07:52 am
مودی حکومت کے ہندو راشٹر یہ کے لئے  مسلم کش اہداف

مودی حکومت کے ہندو راشٹر یہ کے لئے  مسلم کش اہداف

07:52 am

بھارت میں نریندر مودی کے دوسرے دور اقتدار میں تیزی سے مسلم کش قوانین پر عملدر آمد ہو رہا ہے۔ دفعہ 370اور 35اے کے خاتمہ، تین طلاق ایشو اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے مضمرات کیا ہوں گے، اب مودی حکومت کا اگلا قدم کیا ہو گا، اس پر بحث جاری ہے۔ کیا مودی حکومت کا مقصد اس خطے میں کنفیڈریشن کا قیام اور ہندو راشٹریہ کا خواب پورا کرنے کے لئے بدنیتی پر مبنی ہے۔کیامسلمانوں سے صدیوں کا انتقام لیا جا رہاہے، یا یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی  ہے۔مودی گجرات ماڈل ہی پورے بھارت میں عملاً رہے ہیں۔ روکنے، ٹوکنے والا کوئی نہیں۔متشدد اور انتہا پسندی پر مبنی مودی نظریات کو ہندو نظریات میں بدل دیا گیا ہے۔یہی نئی دہلی کی سٹیٹ پالیسی ہے۔ اس کی لپیٹ میں عیسائی، سکھ ،پارسی،کمیونسٹ، شودر، بدھسٹ، جین مت کے پیروکار سبھی آ رہے ہیں۔ مگر پہلی وار مسلمانوں پر کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی جاری ہے مگر دیگر اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے تماشا دیکھ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہوں یا روسی اور چینی صدور، سبھی شاید  یہ نہیں سمجھ سکے کہ مودی کی دہشتگردی سے بھارت میں عیسائیت اور کمیونزم کو بھی شدید خطرہ ہے۔ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مودی ڈاکٹرائن میں صرف ہندو راشٹریہ کا قیام ہے۔ وہ ایک ایک کر کے غیر ہندوئوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شاید یہ کہیں احساس بھی ہو کہ اس پالیسی سے دنیا بھر میں مودی خود ہی ہندو قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ 
مبصرین کا خیال ہے کہ  نریندر مودی کے اگلے ایجنڈے میں سر فہرست مسلم پرسنل لاء کو ختم کر کے یکساں سول کوڈ قانون کا نفاذ ہوگا۔اس کے علاوبھارت  میں آسام ماڈل پر  این آر سی (نیشنل ریجسٹر آف سٹیزنز) نافذ کرنا اور شہریت کا قانون بنانا بھی بی جے پی حکومت کے بنیادی  ایجنڈے میں شامل ہے۔بی جے پی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ بی جے پی کے تین بڑے ایجنڈے ایودھیا، آرٹیکل 370 اور یکساں سول کوڈ تھے۔ ان میں سے دو کام پورے ہوچکے ہیں اور اب پارٹی یکساں سول کوڈ پر اپنا کام شروع کرے گی جبکہ  موسم سرما کے پارلیمانی اجلاس میں مودی حکومت این آر سی اور شہریت کا بل پیش کر سکتی ہے کیونکہ حکومت اس معاملے پر پہلے ہی بہت کچھ کر چکی ہے۔ یکساں سول کوڈ  انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے ایک ہی سول یا عائلی قوانین ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔یکساں سول کوڈ میں شادی،طلاق اور جائیداد کی تقسیم جیسے معاملات پر تمام مذاہب کے لیے ایک ہی قانون کا اطلاق ہوگا۔
اس وقت ہندوستانی آئین کے تحت قانون کو بڑے پیمانے پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: دیوانی (سول) اور فوجداری (کرمنل)۔شادی، جائیداد، جانشینی یعنی کنبے اور خاندان کی جائیداد کی تقسیم کے متعلق قوانین سول قانون کے زمرے میں آتے ہیں۔بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ مودی حکومت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ موجودہ لوک سبھا کے پہلے سیشن میں بی جے پی کے رکن پارلیمان نشی کانت دوبے نے ملک میں یکساں سول کوڈ کے نافذ کرنے کا مطالبہ اسی مقصد کے تحت کیا تھا۔ماہرین کہتے ہیں کہ اس بل کوتیار کرنے  میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ شادی اور جائیداد جیسے معاملات میں مختلف مذاہب کے اپنے قوانین ہیں۔ ان تمام قوانین کو یکساں کرنے سے بہت ساری برادریوں کو نقصان ہوسکتا ہے اور کچھ کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب کو ایک ہی قانون کی پیروی کرنے کے لیے منانا مشکل ہوگا۔تاہم بی جے پی کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کے قوانین پر ہندو قوانین مسلط کر دیئے جائیں۔ ایسے میں مسلم پرسنل لاء کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ اگر چہ بھارت میں یکساں سول کوڈ کا نفاذمقبوضہ  جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی زیادہ مشکل کام ہوگا،مگر مودی حکومت کو شہہ مل چکی ہے۔
بھارتی آئین میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ آرٹیکل 44 کے تحت ریاست (مرکز اور ریاستوں دونوں) کی ذمہ داری ہےمگر جہاں تک مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر کی ریاست کا تعلق ہے، اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں  تمام مذاہب کے مابین ایک ہی قانون اور ان مذاہب کی تمام جماعتوں میں ایک ہی قسم کا قانون کیسے نافذ ہو سکتا ہے۔ دنیا اس پر اسی طرح خاموشی اختیار کر سکتی جس طرح اس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر بات تو کی مگر مودی حکومت کو ان کے خاتمے پر مجبور یا آمادہ نہ کر سکی۔ گو کہ  مسلمانوں میں شادی اور جائیداد کی تقسیم کے مختلف اصول ہیں۔ اسی طرح  ہندوؤں میں مختلف برادریوں کے اندر بھی اختلاف ہے،مگر اس وقت انڈیا میں اکثریت کو اپنی بالا دستی کا نشہ ہے۔ شمال مشرقی ریاست آسام میں این آر سی نافذ کیا گیا ہے۔آسام ماڈل ہی  پورے بھارت  میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے اپنی ریاست میں این آر سی کے نفاذکا مطالبہ کیاہے۔ہندو راشٹریہ کے جنون میں ہی اس وقت مودی کو سپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہے۔ 
بھارتی عدلیہ اور میڈیا بھارتی جارحیت کو بھی درست قرار دے رہے ہیں۔ اس لئے این آر سی سے پہلے شہریت کا قانون آ سکتا ہے۔شہریت میں ترمیم کے بل میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والی ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی اقلیتی برادریوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ حیرت کے طور پر پڑوسی ممالک کے مسلمانوں کو اس قانون سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس بل میں یہ بات کی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم برادریوں کے افراد ہندوستان میں چھ سال گزار لیتے ہیں تو انھیں آسانی سے شہریت مل جائے گی۔اسرائیل کی طرح بھارت بھی انڈیا کو دنیا بھر کے ہندوئوں کی آبادکاری کے لئے موزوں بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی ہی طرح دنیا بھر سے ہندو لا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بسائے جا سکتے ہیں۔ بھارت اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس لئے اس کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے۔ اس بحث کو سنجیدگی سے لینے اور متفکر ہونے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کی نظریاتی جارحیت پر عمل سے پہلے سدباب کیا جا سکے۔