09:13 am
دھرنے کا سمجھوتہ، خالصتان کا نقشہ!

دھرنے کا سمجھوتہ، خالصتان کا نقشہ!

09:13 am

٭دھرنا سمجھوتہ کے تحت ختم ہوا۔ چودھری پرویز الٰہی! شہروں کا لاک آئوٹ نصف کر دیا، صرف دن کے وقت ہو گا!مولانا فضل الرحمنO پیپلزپارٹی کا مولانا سے تعاون ختمOمولانا فضل الرحمن کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلانO  کنٹرول لائن، بھارتی فائرنگ، ایک اور نوجوان شہیدOبارش سے لاہور میں سموگ ختمO اگلے سال ہمارا وزیراعظم ہو گا:بلاولO خالصتان کا نقشہ، نصف پاکستانی پنجاب شامل۔
٭ق لیگ کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے باقاعدہ سمجھوتہ کے تحت 13 روزہ دھرنا ختم کیا ہے۔ اس سمجھوتہ کی تفصیل نہیںبتائی گئی تاہم قیاس کیا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت اسمبلی میں تحریک انصاف کے 157 اور اتحادی جماعتوں کے 27 ووٹ ہیں۔ یہ تعداد 184 بنتی ہے۔ عدم اعتماد کے لئے 172 ووٹ چاہئیں۔ حکومت کے 12 ووٹ توڑنے ہوں گے۔ ق لیگ کے پاس پانچ ووٹ ہیں۔ ایم کیو ایم بھی اب حکومت سے ناراض ہو چکی ہے۔ یہ بارہ واٹ مل کر حکومت کے لئے مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر اپوزیشن (157 ووٹ)پھر بھی حکومت نہیں بنا سکے گی، یوں نئے انتخابات منعقد ہو سکتے ہیں۔ یہ محض قیاس آرائی ہے ورنہ عالم یہ ہے کہ جس اسمبلی کو مولانا تسلیم نہیں کر رہے، اسے چلانے کے لئے اپوزیشن نے حکومت سے مفاہمت کر لی ہے۔ اپوزیشن کے مطالبہ پر حکومت نے 9 آرڈی ننس ختم کر دیئے اور اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی ہے! 
٭آزادی مارچ کا دھرنا 13 دنوں کے بعد اسلام آباد میں 70 ٹن کچرا چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ نیا اعلان ہوا کہ ملک بھر کو لاک آئوٹ کیا جائے گا۔ چند سڑکوں پر دھرنے بھی ہوئے مگر اچانک ہر طرف تیز بارشیںاور سخت سردی شروع ہوگئی۔ اس پر نیا اعلان آ گیا کہ دھرنا صرف دن کے وقت آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے ہو گا (دن کے وقت بارش روک دی جائے گی؟)۔دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے مولانا کے بی پلان اور سول نافرمانی کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ بلاول نے رنج کا اظہار کیا ہے کہ مولانا پیپلزپارٹی سے مشورہ کئے بغیر یک طرفہ من مانے فیصلے کر رہے ہیں، ان کا ساتھ نہیں دیا جا سکتا۔ ن لیگ پہلے روز ہی دھرنے سے لاتعلق ہو چکی ہے۔ اس کے صدر میاں شہباز شریف اپنے بھائی نوازشریف کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ باہر جانے کی اجازت پر وہ نوازشریف کے ساتتھ غیر معینہ عرصہ کے لئے ملک سے باہرچلے جائیں گے۔ جماعت اسلامی پہلے ہی مولانا سے لاتعلق ہو چکی ہے۔ صرف ق لیگ مولانا کے ساتھ جا سکتی ہے مگر اس کے قومی اسمبلی میںپانچ میں سے دو ارکان وزیر بن چکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں چودھری پرویز الٰہی سپیکر ، ایک رکن وزیر بھی ہے۔ اتنی آسانی سے یہ اقتدار چھوڑنا آسان بات نہیں۔ سو آخری نتیجہ فی الحال یہی ہے کہ عمران خان کی حکومت چلتی رہے گی۔ گزشتہ روز ان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات بھی معنی خیز دکھائی دے رہی ہے۔
٭وزیراعظم عمران خان کے موڈ کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ کب کیا کہہ دیں! ایک روز معاون خصوصی (17 میں سے ایک) فردوس عاشق اعوان کی کارکردگی کی تعریف کر دی۔ (یہ کارکردگی توہین عدالت کے دو معاملات پر مشتمل تھی، اب تیسرا نوٹس بھی آ گیا ہے)۔ فردوس عاشق اعوان، اس غیر مترقبہ ستائش پر خوشی سے بے حال ہونے لگیں مگر گزشتہ روز وزیراعظم، عمران خان اچانک وزارت اطلاعات کی کارکردگی پر برس پڑے کہ حکومت نے بہت سے اچھے کام کئے ہیں، انہیں عوام کے سامنے نہیں لایا گیا! وزیراعظم نے اطلاعات کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے چار افراد کی ٹیم بنا دی ہے۔ فردوس عاشق ہکا بکا رہ گئیںکہ یہ کیا ہوا؟ ستم یہ کہ اپوزیشن کے مطالبہ پر قومی اسمبلی میں بتایا گیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان وزیر مملکت کے عہدہ کے برابر ہر ماہ چارلاکھ چھ ہزار روپے تنخواہ، 94 ہزار روپے گھر کا کرایہ وصول کرتی ہیں،  اس کے علاوہ بھاری عملہ، گاڑیاں، مفت پٹرول، روزانہ سفری الائونس! یہ اخراجات تقریباً سات لاکھ روپے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک مثال نہیں۔ اس وقت وفاقی کابینہ میں 26 وزیر، پانچ مشیر اور بارہ خصوصی معاون ہیں! ان کے سالانہ اخراجات تقریباً 60 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ ان سب کی ایک سال کی کارکردگی؟ شدید مہنگائی، بے روزگاری، ڈالر 105 سے 156 روپے تک پہنچ گیا! بے شمار نئے قرضے اور ان کی بے خبری کا عالم کہ بازار میںٹماٹر 300 روپے کلو تک پہنچ گیا اور خزانے کا مشیر 17 روپے کلو کی آواز لگا رہا ہے!
٭مجھ سے پوچھا جا رہا ہے کہ میں نے کرتار پور راہداری کا پرجوش بلکہ عام خیرمقدم کیوں نہیں کیا! ایسے عالم میں کہ ہر کوئی اس ’’عظیم الشان‘‘ کارنامے پر اچھل کود رہا تھا اور عین اس موقع پر بھارتی کی سپریم کورٹ باہری مسجد کو شہید کرنے کے اقدام کو درست قرار دے رہی تھی، میں نے خاموش اختیار کئے رکھی۔ میرے ذہن میں سکھوں کی حتمی منزل، ’’خالصتان‘‘ کا وہ نقشہ گھومتا رہا جس میں بھارتی پنجاب کے علاوہ پاکستانی پنجاب کے شہروں لاہور اور ننکانہ صاحب سے حسن ابدال تک کا سارا علاقہ دکھایا گیا ہے۔ یہ نقشہ تقریباً دس بارہ سال پہلے لندن سے آنے والے بریگیڈیئر محمد عثمان (مرحوم) نے اوصاف کے دفتر میں مجھے دیا تھا۔ اس کے ساتھ اس منصوبہ کی خاصی تفصیل بھی ہے۔ یہ اب بھی اخبار کے دفتر میں کہیں پڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے یہ نقشہ صرف میرے پاس نہیں ہو گا، دنیا بھر میں پھیل چکا ہو گا اور ہمارے متعلقہ انتہائی باخبر اداروں کے پاس بھی ہو گا! (آرمی چیف جنرل باجوہ کرتار پور راہداری کی تقریب میں نہیں گئے!) میں پہلے بھی اس نقشے کی باتیں چھاپ چکا ہوں۔ کسی ایک جگہ اتفاق سے لندن سے خالصتان کی تحریک کے سربراہ جگ جیت سنگھ چوہان سے ملاقات ہوئی، میں نے اس نقشے کے بارے میں استفسار کیا، بڑی ہوشیاری سے جواب ٹال دیا کہ ایسی تحریکوں میں لوگ ایسے نقشے چھاپتے ہی رہتے ہیں! اور قارئین کرام! میرا ذہن بہت واضح ہے کہ خالصتان کا قیام پاکستان کے بالکل حق میں نہیں۔ سکھ لوگ بھارت سے لڑتے جھگڑتے رہیں مگر خالصتان بن گیا تو یہ بڑے بڑے مطالبات لے کر پاکستان کے سر پر سوار ہو جائیں گے اور یہی کرتار پور راہداری ان کا بہت بڑا سہارا بن سکتی ہے!
٭اوپر وفاقی کابینہ کے شہنشاہی اخراجات (ایک ارب سالانہ) کے ذکر کے ساتھ ایک دوسری خبر کہ پنجاب کی 41 جیلوں میں بند تقریباً 49 ہزار قیدیوں کے کھانے کا سالانہ ایک ارب 80 کروڑ کا بجٹ ایک چوتھائی (45 کروڑ روپے) کم کر دیا گیا ہے۔جیلوں کی انتظامیہ سخت مشکل سے دوچار ہو گئی کہ پچھلے سال کی نسبت آٹے، گھی، سبزیوں وغیرہ کے نرخ دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں، قیدیوں کو پورا کھانا دنیا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ اس پر پہلے والا بجٹ بھی ایک چوتھائی کم کر دیا گیا ہے! آزاد شہری تو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر دھرنے دے سکتے ہیں، جیلوں کی بیرکوں میں بند یہ غریب قیدی کس سے احتجاج کریں جب کہ جیل حکام خود احتجاج کر رہے ہیں۔
٭فیس بک پر چترال کے نواحی میں سرخ پانی کا ایک چشمہ دکھائی دے رہا ہے۔ اسے خُونی چشمہ کہتے ہیں۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ کراچی میں منگھو پیر کے مقام پر اور آزاد کشمیر میں کوٹلی کے نزدیک ’’تتاپانی‘‘ کے مقام پر دریائے پونچھ کے کنارے پر تیز گرم پانی کے چشمے جاری ہیں۔ چترال کے سُرخ خونی چشمے‘ کے نام پر ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ میں امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کی فلم سازی کی مشہور کائونٹی ہالی وڈ کے ایک  ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہا تھا۔ ایک ویٹرس کے کالے بال، کالی آنکھیںاور مشرقی حلیہ دیکھ کر پوچھا کہ کس ملک سے آئی ہو؟ جواب دیا پاکستان سے؟ میں چونک گیا؟ پوچھا ’’پاکستان میں کہاں سے؟‘‘ کہنے لگی چترال سے؟ میں نے حیرت سے کہا۔ ’’چترال سے یہاں کیسے آ گئیں؟‘‘ کہنے لگی، ’’آئی نہیں، لائی گئی‘‘ میرے ہاتھ سے نوالہ گر گیا!