08:34 am
مولانا جارہا ہے؟

مولانا جارہا ہے؟

08:34 am

بدھ شام پی ٹی آئی کے ایک دوست نے موبائل کال کرکے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس نے یہ کال صرف یہ بتانے کے لئے کی ہے کہ ’’مولانا جارہا ہے‘‘ اس کی بات سن کر میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ بھائی بے فکر رہو نہ تو ’’مولانا‘‘ لندن والوں کے پاس جارہا ہے، نہ امریکیوں کے پاس جارہا ہے اور  نہ ہی وہ ’’کینیڈا‘‘ جارہا ہے۔ ’’مولانا‘‘ اگر پلان بی کے مطابق اپنے ہی عوام کے پاس جارہا ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ مولانا لبرل، سیکولر  اور دنیائے کفر پر یہ بات عملاً ثابت کرکے پلان اے سے پلان بی کی طرف جارہا ہے کہ دین اسلام سے محبت کرنے والے امن پسند ہوتے ہیں، وہ چاہے لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہوکر بھی دھرنا دیں تب بھی نہ مخالف کو پتھر مارتے ہیں، نہ دوکانیں لوٹتے ہیں، نہ سرکاری یا نجی املاک پر حملے کرتے ہیں ،  نہ ہی سرکاری اہلکاروں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر زخمی کرتے ہیں۔
’’مولانا‘‘2014 ء کے آکسفورڈ مارکہ دھرنے اور2019 ء کے مولوی مارکہ دھرنے میں فرق کو واضح کرکے دنیا کو یہ پیغام دے کے جارہا ہے کہ ان دونوں دھرنوں میں فرق دیکھ کر فیصلہ کرو کہ فرقہ پرست کون ہے اور اصطلاح پسند کون؟ مارو، جلائو ، گھیرائو کی علت کا شکار کون ہے اور امن پسند کون؟
دھرنے سے آخری خطاب میں بھی مولانا فضل الرحمن نے یہی کہا کہ ’’دنیا نے دیکھ لیا ہم کتنے پرامن ہیں، جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی طرح پولیس اور فوج کا خون بھی عزیز ہے۔‘‘
یہ خاکسار چونکہ ’’امن پسند‘‘ ہے اس لئے مولانا کے ان جملوں کو نہایت قیمتی اور غیر معمولی سمجھتا ہے، وگرنہ اسی اسلام آباد میں ہم نے وہ دھرنا بھی دیکھا ہے کہ جب چند ہزار لڑکوں کی قیادت کرتے ہوئے عمران خان نے پولیس افسران کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کی بڑھک ماری تھی، دھاوا بول کر آبپارہ تھانے کے لاک اپ سے تحریک انصاف کے گرفتار شدہ ملزموں کو زبردستی چھڑایا تھا۔ ’’مولانا‘‘ کے دھرنے میں نہ تو کوئی لڑکی، عورت یا معصوم بچے تھے اور نہ ہی کوئی اداکارہ یا فنکار، مولانا کے لئے تو نہایت آسان تھا کہ وہ ڈی چوک کی طرف ہجوم کو لے کر بڑھتے … اگر پولیس یا فورسز سے تصادم ہوتا اور خدانخواستہ ان کے کارکن تصادم میں مارے جاتے تو وہ انہیں شہید قرار دے کر حکومت کی مت مار کر رکھ دیتے، کیوں؟ اس لئے ابھی تک پاکستانی  لیڈران یہی کچھ کرتے رہے ہیں۔ اپنے کارکنوں کے ہاتھوں پولیس اور پولیس کے ہاتھوں کارکنوں کو مروانا یہ سیکولر سیاست دانوں کا شیوہ رہا ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری نے بھی تو126 دن کے دھرنے کے دنوں میں  یہی کچھ کیا تھا، پیپلز پارٹی کا سیاسی کلچر بھی اسی سے ملتا جلتا رہا ہے، مگر ’’مولانا‘‘ نے13 دنوں تک اپنے لاکھوں کارکنوں کے دھرنے کے ساتھ اسلام آباد میں موجود رہنے کے باوجود نہ پولیس سے تصادم کی راہ اختیار کی نہ پتھرائو اور جلائو، گھیرائو کے راستے کو اپنایا۔
27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوکر13 نومبر کو اسلام آباد میں ختم ہونے والا آزادی مارچ اور دھرنا دنیا کو یہ پیغام دے گیاکہ انسانی سمندر کی موجودگی میں بھی میٹرو بس چلائی جاسکتی ہے، انسانوں کے جم غفیر کے دوران بھی ایمبولینسوں اور بوڑھوں کو عزت کے ساتھ راستہ دیا جاسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے کارکنوں، فوج اور پولیس کے خون کو یکساں احترام دے کر انسانی لہو کو جس طرح سے عزت اور توقیر بخشی ہے اس کی وجہ سے اس کے سیاسی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اگر پلان بی پر عمل درآمد کے دوران بھی ’’مولانا‘‘ کے کارکن امن کی اسی پالیسی پر گامزن رہے تو دوست دشمن سب ہی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ براعظم ایشیاء میں مولانا فضل الرحمن جیسا امن پسند کوئی دوسرا سیاست دان نہیں ہے۔
بعض بیوقوف پوچھ رہے ہیں کہ ’’مولانا‘‘ نے اس دھرنے  سے پایا کیا؟ کوئی انہیں بتائے کہ ’’مولانا‘‘ نے اس دھرنے سے پایا ہی پایا، گنوایا کچھ نہیں۔25 جولائی 2018 ء کے بعد کچھ لوگ ڈھول بجا رہے تھے کہ ہم نے ’’مولانا‘‘ کی سیاست ختم کر دی ہے، آج صرف15 مہینوں  بعد حکومتی حلیف چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی بھی تسلیم کررہے ہیں کہ اپوزیشن کے اصل سب سے بڑے قائد اور لیڈر مولانا فضل الرحمن ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے ٹی وی ٹاک شوز میں ایک ہی طرح بسے اور چھلے ہوئے چہرے دیکھ دیکھ کر قوم ذہنی مریض بنتی جارہی تھی، لیکن مولانا کے دھرنے کی برکت سے اب بھاری پگڑی اور گھنی داڑھی والا مولوی ہر ٹاک شو میں اسلام اور جمہوریت کا مضبوط دلائل کے ساتھ دفاع کررہا ہوتا ہے۔
جو عناصر ’’مولانا‘‘ اور پاک فوج کے درمیان تنائو کی افواہیں پھیلا رہے تھے، دھرنے میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاکر ان افواہوں کا بھی گلا گھونٹ دیا گیا، میں تو پہلے دن سے ہی لکھ رہا ہوں کہ ملا، ملٹری الائنس تو ہوسکتا ہے لیکن ملا، ملٹری دشمنی نہیں، کبھی نہیں، اس لئے کہ پاک فوج ملکی سرحات کی پہر ے دار  ہے تو مولوی اسلام کے پہرے دار، فوج اپنے جس جہادی ماٹو پہ ہے وہ اسلام ہی کا تو بیان کردہ جہاد ہے، ملا اور ملٹری کے درمیان غلط فہمیاں ضروری ہوسکتی ہیں  مگر دونوں میں دشمنی کبھی بھی نہیں ہوسکتی اور ہونی بھی نہیں چاہیے، مولانا کے امن مشن اور پرامن ایجنڈے سے فائدہ اٹھا کر حکومت کو کوشش کرنی چاہیے تھی کہ وہ ان کے ساتھ مضبوط بنیاد پر مذاکرات کرتی مگر جو حکومت کرکٹر نجوت سنگھ سندھو کی دوستی پر فدا ہو رہی ہو ، اسے مولانا فضل الرحمن جیسے جہاندیدہ سیاست دان سے کیا لینا دینا۔
گزشتہ روز کسی نے مجھے نجوت سدھو کا ایک وڈیو کلپ بھیجا ، اس کلپ کو دیکھ کر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ نجوت سدھو قادیانیوں کے کسی سیمینار میں تقریر کررہا ہے اور اس تقریر میں وہ ملعون مرزا قادیانی کی تعریفوں کے ایسے پل باندھتا ہے کہ الاامان و الحفیظ ۔میرا وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سے کہنا ہے کہ کرتارپور کی تقریب میں اتنی تعریف اس نے عمران خان کی نہیں کی قادیانیوں کے سیمینار میں جتنی تعریف سدھو نے مرزا غلام قادیانی کی کر ڈالی، حالانکہ مرزا قادیانی ملعون نے نہ تو کرتارپور کی راہداری کھولی تھی اور ن ہی ساڑھے آٹھ سو ایکڑ پر سکھوں کے لئے کوئی گوردوارہ تعمیر کروایا تھا۔
پیر نور الحق قادری اگر سدھو جی سے پوچھ لیں کہ وہ وزیراعظم عمران خان اور ملعون مرزا قادیانی دونوں میں سے بڑا امن پسن اور صلح جو لیڈر کسے سمجھتا ہے؟ میرے نزدیک تو ملعون مرزا وزیراعظم عمران خان کے پائوں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔