07:51 am
گُم گشتہ اقدار

گُم گشتہ اقدار

07:51 am

ایک بہت ہی کرم فرماقاری نے پوچھاہے کہ آپ نے وطن عزیزمیں امیدکی فصل کاشت کرنے کامشورہ توخوب دیاہے مگریہ بھی توبتائیے کہ امیدکیسے کاشت کی جاتی ہے۔ہمیں کاشت کاری سے گہری دلچسپی ہے یعنی معاملہ توتدبرکے ذیل میں آتاہے،ہمیں تفکر کی الف بے بھی نہیں آتی تو’’تدبر‘‘کیاآئے گاالبتہ ایک دوباتیں توبالکل عیاں ہیں۔مثل مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کاسہارا۔ظاہرہے کہ ڈوبتے کوتنکے کا سہارا ہوتا ہے توکاغذکی کشتی تواس کے مقابلے میں بڑی چیز ہے۔اس میں اورکچھ نہیں توکشتی کا ’’ڈیزائن‘‘ موجود ہوتاہے لیکن کاغذ کی کشتی کے ساتھ لکڑی کی چھوٹی سی نائوفراہم ہوتو کون ہوگاجوکاغذکی کشتی پرہاتھ ڈالے گا۔ ظاہرہے کہ لکڑی کی چھوٹی سی نائوکے مقابلے پرجہاز فراہم ہوتوطوفان میں گھرے ہوئے لوگ جہازہی کی طرف جائیں گے اوراگرجہازکے ساتھ’’سفینہ‘‘بھی فراہم ہوتوپھرآپ کے خیال میں پھرلوگوں کاانتخاب کیا ہوگا؟ عقل تویہی کہتی ہے کہ لوگ جہازکو چھوڑ کرسفینے کاانتخاب کریں گے۔
ظاہرہے کہ یہ’’امکانات‘‘کامعاملہ ہے۔ کاغذ کی کشتی کے مقابلے پرلکڑی کی چھوٹی سی نائوکے امکانات کروڑگنازیادہ ہیں اور لکڑی کی چھوٹی سی نائوکے مقابلے پرجہازکے امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں۔ رہاسفینہ تواس کی بات ہی کیاہے۔واضح رہے کہ امکانات میں اضافے کامطلب امیدوں میں اضافہ ہے۔امیدوں کی فی انچ یافی ایکڑپیداوارمیں اضافہ ہے لیکن ہماری مشکل کیاہے؟ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم سفینے کوبھول کرکاغذکی کشتی کی طرف’’ہماراسفینہ ہمارا سفینہ‘‘ کہتے ہوئے بھاگتے ہیں لیکن کاغذ کی کشتی کیاہے اورسفینے سے ہماری مراد کیاہے؟ کاغذ کی کشتی امریکہ ہے۔شخصی اورگروہی آمریت ہے،خودساختہ یامغرب ساختہ سیکولر ازم  ہے۔اسلامی سوشلزم ہے۔اپنی حکومت کی فکرمیں ڈوبے ہوئے حکمرانوں کی اسلام پسندی ہے،اپنی عقل پرانحصارہے اورسفینہ کیاہے؟صرف ایک اسلام اوراس کی تہذیب وتاریخ۔
لوگ پریشان ہوتے ہیں،وہ سوچتے ہیں،ایک فرد،ایک گروہ،ایک تنظیم ،ایک پارٹی،ایک جماعت، ایک حکومت اورایک ریاست کی حیثیت سے ان کامستقبل کیاہے؟بلاشبہ ان حیثیتوں میں کسی کامستقبل طے شدہ اوریقینی نہیں لیکن اسلام کامستقبل طے شدہ ہے۔ اسلام ہی حق ہے۔اسلام ہی غالب آئے گا۔کل عالم اسی کاہے۔اسلام کی دائمیت یقینی ہے جو ’’دائمی‘‘ کے ساتھ ہوگاوہ بھی دائمی ہو جائے گا۔سلیم احمدکیاخوب یادآئے:
اک پتنگے نے اپنےرقص آخرمیں کہا                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                            روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جائیے
لیکن زیربحث موضوع کے حوالے سے اصل مشورہ یہ ہے کہ’’دائمی‘‘کے ساتھ رہیے’’دائمی‘‘بن جا ئیے،البتہ ہماری کوشش یہ ہے کہ کیکربوتے ہیں اوراس سے انگورتوڑنے کی آرزوکرتے ہیں۔تنکے کوکشتی اور کاغذکی نائوکوسفینہ سمجھتے ہیں اوروہ ڈوب جاتے ہیں توخودبھی مایوس ہوتے ہیں اوردوسروں کوبھی مایوس کرتے ہیں۔ذراغورتوکیجئے ہم کاغذکی کتنی کشتیاں ڈبوچکے ہیں لیکن ہماری خودفریبی ہماراساتھ نہیں چھوڑتی۔ہم بنجرزمینوں میں کاشت کاری کے جوہر دکھاتے ہیں اور صحرامیں’’کلیاں‘‘کرکے اسے سیراب کرنے کی آرزوکرتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ زندگی کے عام معاملات میںہم اچھی خاصی عقلمندی کامظاہرہ کرتے ہیں۔ کاروبارکرناہوتوصرف وہاں پیسہ لگاتے ہیں جہاں دوکے چاراورچارکے آٹھ آنے کی قوی امیدہو۔لوگ دائوبھی لگاتے ہیں توجیتنے والے گھوڑے پرمگراجتماعی زندگی میں جیسے ہراصول الٹ جاتاہے۔یہاں ہم نے سراسرگھاٹے کے سودے کوعزیزازجان بنایا ہواہے۔ ہم عارضی کاہاتھ پکڑتے ہیں اورعارضی بن جا تے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ چائے کی پیالی میں چائے کی پیالی کے برابرہی پانی آئے گا،آپ اس میں سمندر کیا بالٹی بھی نہیں انڈیل سکتےچنانچہ جسے پانی کی مقدار بڑھانی ہووہ ظرف بڑھائے یابڑے ظرف سے وابستہ ہوجائے۔امیدوں کے زیر کاشت رقبے اورفی ایکڑ پیداوار میں ازخوداضافہ ہو جائے گا۔
ہم گلیوں،بازاروں،حلف اٹھا کر عدالتوں، اسمبلیوں  اوراقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ کرکس دھڑلے سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں دیکرامانت میں خیانت کرتے ہیں۔ کیاساری دنیاکے سامنے ہم زبانی اورتحریری وعدے کرکے پوری مکاری کے ساتھ برملایہ نہیں کہتے کہ یہ کون سے قران وحدیث ہیں؟کیاہم نے یوٹرن کوسیاسی دانائی کانام نہیں دیا؟کیا ہمارے ذمہ جو امانت سپردکی گئی کہ جب تم حکمران بنوتوعدل وانصاف کانظام قائم کرو،اس میں کھلم کھلاخیانت نہیں کررہے؟کیاہم کشمیر کیلئے کسی بھی قسم کے جہادکوبرملارد کرکے تضحیک کے مرتکب نہیں ہوئے؟یہ سب کچھ کرنے کے باوجود آپ اپنے لئے کس منہ سے عزت وکامرانی کاحق مانگتے ہیں؟جب تک آپ یہ سب کچھ نہیں بدلتے،اس جھوٹ سے توبہ نہیں کرتے تومیرے رب کے رحمت کے فرشتے اس جھوٹ سے توکئی فرسنگ دور بھاگ گئے ہیں۔ہمیں توواضح طور پربتادیا گیاتھاکہ منافق کی تین نشانیاں ہیں کہ جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے توپورانہ کرے اورجب اس کے پاس امانت رکھی جائے تواس میں خیانت کرے۔اس امت پرہی نہیں بلکہ اس پوری دنیاکی ترقی کی بنیادہی ان تین ستونوں پررکھی ہوئی ہے۔اب آپ خودہی فیصلہ کرلیں کہ کیامیراماتم اورمیرے نالے درست نہیں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے؟
یادرکھیں ہماری ذلت ورسوائی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک ہم واپسی کاسفرشروع نہیں کرتے۔اس کاتووعدہ ہے کہ تم نے اگرایفائے عہدنہ کیاتودنیاکی رذیل قوموں سے رسوا ہو جائوگے۔آج ہم اپنے اس آقاکی پہچان بھی بھول چکے ہیں وہ جوساری دنیا کا خالق ورازق ہے،جودنیاوآخرت کے تمام خزائن کا مالک ہے،اس سے مانگنے کی بجائے ہم آئی ایم ایف اورعالمی اداروں کی تمام شرائط کوبلاچون وچرامان کربھیک کاکشکول اٹھائے دربدرہورہے ہیں۔ پھر بھلا ہم  پررحمتیں کیسے نازل ہوں؟؟
کچھ توسمٹو کہ نظر ہم بھی اٹھا کر دیکھیں
ہم کواے جلوہ بے باک حیا آتی ہے