09:11 am
اطاعت رسولﷺ

اطاعت رسولﷺ

09:11 am

        سورۃ الاعراف کی آیت157  کی روشنی میں نبی اکرمﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادوں خاص طور پراتباع رسولﷺ کو تازہ کرنا مقصود ہے۔نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہماری نسبت یہ ہے کہ ہم اُمت محمدیہؐ میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے جو سلسلہ رشدو ہدایت جاری فرمایا تھا ، حضرت محمدﷺ اس سلسلے کی آخری کڑی تھے۔ اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ ہماری نسبت اُس نبی اور رسول کے ساتھ ہے جو آخر المرسلین اور خاتم النبیینؐ ہیں۔ میں نے جو آیت آپ کے سامنے تلاوت کی ہے، اس میں ان لوگوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے جو نبی اکرمﷺ کا اتباع کرتے ہیں۔ہمارے ہاں اتباع رسول کے حوالے سے عام طور پر ذہنوں میں عام زندگی کے معمولات میں آپؐ کی پیروی    کا تصور پایا جاتا  ہے
 
، حالانکہ آپؐ کا اتباع زندگی کے تمام گوشوں میں مقصود ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ آپؐ کی حیات طیبہ کے بہت سے گوشوں پر توجہ ہی نہیں ہے۔ مثلاًایک سنت کہ جس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور آغاز وحی سے لے کر نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے آخری لمحہ تک جاری رہی وہ غلبہ و اقامت دین کی جدوجہد کی سنت ہے۔ آپؐ نے پوری زندگی جس لگن اورمحنت میں بسر کی وہ محنت کیا تھی، اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا اور اس قرآن کی بنیاد پر ایک عادلانہ انسانی معاشرے کو بالفعل قائم کر دینا ۔آپؐ نے اسلام کے عظیم الشان اصولوں پر مبنی ایک معاشرہ اور ریاست کی بالفعل تشکیل فرمائی۔  ایچ جی ویلز جیسے متعصب شخص نے بھی اپنی کتاب ’’The Concise History Of The World ‘‘ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ اصل فضیلت تو وہ ہے جس کا دشمن بھی اقرار کرے۔ایچ جی ویلزملعون نے رسول مکرم و معظم کی ذات گرامی پر انتہائی رکیک حملے کئے، مگر اس کے بادجود وہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا کہ ’’انسانی حریت، اخوت اور مساوات کے وعظ تو اگرچہ دنیا میں پہلے بھی بہت کئے گئے۔ چنانچہ مسیح کے یہاں بھی اُن کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، لیکن نوع انسانی کی تاریخ میں پہلی بار ان اصولوں پر مبنی نظام عملاً قائم کر کے دکھا دیا محمد نے(ﷺ) ۔ ‘‘ اگرچہ افلا طون نے بھی ایک یوٹوپیا کانظریہ دیا تھا، مگر اُس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ خیالی جنت ہے، اِس لئے کہ وہ نظام ایک دن کے لئے اس روئے ارضی پر کہیں قائم نہیں ہوا۔ نبی اکرمﷺ جس نظام کے علمبردار تھے اسے آپؐ نے بالفعل قائم بھی فرمایا۔ زیر مطالعہ آیت میں اس حوالے سے رہنمائی ہے کہ آپؐ کا اتباع کن معاملات میں درکار ہے۔ فرمایا:وہ جو(محمد رسول اللہﷺ) کی جو نبی اُمّی ہیں پیروی کرتے ہیں، جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘
دیکھئے، یہاں سے وہ بات شروع ہوئی، جس کا تعلق مجھ سے اور آپ سے ہے۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ میری رحمت خاص اُن لوگوں کے لئے ہو گی جو ہمارے رسول نبی امی کا  اتباع کر یں گے۔ وہ اتباع کس معاملے میں ہے؟ آیا وہ صرف روز مرہ کے معمولات میں ہے، جیسے ہم آپؐ کی پیروی میں مسواک کریں، جوتے پہنتے ہوئے دایاں پائوں پہلے اندر ڈالیں، مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پائوں اندر جائے، پانی بیٹھ کر پیئں۔ اِن سنتوں کی اپنی جگہ بے حد اہمیت ہے، مگر کیا صرف انہی کاموں کو سکھانے کے لئے حضورﷺ کو بھیجا گیا۔ ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے۔ آپؐ کا مشن اظہار دین حق تھا۔ آپؐ کو دین اسلام کو زندگی کے کل شعبہ جات میں غالب کرنا تھا۔ آپؐ کو امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنا تھا۔ حلال و حرام سے لوگوں کو آگاہ کرنا تھا اور اُن کے سروں سے ناروا بوجھوں کو اتارنا تھا، آگے انہی باتوں کا ذکر آ رہا ہے۔ فرمایا:’’وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بُرے کام سے روکتے ہیں۔‘‘
 یعنی فریضہ رسالتؐ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپؐ نیکیوں کاحکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ معروف وہ شے جو جانی پہچانی ہے اور منکر وہ ہے جس سے فطرت انسانی اباح کرتی ہے۔ خیر میں نیکی و بھلائی کے تمام کام شامل ہیں۔ خیر کاایک تصور یہ ہے کہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کی جائیں۔ بھوکوں کو کھانا کھلایا جائے، بیماروں کے علاج معالجہ کا اہتمام کیا جائے، آدمی اُن کے کام آئے لیکن خیر کا سب سے اعلیٰ تصور یہ ہے کہ لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی فکر کی جائے۔ اگر آپ کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ لوگ جہنم کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں اور اُن کی آخرت برباد ہو رہی ہے تو اُن کے حق میں سب سے بڑا خیر کا کام یہ ہو گا کہ آپ اُن کو دین کی دعوت دیں اور راہ حق پر چلنے کی تلقین کریں۔ خدمت خلق کا یہ تصور نبی اکرمﷺ کی آغاز وحی کی زندگی کے آخری لمحے تک بڑا نمایاں نظر آتاہے۔ اِس بارے میں متعدد احادیث موجود ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ میری اور تمہاری مثال ایسے ہے گویا آگ کا ایک الائو روشن ہے۔ تم اندھے اور بہرے ہو کر اس کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہو، اور میں تمہارے کپڑے پکڑ پکڑ کر تمہیں اس میں گرنے سے بچاتا ہوں۔ اگرچہ آپؐ نے خدمت خلق کے اور بھی بہت سے کام کئے ہیں لیکن آغاز وحی کے بعد جوچیز ٹاپ پر نظر آئے گی وہ لوگوں کو جہنم سے بچانے کی فکر ہے۔ سورئہ تحریم میں فرمایا گیا:’’اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچائو ۔‘‘ حضورﷺ کی اوّلین ترجیح لوگوں کو عذاب جہنم سے بچانے کی فکرتھی۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ خواہشات نفس اورحیوانی جبلتوں سے مغلوب ہو کر آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ سورۃ التکاثر کے مطابق روپے پیسے کی کثرت اور مال و دولت اور جاگیر کی ہوس انسان کو بالآخر قبر کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے۔ بہر حال ان چیزوں کے نقصانات سے بچانے کے لئے آپؐ لوگوں کونیکی کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے ۔ ہم میں سے ہر شخص جائزہ لے کہ اتباع کے معاملے میں اس کسوٹی پر کس حد تک پورا اُترتا ہے۔ جہاں تک نیکی کی بات دوسروں تک پہنچانے وعظ و نصیحت    اور دعوت و تبلیغ کا معاملہ ہے اِس میں بالعموم انسان کی مخالفت نہیں ہوتی بلکہ آپ مدرس قرآن ہیں تو آپ کا بڑا غلغلہ ہو گا۔ آپ کو مختلف محافل میں خصوصی خطاب کے لئے بلایا جائے گا لیکن اگر آپ نہی عن المنکر کا فریضہ  سر انجام دیں گے توآپ کو بہر حال مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کے قریبی رشتہ دارحتی کہ آپ کے سگے بھائی آپ کے مخالف ہو جائیں گے،مگر ہمیں مخالفتوں کی پروا کئے بغیر یہ کام کرنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے’’جو شخص کسی منکر کو دیکھے اسے چاہیے کہ اس کو ہاتھ سے روک دے۔ اگراس کی طاقت نہیں ہے، تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں ہے (زبان پر بھی تالے لگا دئیے گئے ہیں) تو دل سے روکے (یعنی اگر منکر کے خلاف دل میں جذبات کو پالتا رہے۔)اِس کے بعد(یعنی کسی برائی اور منکر کے خلاف دل میں بھی جذبات موجود نہیں۔)تو ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہو گا۔‘‘
(جاری ہے)