07:56 am
سڑکیں بند، عوام نظر بند

سڑکیں بند، عوام نظر بند

07:56 am

٭آزادی مارچ، سڑکیں بند، عوام نظر بندOٹماٹر،  کھیتوں پر مسلح پہرےO خورشید شاہ، دل کی تین والو بند، ٹانگ میں تکلیفO زرداری، حالت زیادہ خراب، ہسپتال میں زیر علاج O سموگ، لاہور سے دہلی تک زردبادل، سکول بندO جیلوں میں کھاناایک چوتھائی کم کر دیا گیاO ریحام خان، نجی ٹیلی ویژن سے بھاری ہرجانہ وصولO لاڑکانہ، بچے پرکتوں کا حملہ، شدیدزخمیO اسلام آباد آزادی مارچ کا 70 ٹن کچراO قومی اسمبلی: افہام و تفہیم: ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس! ماحول خوش گوار ۔
 
٭میں ایک خوش گوار بلکہ موجودہ کشیدہ حالت میں حیرت انگیز منظر دیکھ رہا ہوں کہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن بڑے پرامن انداز میں کارروائی چلا رہی ہیں۔ کوئی شور شرابا، کوئی ہنگامہ نہیں۔ ایک دوسرے کی بات آرام سکون اور سنجیدگی کے ساتھ سُنی جا رہی ہے۔ اس خوش گواریت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک ہفتہ قبل قومی اسمبلی کے اجلاس سے صرف دو روز پہلے ایوان صدر نے اچانک اکٹھے 9 آرڈی نینس جاری کر دیئے، اس پر اپوزیشن نے جائز طور پر ہنگامہ کر دیا۔ آئین کے مطابق آرڈی نینس کسی انتہائی ہنگامی صورت حال میں جاری ہوتا ہے جب قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو اور کسی فوری اقدام کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔ اس آرڈی ننس کو بھی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اس سے منظور کرانا پڑتا ہے۔ اسمبلی کا وجود نہ ہو تو آرڈی نینس چار ماہ تک موثر رہتا ہے۔ اس میں مزید چار ماہ کی توسیع ہو سکتی ہے، اس کے بعد خود بخود منسوخ ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں اسمبلی کے اجلاس میں صرف دو تین دن باقی تھے کہ اچانک اکٹھے 9 آرڈی نینس جاری کر دیئے گئے یہ سب معمولی نوعیت کے تھے، کوئی بھی ہنگامی نوعیت کا نہ تھا۔ اس پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا مگر اسمبلی میں اکثریت کے بل بوتے پر حکومت نے انہیں منظور کرا لیا۔ اپوزیشن نے شور شرابے کے ساتھ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور ساتھ ہی یہ آرڈی ننس منظور کرانے والے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کر دی جس پر 14 روز کے اندر رائے شماری ضروری تھی۔اس کے پاس اسمبلی میں اپنے صرف 156 ووٹ ہیں جب کہ 28 ووٹ اتحادی جماعتوں کے ہیں۔ ان جماعتوں نے بھی اپوزیشن کے موقف کی حمائت کا فیصلہ کر لیا۔ اس پر حکومت بوکھلا گئی۔ عدم اعتماد صرف 172 ووٹوں سے منظور ہو سکتی تھی، تحریک انصاف کے ساتھ حکومت کا خاتمہ ہو جاتا۔ گھبرا کر حکومتی نمائندوں نے اپوزیشن کی منت سماجت کی اور طے پایا کہ تمام آرڈی ننس اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کئے جائیں گے ان کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ اس پر مفاہمت ہو گئی اور اپوزیشن نے عدم اعتمادکی تحریک واپس لے لی۔حکومت!؟
٭مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ملک بھر کی سڑکوں پر پھیل گیا۔ پھرموٹر وے، انڈس شاہراہ، بڑی سڑکوں پر شہروں کے درمیان آمد و رفت بند کر دی گئی۔ ہر قسم کے سامان وغیرہ کی تر سیل رک گئی۔ تادم تحریر صوبائی حکومتوں کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ اہم بات یہ کہ سندھ کی حکومت آزادی مارچ کا مکمل ساتھ دے رہی ہے مگر خود سندھ میں بھی بڑی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں، صوبے کا بلوچستان سے رابطہ ختم ہو گیا ہے! سندھ حکومت پریشان ہے کہ خود اس کے تعاون سے صوبائی عوام کو ’نظربند‘ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے باہر دو مقامات پر دھرنا شام کے وقت ختم کر دیا گیا (سردی+ بارش!)  یہ صورت حال کب تک چلے گی؟ اسلام آباد کا دھرنا تو ایک خاص علاقے تک محدود تھا اور آخر تک پرامن رہا۔ پولیس بھی خاموش رہی بلکہ مولانا فضل الرحمان کی امامت میں نمازیں پڑھتی رہی۔ 13 روز کے بعد دھرنا ختم ہوا تو سی ڈی اے کے 200 ملازموں نے 70 ٹن (تقریباً دو ہزار من) کچرا اٹھایا۔ عمران خان کے 126 دن اور طاہر القادری کے چند ہفتوں کے دھرنوں کے بعد، کئی ہزار ٹن کچرا اٹھایا گیا تھا۔ مختلف چیزوں کا کچرا تو اپنی جگہ مگر ہزاروں افراد کی پھیلائی ہوئی گندگی سے طویل عرصہ تک فضا میں بدبو پھیلی رہتی ہے۔ ایک بات یہ کہ بعض مقامات، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارش کے ساتھ برف باری شروع ہو چکی ہے جس سے سردی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ جے یو آئی کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں 30 سے زیادہ مقامات پر سڑکیں بند کی جا چکی ہیں۔ ظاہر ہے اس کارروائی سے بہت سے شہروں میں باہر سے دودھ سبزیوں وغیرہ کی آمد بند ہو چکی ہو گی! لڑائی حکومت سے اور تشدد غریب عوام پر! اور حکومت کی ’سنجیدگی‘ !سڑکیں13 تاریخ سے بند ہو رہی تھیں اور وزیراعظم نے 15 نومبر کو چار بجے شام کو کابینہ کی بجائے صرف کور کمیٹی کے چند ارکان کا اجلاس بلا لیا۔ اس کے ایجنڈے میں بھی مہنگائی کی آئٹم سرفہرست تھی۔ اس سے اہم قومی معاملات کے بارے میں حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے!
٭نوازشریف، آصف زرداری اور خورشید شاہ! تینوں کی حالت ایک دوسر ےسے زیادہ خراب! سید خورشید شاہ گرفتاری سے پہلے مکمل صحت مند دکھائی دے رہے تھے مگر گرفتار ہوتے ہی وہیل چیئرپر چلے گئے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ان کے دل کے تین والو بند ہیں، بائیں ٹانگ میں سخت تکلیف ہے، اہم ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ آصف زرداری کے دل کا ایک والو بھی بند ہے، دماغ کو خون پہنچانے والی رگیں کام نہیں کر رہیں اس کے باعث ہاتھوں میں رعشہ اور ٹانگوں میں لرزش شروع ہو چکی ہے، وہ بھی وہیل چیئر پر ہیں۔ بہت ضعیف دکھائی دینے لگے ہیں۔ اسلام آباد کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے مزید ایک ہفتے کے لئے روک لیا ہے۔ نوازشریف کی بیماری کی تفصیلات عام ہوتی رہتی ہیں۔ لندن میں دل کا بائی پاس ہوا، دو ماہ وہاں زیر علاج رہے (سرکاری اخراجات، تین کروڑ روپے)۔
٭بھارت کے بعد پاکستان بھی بری طرح سموگ کی زد میں آ گیا۔ بھارت کے شمالی صوبوں میں 22 اہم شہروں پر دو ہفتے سے زردرنگ کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ دھوپ دکھائی نہیں دے رہی۔ دہلی کو دنیا بھر میں سب سے آلودہ شہر قرار دیا جا چکا ہے (لاہور دوسرے نمبر پر ہے) وہاں سموگ دو طرح سے پھیلی ہے۔ ایک تو یہ کہ پنجاب، ہریانہ اور دوسرے صوبوں میں قانونی پابندی کے باوجود ہزاروں کسانوں نے ہر سال کی طرح چاول کی خشک فصلوں کو جلایا ہے۔ اس سے فضا میں دھواں پھیل گیا۔ اس میں دہلی کی ایک کروڑ80 لاکھ آبادی میں رواں 88 لاکھ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں نے زبردست اضافہ کر دیا۔ سموگ زیادہ سے زیادہ 300 پوائنٹس تک قابل برداشت ہوتی ہے مگر دہلی میں 980 درجے تک پہنچ چکی ہے۔ شہر میں ایک بار پھر تمام سکول بند کر دئیے گئے ہیں۔ امرتسر میں بھی تقریباً یہی عالم ہے۔ لاہور میں ایک موقع پرسموگ تقریباً 600 درجے تک پہنچ گئی اور لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی تمام سکول دو دنوں کیلئے بند کر دیئے گئے ہیں۔ سموگ کی یہ لہر کراچی میںبھی پہنچ گئی ہے۔ ایسی فضا میں نزلہ، زکام، سردرد اور سانس کی بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ کالم لکھتے وقت گورنمنٹ سائنس کالج لاہور کے پروفیسر ایوب ندیم کا فون آیا کہ گزشتہ روزلاہور سے باہر نکلے تو سموگ سے سخت نزلہ اور کھانسی کے شکار ہو گئے۔ انہوں نے اہم بات بتائی کہ پچھلے برس پنجاب میں دو ماہ کے لئے اینٹوں کے بھٹے بند کر دیئے گئے تھے مگر اس بار بے شمار بھٹّے اسی طرح چل رہے ہیں ان سے دھوئیں کے بادل نکل رہے ہیں، کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ سموگ کیسے بند ہو گی؟
٭ٹماٹر کی شدید قلت اور ریکارڈ مہنگائی سے جہاں کروڑوں عوام پریشان ہیں، وہاں ٹماٹر کے چند اجارہ دار کاشتکاروں نے بیٹھے بٹھائے مختصر عرصے میں کروڑوں کی آمدنی بھی حاصل کر لی۔ ٹماٹروں کی شکل میں کھیتوں میںدولت کے ان ڈھیروں کو بچانے کے لئے ان لوگوں نے مسلح چوکیدار بٹھا دیئے ہیں۔ حکومت نے ایران سے ٹماٹر منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تاثر بھی پھیل رہا تھا کہ بھارت سے ٹماٹروں کی آمد رک گئی ہے مگر خود بھارت بھی ٹماٹروں کی شدید قلت سے دوچار ہے۔ ٹماٹر اور پیاز جنوبی بھارت میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہاں طوفانی بارشوں سے وسیع پیمانہ پر یہ فصلیں تباہ ہوگئیں۔ وہاں بھی ٹماٹر اب کھانے کی بجائے صرف دیکھنے کی چیز رہ گئی ہے۔