07:53 am
 شیورٹی بانڈ، قانونی حیثیت اور سیاسی ضرورت

 شیورٹی بانڈ، قانونی حیثیت اور سیاسی ضرورت

07:53 am

ہوسکتا ہے کہ جب تک یہ سطور شائع ہوں ن لیگ کو ہائی کورٹس سے انصاف مل چکا ہو اور نواز شریف علاج کیلئے ملک سے باہر جاچکے ہوں مگر اس بات سے بھی یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ پی ٹی آئی نے اس سارے معاملے میں بڑےپن کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ حکومتی رہنمائوں کو خود اپنے اعمال پر کتنی شرمندگی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس موضوع پر پریس کانفرنس کرنے کوئی عوامی شخصیت سامنے نہیں آئی بلکہ فروغ نسیم اور شہزاد اکبر جیسے لوگوں کو سامنے کیا گیا۔ فروغ نسیم ایک بہت اچھے وکیل ہیں جو اپنے موکل کی خاطر کوئی بھی جھوٹ بول سکتے ہیں ان کی کامیابی کا میزان یہ ہے کہ ان کا موکل رہا ہوتا ہے کہ نہیں یا پھر ان کے موکل کو باہر جانے کی اجازت ملتی ہے  کہ نہیں۔ اب تک وہ بہت کامیاب ثابت ہوئے ہیں مگر یہی بات شہزاد اکبر کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی کیونکہ یہ موصوف اب تک  حکومت کا کوئی کام کامیابی سے نہیں کرسکے ہیں۔
نواز شریف کو انسانی ہمدردی کی بنا پر ملک سے 14 دن کیلئے باہر جانے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ میں نے اپنی72 سالہ زندگی میں پہلی بار مشروط ہمدردی کی اصطلاح سنی ہے ۔ جو عمل مشروط ہو وہ ہمدردی نہیں سودا ہوتا ہے۔ سودا کیا ہے؟ ن لیگ ایک بانڈدے تاکہ پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کے سامنے سرخرو ہوسکے اور بدلے میں اس کے بیمار ر ہنما کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ یہ پیشکش منصفانہ ہے تو حقیقت کا اعتراف کیوں نہیں کرلیتی۔ عمران خان اور دیگر وزراء کو صاف صاف کہہ دینا چاہیے کہ ہم اپنے بیانیے کے ہاتھوں مجبور ہیں ہم ہمدردی کے دودھ میں بھی شرائط کی مینگیاں ضرور ڈالیں گے۔
آئیے اب اس مشروط ہمدردی کا قانونی جائزہ لیتے ہیں۔ ملک کے کسی قانون میں شیورٹی بانڈز کے اس قبیح استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ ملک کے تمام بڑے بڑے قانون دان اس پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔ سب کے خیالات کے مطابق حکومت نے یہ شیورٹی بانڈ مانگ کر اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے یہ کام عدالت کا تھا جو پہلے ہی مچلکے لے چکی ہے۔ایکزییٹو اس قسم کے شیورٹی بانڈز مانگنے کی مجاز نہیں ہے۔ قانونی حیثیت کی وضاحت کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ اس شوشے کی پریکٹیکل یعنی عملی ضرورت کیا تھی۔
کہا جارہا ہے کہ یہ شیورٹی بانڈ اس لئے طلب کیا جارہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ سراسر دروغ گوئی ہے۔ نواز شریف کو اس وقت دو مقدموں میں ضمانت ملی ہوئی ہے اور ضمانتوں کیلئے ضروری مچلکے بھی جمع کروا دیئے گئے ہیں۔ اب اگر وہ واپس نہیں آتے تو قانون کے مطابق ان کی دونوں ضمانتیں منسوخ ہو جائیں گی۔ ان کے ضمانتی مچلکے ضبط ہو جائیں گے۔ ان کی عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیلیں خارج ہو جائیں گی اور ان کو دی گئی سزائیں بحال ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ نواز شریف کا سیاسی مستقبل بالکل ختم ہو جائے گا۔ اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا نواز شریف واپس نہ آکر اتنی بڑی قیمت دے سکتے ہیں اور اگر وہ اتنی ساری باتوں کو برداشت کرسکتے ہیں تو انہیں شیورٹی بانڈ کی خلاف ورزی سے کیا جھجک ہوسکتی ہے۔ یہ شیورٹی بانڈ کسی طرح بھی نواز شریف پر اضافی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ یہ صرف سیاسی شوشہ ہے جسے ایک سیاسی مقصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف ملک سے باہر رہ ہی نہیں سکتے ورنہ وہ اپنی بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر واپس نہ آتے۔ پاکستان واپس آنا ان کی سیاسی اور سماجی مجبوری ہے۔
گویا شیورٹی بانڈ کی شرط نہ تو قانونی طور پر جائز ہے اور نہ ہی عملی طور پر اس کی کوئی افادیت ہے تو پھر پی ٹی آئی کی حکومت کیوں اس پر بضد ہے؟ اس کی دو تین وجوہات ذہن میں آتی ہیں۔
ایک وجہ تو یہ کہ عمران خان نہیں چاہتے کہ نواز شریف کےباہر جانے کی اجازت کا فیصلہ خود کریں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب ن لیگ عدالتوں میں جائے گی تو اسے اجازت مل جائے گی لہٰذا وہ ایک صحیح فیصلے پر بھی اپنی مہر ثبت نہیں کرنا چاہتے۔
 یہ وجہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک اچھی گورننس نہیں دے سکی۔ ملک کی لاء اینڈ آرڈر صورتحال ابتر ہے۔ خارجہ پالیسی فیل ہوچکی ہے۔ اقتصادی حالات بے انتہا خراب ہوچکے ہیں، مہنگائی کا طوفان ہے، بیروزگاری عروج پر ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ اب ان حالات میں عمران خان صرف اور صرف نفرت کی سیاست پر زندہ ہیں۔ ان کے حمایتی صرف اس لئے ان کے ساتھ ہیں کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں کو سزا دیں گے۔ اب عمران خان اگر ایک کرپٹ نواز شریف کو باہر جانے کی غیر مشروط اجازت دے دیں تو ان کی تو ساری سیاسی عمارت ہی ڈھیر ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی والے  نواز شریف کو انسان نہیں صرف مجرم سمجھتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قانون کیا کہتا ہے عدالتوں کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سب خون کے پیاسے لوگ صرف شریف خاندان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
چوہدری شجاعت نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے کہ حالات اگر ایسے ہی رہے تو تین سے چھ ماہ بعد کوئی بھی پاکستان کا وزیراعظم بننے پر تیار نہیں ہوگا۔ بات یہاں تک آپہنچے گی کہ عمران استعفیٰ دے بھی دیں تو بھی اسمبلی میں کوئی وزیراعظم کا الیکشن لڑنے پر تیار نہیں ہوگا کیونکہ حالات اتنے بگڑچکے ہوں گے کہ انہیں سنبھالنے کی ذمہ داری کوئی سمجھدار شخص قبول نہیں کرے گا۔  واضح رہے میں نے لفظ سمجھدار شخص استعمال کیا ہے۔ بیوقوف تو بہتیرے تیار ہو جائیں گے۔
اگر اس سارے قضیے میں کوئی حوصلہ افزا بات ہے تو وہ یہ ہے کہ مقتدر حلقوں نے خود کو بالکل الگ رکھا ہے۔ گویا اب امید پیدا ہوچلی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے غلط اقدامات کی حمایت نہیں ہوگی۔ یہ قوم کیلئے ایک بڑی خوشخبری ہے۔