08:35 am
  دھرنا ناکام، سڑکیں بند، بھارت میں جشن

  دھرنا ناکام، سڑکیں بند، بھارت میں جشن

08:35 am

٭دھرنا ناکام۔ بوریا بستر سمیت واپس، اب ملک بھر میں سڑکیں بندOحکومت کا سڑکیں بند ہونے پر سخت کارروائی کا انتباہO ملک بند ہونے پر شدید انتشار کا خطرہ، مسئلہ کشمیر دبا دیا گیا بھارت میں جشن!!!Oنوازشریف کے بیٹوں اور بھائی کا واپسی کی ضمانت دینے سے انکار، خون کے خلیے 18 ہزار رہ گئےO چودھری شجاعت کا عمران خان کو ماتھے پر کالک کے داغ کا طعنہO تیزگام ٹرین کا نیا حادثہ، انجن، دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیںO دھرنے میں محمود اچکزئی کا تقریر کرنے سے انکار۔
٭13 دنوں کے قیام و طعام اور کھیل تماشوں کے بعد مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں دھرنا ناکام ہو گیا۔ شدید سردی بڑھ گئی، راشن بھی ختم ہو گیا۔ تمام شرکا بوریا بستر اٹھا کر کراچی، کوئٹہ، پشاور اور آزاد کشمیر واپس چلے گئے! ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ ’’کیوں آئے تھے، کیوں جا رہے ہیں؟‘‘ اب اس دھرنے کو چاروں صوبوں میں درجنوں مِنی دھرنوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ دو بجے دوپہر (14 نومبر) کو ملک بھر کی سڑکوں کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ کراچی کوئٹہ روڈ وغیرہ کی کچھ سڑکوں پر جے یو آئی کے ’مجاہدین‘ نے سڑکیں بند کر دیں۔ ان پر گاڑیوں کی لمبی قطاریںلگ گئیں۔ ’مجاہدین‘ کو پولیس وغیرہ سے تصادم کی خصوصی ہدایات کر دی گئی ہیں۔ ان کے پاس فی الحال لاٹھیاں ہیں مگر اسلحہ کے بغیر تصادم نہیں ہو سکے گا۔ پولیس کے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پھر فائرنگ کا جواب صرف لاٹھیاں کیسے دے سکیں گی؟ اور وہ بھی کب تک؟13 دنوں کے بے نتیجہ دھرنے کے دوران سخت سردی اور شدید تھکن سے چُور افراد کا دوبارہ واپسی کے سینکڑوں کلو میٹر سفر کے بعد تصادم! یہ ہزاروں سادہ دل، سادہ لوح افراد بے حد و حساب عقیدت کی بنا پر ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں مگر انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی کہ جس اسمبلی کو مولانا دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہے ہیں، اسی اسمبلی میں ان کا بیٹا اور دوسرے 13 ارکان کیوں موجود ہیں؟ کیا یہ بھی دھاندلی کے ذریعے کامیاب ہوئے ہیں؟ ’دھاندلی کرانے والوں‘ نے انہیں اسمبلی تک کیسے جانے دیا؟ پھر یہ کہ مولانا نے اسی اسمبلی کے ذریعے خود ملک کا صدر بننے اور بیٹے کو سپیکر بنوانے کے لئے جدوجہد کیوں کی؟ یہ سوال اپنی جگہ کہ مولانا نے 10 سال تک کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی میں کشمیر کے لئے کیا کیا؟ کبھی کنٹرول لائن پر نہیں گئے! اِس دوران ملنے والے 50 کروڑ کے فنڈز کا حساب کیوں نہیں دیا؟اب اس دھرنے کے لئے کروڑوں اربوں کے فنڈز کہاں سے آئے؟
دھرنے میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے بھی وہی کام کیا جو  مرہٹہ سردار سیواجی نے مغل کمانڈر افضل خاں کے ساتھ کیا تھا (بغل گیر ہوتے وقت پیٹ میں چھرا گھونپ دیا تھا) مولانا کے آزادی مارچ (زمین پر لیٹ کر مارچ؟) میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت آئی، بنی بنائی سٹیج پر عمران خاں کے خلاف پرجوش تقریروں میں دل کا غبار نکالا، اپنی پارٹی کا منشور اچھالا اور گھروں میں جا کر سو گئے۔ دوبارہ نہیں آئے۔ دھرنے میں بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا۔ مگر پھر کوئٹہ سے آنے والے ہم خیال محمود اچکزئی نے دھرنے میں تقریر کرنے سے انکار کر دیا! وجہ صاف ظاہر کہ اس دھرنے سے بھارت تو بہت خوش ہو رہا تھا، جشن منا رہا تھا کہ اس کی بجائے دھرنے کی مقتدر قیادت کے اسلام آباد پر حملے میں اس کے پاکستان کے خلاف مقاصد بیٹھے بٹھائے ازخود حاصل ہو رہے تھے! مگر محمود اچکزئی کے محبوب افغانستان کو کیا حاصل ہونا تھا؟ جس کا پاکستان کی ضیافتیں کھا کر سرحد پر حملے کرانے والا نام نہاد صدر اشرف غنی اب صرف چند روز کا مہمان ہے۔
٭دھرنوں کی باتیں بہت ہو چکیں، ان سے ملک کو جو نقصان پہنچا اس کا اب تک مداوا نہیں ہو رہا۔ عمران خانی دھرنے والوں نے براہ راست پارلیمنٹ اور ٹیلی ویژن پر حملے کر کے وسیع پیمانہ پر توڑ پھوڑ کی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے میں اپنی قبر کھدوا لی، ہر طرف آہ و زاری بلند ہونے لگی۔ قبر تو اسی طرح پڑی رہی اور موصوف شاندار گاڑی میں لاہور واپس روانہ ہو گئے۔ زاروقطار رونے والے سِسکتے عقیدت مند منہ دیکھتے رہ گئے! مولانا فضل الرحمن کا دھرنا! اسلام آباد کے کنارے پر اعلیٰ کھانے کھاتا، فٹ بال اور دوسرے کھیل کھیلتا رہا۔ 13 دن پورے گئے (عالمی سطح پر 13 کا ہندسہ منحوس قرار دیا جاتا ہے13 نومبر سابق صدر سکندرمرزا کا یوم وفات بھی ہے) شدید سردی شروع ہو گئی۔ دھرنے کے درجنوں شرکا ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ نمونیہ سے دو شرکا جاں بحق ہو گئے، دو مریض اس وقت بھی ہسپتال میں نازک حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس 13 دنوں کی مارا ماری سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ عمران خان  وزیراعظم کے عہدہ پراسی طرح بیٹھا رہا۔ اور اب! اسلام آباد میں اتنے بڑے اجتماع (جے یو آئی کے مطابق 15 لاکھ افراد) سے کچھ حاصل نہ ہو سکا تو چاروں صوبوں میں تقسیم ہونے والے درجنوں تھکے ماندہ چھوٹے چھوٹے دھرنے کیا انقلاب برپا کر سکیں گے؟ اور پھر کتنے دن؟ پولیس اور فوج کیا خاموشی سے دیکھتے رہیں گے! سڑکیں اسی طرح مستقل بند رہیں گی؟ اور کیا خوش خبری سنائی ہے مولانا نے کہ ہم شہریوں کو پریشانی سے بچانے کے لئے  شہروں کے اندر دھرنے نہیں دیں گے بلکہ ان کی ’سہولتوں‘ کے لئے شہروں کے باہر کے داخلی راستے بند کر کے شہریوں کو دودھ، سبزیوں، پٹرول اور دوائوں وغیرہ کی فراہمی روک دی جائے گی!! ویسے کیا یہ شہری اس بات پر خوش نہیں ہوں گے کہ مولانا ہر نئے ہنگامے کے آغاز پر ان شاء اللہ ضرور فرماتے ہیں!
٭دھرنا سارا کالم لے گیا۔ اس کی ایک بڑی ’کامیابی‘ بہر حال یہ ہے کہ دہلی میں بھارت کے ایک وزیراعظم کے انتہائی پرتپاک خیرمقدم اور خصوصی میزبانی کے جواب میں 13 دنوں کے دھرنے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں کرفیو (102 دن) کی حالت زار کے بارے میں قوم کی توجہ کو دبا دیا گیا۔ مجال ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت کسی ایک مقرر نے مقبوضہ کشمیر پر اترنے والی قیامت کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا ہو!شاید یہی اصل مقصد اور مشن تھا اور اب بھی ہے!
٭نوازشریف (عمر،25 دسمبر کو70 سال) کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ مگر باہر نہ جا سکے۔ ملک کا پہلا مریض جس کا ہسپتالوں کے جدید ترین سپیشل وارڈوں اور لیبارٹریوں، آپریشن تھیٹروں سے نکال کر گھر کے ڈرائنگ روم میںعلاج کیا جا رہا ہے۔ حکومت اپنی ضد پراڑی ہوئی ہے کہ ساڑھے سات ارب روپے کے مساوی املاک کی ضمانت جمع کرائو اور عدالت کے فیصلے کے مطابق چار ہفتے کے علاج کے لئے ملک سے باہر چلے جائو! نوازشریف نے یہ شرطیں ماننے اور بھائی شہباز اور لندن میں اربوں کھربوں کی جائیدادوں کے مالک دونوں بیٹوں نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے (حسن نواز نے لندن میں 5 ارب کا گھر خریدا ہے) اب معاملہ عدالت میں جا رہا ہے جو پہلے ہی انکار کر چکی ہے۔ ستم یہ کہ حکومت کے بلند و بالا عہدوں میں شریک چودھری برادران نے فضل الرحمان سے بغل گیر ہونے کے بعد عمران خاں کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ چودھری شجاعت کا بیان کہ عمران خان  نوازشریف کو باہر جانے دو ورنہ تمہارے ماتھے پرکالک کا داغ لگ جائے گا۔ چودھری برادران خود کھرب پتی ہیں۔ وہ اپنی بے پناہ جائیداد کا ایک چھوٹا سا حصہ نوازشریف کی ضمانت کے لئے پیش کر سکتے ہیں مگر شائد انہیں بھی موصوف کی واپسی کا اعتبار نہیں!!
٭ٹماٹروں کی وزارت کے مشیر حفیظ شیخ نے ٹماٹروں کی قیمت 17 روپے کلو بتائی۔ بیانات وتردیدات کی خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان نے عمران خاں زندہ باد سے بیان شروع کر کے مٹر کی  قیمت صرف 5 روپے کلو کر دی۔ وزیراعظم کے خصوصی تعلقات کے وزیر غلام سرورخان نے کہا کہ میرے مَٹَر کے وسیع فارم ہیں جو چاہے 5 روپے کلو لے لے۔ یہ نہیں بتایا کہ یہ فارم کہاں ہیں؟ صبح اٹھتے ہی تروتازہ بیانات اور تردیدات کے ان ماہرین کو شائد کبھی مارکیٹ جانے کا اتفاق نہیں ہوا جہاں ٹماٹر بدستور 300 روپے کلو اور چلغوزے چھ ہزارروپے کلو بک رہے ہیں۔ روزنامہ اوصاف کے قطعہ نگار اقبال راہی صاحب نے خوبصورت بات کی ہے کہ ایک دوست کی سالگرہ پر کیک کی بجائے ٹماٹر لے جا رہا ہوں!
٭معمولی تنخواہ والے ایک بزرگ ریٹائرڈ ملازم سخت پریشانی سے دوچار ہیں۔ اتوار کو ان کی بیٹی کا نکاح ہے۔ اس کیلئے 30 ہزار روپے فوری طور پر درکار ہیں۔ میں ذاتی طور ان کے حالا ت جانتا ہوں۔ میرے نمبر 03334148962   کے ذریعے ان سے رابطہ ہو سکتا ہے۔