07:54 am
مکروہ ایجنڈا؟

مکروہ ایجنڈا؟

07:54 am

کیا پشتونوں کو کوئی پاکستان سے جدا کر سکتا ہے؟ کیا مطلب بدر خان یہ آپ نے کیسی بات کر دی؟ خدا نہ کرے کہ پشتون پاکستان سے جدا ہوں۔ ہمارے  نزدیک تو پشتون اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، پشتون پاکستان کی آن اور شان ہیں، پشتون تو پاکستان کے محافظ ہیں، تم نے یہ فضول بات سوچی ہی کیوں؟
 
اس نے غمناک نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کہ صاحب ! منظور پشتین جیسے لوگ نہ پشتونوں کے ہمدرد ہیں اور نہ ہی لیڈر، قبائلی علاقوں، کے پی کے سمیت پورے ملک میں بسنے والے پختونوں کی  اکثریت نہ پی ٹی ایم کو پسند کرتی ہے اور نہ ہی منظور پشتین کو، اس لئے کہ پی ٹی ایم کا ایجنڈا نہ پشتونوں کی حمایت میں ہے، نہ پاکستان کی فیور میں، بلکہ ان کا ایجنڈا غیر ملکی ہے، غیر ملکی۔ جب ہم پشتون یہ حقائق سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں پی ٹی ایم کے ساتھ نتھی کیوں کیا جاتا ہے؟ میں نے جوان سالہ بدر خان سے مخاطب ہو کر کہا کہ پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے گزشتہ دنوں جو یہ کہا ہے کہ ’’ہم اپنے لئے الگ ملک چاہ سکتے ہیں جو پشتونوں کا ہوگا، اس کی زبان پشتو ہوگی اور وزیراعظم بھی پشتون ہوگا، ابھی ہم مضبوط نہیں ہیں، جب ہم مضبوط ہوں جائیں گے تب ہم اس طرح کے مطالبے کریں گے اور اس کے لئے  جدوجہد کریں گے۔‘‘ منظور پشتین کی ان خرافات کے بعد بھی اگر کوئی پختون اسے پختونوں کا ہمدرد یا غمگسار سمجھتا ہے تو اس سے بڑا بیوقوف کون ہوگا؟
پشتونوں کے الگ ملک بنانے کی باتیں کیا حب الوطنی پر مبنی ہیں؟ یقیناً پی ٹی ایم کا اس قسم کا ایجنڈا این ڈی ایس اور ’’را‘‘ کا تفویض کردہ ایجنڈا ہے، کہاں لاپتہ افراد کی لاش کی باتیں اور کہاں علیحدہ وطن کا غیر ملکی ایجنڈا؟ یقیناً پی ٹی ایم کے منظور پشتین کے اس مکروہ ایجنڈے کا بدر خان جیسے کروڑوں پشتونوں سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی پی ٹی ایم کی ملک دشمنی پر مبنی باتوں کی بنیاد پر کسی پشتون کو تولنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
میری منظور پشتین یا پی ٹی ایم سے کوئی ذاتی مخالفت یا دشمنی نہیں ہے لیکن  نقیب اللہ محسود کی مظلومیت کی آڑ میں اگر کوئی ملک دشمنی کو پروان چڑھانے کی کوشش کرے گا تو اس پہ گرفت کرنا بھی میری صحافتی ذمہ داری ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ منظور پشتین اینڈ کمپنی کے مکروہ ایجنڈے کو عام پختون بخوبی سمجھ سکتے ہیں اس لئے یہ ’’کمپنی‘‘ اب عام پختونوں کی حمایت سے مکمل طور پر محروم ہوچکی ہے، باقی اگر کوئی پی ٹی ایم کے  طعنے بدر خان جیسے نوجوانوں کو دیتا ہے تو یہ بھی غلط اور پی ٹی ایم کو مضبوط کرنے کے مترادف ہی ہے۔
یہ خاکسار تو بہت عرصے سے لکھ رہا ہے کہ پاکستانیوں کو ’’غدار‘‘ بنانے والی فیکٹریوں کو اب بند کر دینا چاہیے، اس بدفطرت اور کرپٹ شخص کو بھی جانتا ہوں کہ جس نے محض کاروباری اور لین دین کے تنازعے کی وجہ سے ایک نامور عاشق رسولﷺ پر قادیانی اور گستاخ رسول ہونے کا الزام لگایا تھا، صرف الزام ہی نہیں بلکہ توہین رسالت ایکٹ کے تحت اس سچے عاشق رسولﷺ کے خلاف  جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروائی تھی۔
بعدازاں مولانا حنیف جالندھری اور مولانا سید کفیل شاہ بخاری جیسے جید علماء کرام ایک وفد کی صورت میں اس عاشق رسولﷺ کے دفاع میں ایس ایس پی ملتان سے ملے اور پھر عدالت کے  ذریعے وہ جھوٹی ایف آئی آر خارج ہوئی۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ’’خناس‘‘ ہیں کہ جو ذاتی دشمنی اور وقتی مفادات کے لئے مخلص اور سچے مسلمانوں پر ’’گستاخ رسول‘‘ کی پھبتی کسنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے؟
بالکل ایسے ہی دوسروں کو غدار قرار دینے کی  ریت بھی درست نہیں ہے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کے لئے آواز اٹھانا درست تھا اور اس خاکسار نے بھی اپنے کالموں میں ڈٹ کر آواز حق بلند کی،لیکن جب پی ٹی ایم کی زنبیل سے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ برآمد ہونا شروع ہوا تو تب جا کر سمجھ آئی کہ لاپتہ افراد اور نقیب اللہ مرحوم کو محض بہانہ، اصل نشانہ تو پاک فوج ہے۔ ہمارے ہاں انگریزی والوں نے بھی عجب مزاج پایا ہے۔
پرویز  ہود جیسے پاک فوج پر برستے رہیں تو ’’محب وطن دانشور‘‘ ہیں لیکن اگر کوئی پاک فوج کے دفاع میں بات لکھ دے تو اس پر  آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا پھٹہ لگا دیا جاتا ہے بلکہ اگر میں یہ لکھ دوں کہ ہمارے ہاں کسی کو غدار اور کسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ بنانے کے باقاعدہ کارخانے لگے ہوئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔
پی ٹی ایم کے لیڈروں کے انٹرویوز اور سرگرمیاں اگر آئین پاکستان کے تابع ہیں تو ہماری سر آنکھوں پر، لیکن اگر وہ ’’پشتونوں‘‘ کے نام پر علیحدہ ملک بنانے کی باتیں کریں گے تو پھر پاکستان کا کوئی محب وطن پشتون بھی ان کی حمایت نہیں کر یگا۔ پشتون بزرگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، کالجز اور یونیورسٹیز کے پروفیسرز اور اساتذہ کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلباء و طالبات کے دل و دماغ میں وطن کی محبت کو راسخ کرنے کی کوشش کریں اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین کے زہریلے خیالات و نظریات سے پختون طلباء کو بچانے کی سعی کریں۔
پختون قوم اسلامی غیرت و حمیت سے مالا مال قوم ہے،افغان جہاد ہو یا کشمیر جہاد، وطن عزیز کے دفاع کے لئے پشتون قوم کے جوانوں کی بے شمار قربانیوں سے صرف نظر کیا ہی نہیں جاسکتا، وطن سے محبت پختونوں کو ان کی مائیں گھٹی میں دیتی ہیں، نہ  جانے منظور پشتین غیروں کی جھولی میں کیوں جا گرا؟ اور اسے یہ بات کس نے سمجھائی کہ  پاکستان کے اندر پشتونوں کے لئے کوئی علیحدہ ملک بھی بنایا جاسکتا ہے؟ایسے صہیونی ایجنڈے کو ملک دشمنی ہی کہا جائے گا۔