسناک ہے۔
دنیامیں کتنے معاشرے ہیں جہاں قیادت کے شعبہ پرفائزلوگوں نے مادی خوابوں کی سوداگری کی ہے۔مادہ پرست بدترین شے سہی لیکن آنے والوں نے اس کی بنیادپرامیدکی فصلیں کاشت کی ہیں۔چین میں تین دہائی پہلے غربت کے اعدادوشمارڈرادینے والے تھے، معیشت کاحال بھی خراب تھالیکن ڈینگ ژیاپنگ نے کیمونسٹ انقلاب میں سرمایہ دارانہ انقلاب کاقلم لگایااورایک ارب انسانوں کی آنکھوں کوخوابوں سے بھردیا۔چینی قیادت نے اقتصادی اور معاشی امیدوں کی فصلیں کاشت کی اورجس کے نتیجے میں اب وہاں گلی گلی اقتصادی امیدوں کی فصلیں لہلہارہی ہیں۔مادے کواصل ماننے والوں کی جنت ارضی یہی ہے۔ان کی امیدیں بھی اسی طرح کی ہوسکتی ہیں۔
یادش بخیربھٹوصاحب نے روٹی کپڑا اور مکان  کانعرہ لگایا۔یہ ایک اسلامی معاشرے کو اقتصادی جبلت کی سطح پراتارکراسے مسخ کرنے کی  ایک صورت تھی لیکن اس نعرے میں بھی ایک خواب تھا۔اقتصادی اورمعاشی امیدوں کی ایک کہکشاں تھی۔اس کہکشاں نے غلط یاصحیح معاشرے میں حرکت بھی پیداکی لیکن اب توہما رے پاس یہ خواب بھی نہیں۔
5 اگست کی صبح مقبوضہ کشمیر میں 72سال سے غاصب بھارت کاجبرسہتے کشمیری سوکراٹھے تودنیابدل چکی تھی۔ موبائل فون دم توڑ چکے تھے۔فون کی زمینی لائنیں کاٹ دی گئی تھیں ۔  انٹرنیٹ کے رابطے منقطع ہوچکے تھے۔اچانک اسپتال پہنچنے والے نہ اپنی علالت کی اطلاع دے سکتے تھے نہ کسی نومولودکی آمدکی خوشی میں کسی کو شریک کرسکتے تھے۔سڑکوںپر بھارتی فوج کے بوٹوں کی دھمک فضامیں مزیدخوف وہراس پھیلارہی تھی۔ جنوبی ایشیامیں ایک اورسیاہ دن اندھیرے  اگل رہاتھا۔
1947 ء میں بھی15/اگست ایسی ہی ظلمتیں لے کرواردہواتھا۔72سال سے مظلوم اورمجبور کشمیری مسلسل جدوجہد میں محو اورجانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ 26/ اکتوبر1947ء کوہری سنگھ نے تقسیم ہندکے تمام اصولوں اورقواعد کی مخالفت کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کااعلان کر دیاجسے کشمیرکی مسلمان اکثریت نے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ 1953 میں بھی اگست کی ایک رات اس طرح سب کچھ بدل گیاتھاجب شیخ عبداللہ اوران کے بہت سے ساتھی نظربندکردیئے گئے تھے جبکہ شیخ عبداللہ نے توہری سنگھ کی طرف سے الحاق کی حمایت اوردوقومی نظریے کی بھی مخالفت کی تھی اورآج مودی کے ان اقدامات پرشیخ عبداللہ کی اولادکے ساتھ بھی وہی سلوک ہواجس پرانہوں نے اپنے اکابرین کی دوقومی نظریے کی مخالفت پراظہارندامت کااظہاربھی کیا ہے ۔ 
تاریخ عالم کے اوراق گواہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی جدوجہد آزادی اس وقت تک سب سے طویل جنگ حریت ہے۔نسل درنسل یہ تگ ودوجاری ہے،سرکٹ رہے ہیں، جانیں نثارہورہی ہیں۔ بھارت کے تسلط کوان سات دہائیوں میں کسی نسل نے بھی قبول نہیں کیا۔1989سے کشمیرمیں آزادی کی جدوجہدنے دوبارہ شدت اختیارکی ۔ 1990کی دہائی سے بھارت نے7لاکھ فوج کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے کشمیرکی وادی میں متعین کی،جس میں اضافہ ہوتا رہا۔بار بارکرفیو نافذ ہوتا رہا،کبھی گورنر راج ، کبھی صدر راج لیکن یہ شعلہ بجھنے نہیں پایا،یہ جذبہ سرد نہیں ہوا،اوراب دنیاکاطویل ترین کرفیوکی پابندیوں کے باوجودسفاک ہندوآج بھی ان سے خوفزدہ ہے۔
دیکھاجائے توہمارے پاس خوابوں کی کیاکمی ہے۔ہمارامذہب،ہماری تہذیب اورہما ری تاریخ ایسی ہے کہ صحرامیں بھی امیدیں بو دیں توچندمہینوں میں لہلہاتی فصلیں ہمارے سامنے ہوں گی۔آخر تحریک پاکستان کابیج ہم نے تاریخ کے صحرامیں ہی توبویاتھا۔جہاد افغانستان کی ابتدابھی بے سروسامانی کی حالت میں ہوئی تھی۔فلسطینیوں کاجہادبھی توغلیلوں سے شروع ہواتھالیکن ان آمریت کی پشت پرامید یں بڑی تھیں۔تاریخ کایہ دباتھاکہ غلیل میزائل بن گئی اورڈنڈوں کے مماثل بندوقوں نے بالآخرایک دنیاوی سپرطاقت کا شیرازہ بکھیرکررکھ دیا۔بلاشبہ کامل حقیقی توخداہی کی ذات ہے لیکن انسان نے قرآن کاپیغام جب کانوں کے راستے دل میں اتاراتو فتح ونصرت نے ہمیشہ بڑھ کران کے قدم چومے۔ 
پاکستان کاقیام خودایک بہت بڑی امیدکے برؤے کارآنے کاعمل تھااوراس میں امیدوں کااتنا بڑاخزانہ تھاکہ جس کااندازہ بھی دشوار ہے۔لیکن آج امیدکے خزانے میں امید کا کال پڑگیاہے۔یہ بالکل ایسی بات ہے جیسے تاریخ کی کتاب میں کوئی تاریخ نہ ہواورشعری مجموعے میں شاعری نہ ہو۔ امیدایک لفظ نہیں ہے یہ ایک تصورحیات ہے۔ ایسا تصور حیات جوانسان کے پورے وجودمیں یقین کے لہوکی طرح دوڑرہاہو،یہ منزل بھی ہے،سفربھی ہے ، زادہ سفربھی اور مسافر کاحوصلہ اورقوت محرکہ بھی۔
توآئیے!مایوسیوں کے ٹڈی دل کو پھلانگ کر اخلاص کے ساتھ وطن عزیزمیں امید کاشت کریں اور اپنے کشمیریوں بھائیوں کواپنے عمل  سے ایساپیغام دیں کہ اس نازک اورآزمائش کے وقت میں ایک ایسامثبت پیغام ملے جس سے ان کے جذبہ حریت کووہ حوصلہ ملے جس سے وہ غلامی کی تمام زنجیریںتوڑ کر آزادی کی نعمت سے فیض یاب ہوسکیں اوریہ اسی صورت میں ہوسکتاہے جب ہم اللہ اوراس کے نبی ﷺکی تعلیمات کا صحیح ادراک کرکے اپنی روزمرہ کے اشغال کونیک امیدوں کے تابع کردیں تاکہ دنیااورآخرت کی سرخروئی اور کامیابی کی فصل کے حقدارہوسکیں۔