09:13 am
معجزات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

معجزات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

09:13 am

صحرائے عرب میں ایک قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا‘ اثنائے راہ (یعنی راستے میں) پانی ختم ہو گیا، قافلے والے شدت پیاس سے بے تاب ہو گئے اور موت ان کے سروں پر منڈلانے لگی کہ کرم ہو گیا یعنی اچانک دونوں جہاں کے فریاد رس میٹھے میٹھے مصطفیﷺ ان کی امداد کیلئے تشریف لے آئے۔ اہل قافلہ کی جان میں جان آ گئی! سرکارﷺ نے فرمایا ’’وہ سامنے جو ٹیلہ ہے اسکے پیچھے ایک سانڈنی سوار (یعنی اونٹ سوار) سیاہ فام حبشی غلام سوار گزر رہا ہے‘ اسکے پاس ایک مشکیزہ ہے‘ اسے سانڈنی سمیت میرے پاس لے آؤ‘‘۔ چنانچہ کچھ لوگ ٹیلے کے اس پار پہنچے تو دیکھ کر کہ واقعی ایک سانڈنی سوار حبشی غلام جا رہاہے۔ لوگ اس کو تاجدار رسالتﷺ کی خدمت سراپا عظمت میں لے آئے۔ شہنشاہِ خیر الانامﷺ نے اس سیاہ فام غلام سے مشکیزہ لیکر اپنا دست بابرکت مشکیزے پر پھیرا اور مشکیزے کا منہ کھول دیا اور فرمایا:
’’آؤ پیاسو! اپنی پیاس بجھائو‘‘۔ چنانچہ اہل قافلہ نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اپنے برتن بھی بھر لئے۔ وہ حبشی غلام یہ معجزہ دیکھ کر نبیوں کے سرورﷺ کے دست انور چومنے لگا۔ سرکار نامدارﷺ  نے اپنا دست پرانوار اس کے چہرے پر پھیر دیا یعنی اس حبشی کا سیاہ چہرہ ایسا سفید ہو گیا جیسا کہ چودہویں کا چاند اندھیری رات کو روز روشن کی طرح منور کر دیتا ہے۔ اس حبشی کی زبان سے کلمۂ شہادت جاری ہو گیا اور وہ مسلمان ہو گیااور یوں اس کا دل بھی روشن ہو گیا۔ جب مسلمان ہو کر وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو مالک نے اسے پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔ وہ بولا: میں وہی آپ کا غلام ہوں۔ مالک نے کہا: وہ تو سیاہ فام غلام تھا۔ کہا: ٹھیک ہے مگر میں مدنی حضور سراپا نورﷺ پر ایمان لا چکا ہوں‘ میں نے ایسے نور مجسم کی غلامی اختیار کر لی ہے کہ اس نے مجھے بدر منیر (یعنی چودھویں کا روشن چاند) بنا دیا جس کی صحبت میں پہنچ کر سب رنگ اڑ جاتے ہیں‘ وہ تو کفر و معصیت کی سیاہ رنگت کو بھی دُور فرما دیتے ہیں‘ اگر میرے چہرے کا سیاہ رنگ اڑ گیا تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے!(ملخص از مثنوی شریف مترجم‘ ص262)
دو جہان کے سلطانﷺ کی شان عظمت نشان پر میری جان قربان! اللہ اللہ! پہاڑ کے پیچھے گزرنے والے آدمی کی بھی کس شان سے خبر دی کہ اسکا رنگ کالا ہے اور وہ سانڈنی پر سوار ہے اور اسکے پاس مشکیزہ بھی ہے‘ پھر عطائے الٰہی عزوجل سے ایسا کرم فرمایا کہ مشکیزہ کے پانی نے سارے قافلے کو کفایت کیا اور مشکیزہ اسی طرح بھرا رہا‘ مزید سیاہ فام غلام کے منہ پر نورانی ہاتھ پھیر کر کالے چہرے کو نور نور کر دیا حتیٰ کہ اس کا دل بھی روشن ہو گیا اور مشرف بہ اسلام ہوگیا۔
حضرت سیدنا اسید بن ابی اناس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، مدینے کے تاجدار ﷺ نے ایک بار میرے چہرے اور سینے پر اپنا دست پرانوار پھیر دیا‘ اس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ میں جب بھی کسی اندھیرے گھر میں داخل ہوتا وہ گھر روشن ہو جاتا۔(الخصائص الکبری للسیوطی ج2ص24 ادارالکتب العلمیتہ بیروت‘ تاریخ دمشق ج20 ص21)
جب سرکارنامدارﷺ کسی کے چہرے اور سینے پر دست پرانوار پھیر دیں تو وہ روشنی دینے لگ جائے تو خودحضور سراپا نورﷺکی اپنی نورانیت کاکیاعالم ہوگا! ’’دارمی شریف‘‘ میں ہے‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ’’جب سرکار نامدارﷺ گفتگو فرماتے تو دیکھا جاتا گویا حضور پر نورﷺ کے اگلے مبارک دانتوں کی مقدس کھڑکیوں سے نورنکل رہا ہے‘‘۔ (سنن الدارمی ج1 ص 44 رقم 58‘ دارالکتاب العربی بیروت)
’’شفاء شریف‘‘ میں ہے: جب رحمت عالمﷺ مسکراتے تھے تو درودیوار روشن ہو جاتے۔ (اشفا ص61‘ مرکز اہلسنّت برکات رضا‘ ہند)
اُم المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں: میں سحری کے وقت گھر میں کپڑے سی رہی تھی کہ اچانک سوئی ہاتھ سے گر گئی اورساتھ ہی چراغ بھی بجھ گیا، اتنے میں مدینے کے تاجدارﷺ گھر میں داخل ہوئے اور سارا گھر مدینے کے تاجورﷺ کے چہرۂ انور کے نور سے روشن و منور ہو گیا اور گمشدہ سوئی مل گئی۔ (القول البدیع‘ ص 302 مؤ سسۃ الریان بیروت)
سبحان اللہ ! حضور پرنورﷺ کی شان نور علی نور کی بھی کیا بات ہے! مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رحمت عالمﷺ بشر بھی ہیں اور نور بھی یعنی نوری بشر ہیں‘ ظاہری جسم شریف بشر ہے اور حقیقت نور ہے۔ (رسالہ نور مع رسائل نعمییہ ص40,39‘ ضیاء القران پبلی کیشنز مرکزالاولیاء‘ لاہور)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے شک ہمارے مدنی آقاﷺ کی حقیقت نور ہے مگر یہ یادرکھئے کہ بشریت کے انکار کی اجازت نہیں چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت‘ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: تاجدار رسالت‘ شہنشاہ نبوتﷺ کی بشریت کا مطلقاً انکار کفرہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج 14ص 358) لیکن آپ کی بشریت عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ اپ سیدالبشر‘ افضل البشر اور خیر البشر ہیں۔
پروردگار کا فرمان نور بار ہے: ترجمہ کنزالایمان: ’’بیشک تمہارے پاس اللہ (عزوجل) کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب‘‘۔ (پ 2‘ المائدہ 15)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں نور سے مراد حضورﷺ ہیں چنانچہ سیدنا امام محمد بن جریر طبری علیہ رحمتہ اللہ القوی (متوفی 310 ہجری) نے فرمایا یعنی بالنور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی نور سے مراد محمد مصطفیﷺ ہیں۔ (تفسیرالطبری ج4ص506‘  دارالکتب العلمیۃ بیروت)
جلیل القدر‘ حافظ الحدیث امام ابوبکر عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ’’المصنف‘‘ میں حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی‘ وہ کہتے ہیں‘ میں نے عرض کی:’’یارسول اللہﷺ میرے ماں باپ حضورﷺ پر قربان! 
(جاری ہے)