06:28 am
اطاعت رسولﷺ

اطاعت رسولﷺ

06:28 am

اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ 
(گزشتہ سے پیوستہ)
اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ 
 یہودیوں کی شرارتوں کی بنا پر اللہ نے بعض حلال چیزیں بھی اُن پر حرام کر دی تھیں۔ اللہ نے آپؐ کو   رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ اب آپؐ کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ آپؐ اللہ کے حکم سے ہر پاکیزہ شے کو جائز اور حلال قرار دیں اور ہر ایسی شے جس میں خباثت اور نجاست ہے، انسانیت کو اُس کی مضرت سے  بچانے کے لئے اُس سے روک دیں یعنی اُس کو حرام قرار دیں۔ حلت وحرمت کا یہ مستقل فیصلہ نبی رحمت نے فرمادیا ہے، پھر یہ کہ لوگوں نے دین کے نام پر جو بدعات اور رسومات اپنالی ہیں آپ ؐان سے نجات دلانے والے ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی شریعتوں میں بعض احکامات بڑے سخت تھے۔ اُن کے مقابلے میں اللہ نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے امت کے لئے بہت آسانیاں پیدا فرمائیں۔ اس کے علاوہ آپؐ﷽ نے انسانیت کو اور بھی کئی قسم کے بوجھوں اورطوقوں سے نجات دلائی۔ یہ جابرانہ ملکوکیت اور مذہبی طبقہ کی اجارہ داری کے بوجھ تھے، یہ ناروا رسومات کے طوق تھے۔ آج کل ہمارے ہاں بھی رسومات اور خرافات کا ایک طومار رہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر دیکھ لیجئے، ایک فنکشن کو کتنا طویل کر دیا جاتا ہے۔شادی بیاہ کی بابت اسلام نے سادگی کی تعلیم دی ہے مگر ہمارے ہاں بات پکی کرنے کے لئے الگ تقریب ہو تی ہے، منگنی کی الگ تقریب ہوتی ہے اور رخصتی کے موقع پر رسومات کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے۔ یہ سارا بوجھ لڑکی والوں پر پڑتا ہے۔ یہ چیزیں کہاں سے آگئیں ؟کیا ان کا ہمارے دین کے ساتھ تعلق ہے؟ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں یہ رسومات ہندوئوں سے مستعار لی گئی ہیں۔ ہماری وضع قطع، انداز نشست وبرخاست ،ہمارا لباس نصاریٰ سے مستعار ہے ۔ اسی پر اقبال نے کہا تھا کہ  
 وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
 یہ صورتحال ہمارے لئے بلکہ پوری  اُمت مسلمہ کے لئے لمحہ فکر یہ ہے۔آگے فرمایا:’’تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی، اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔‘‘
یہاں نبی اکرمﷺ کی نسبت سے چار حقوق کا ذکر کیا گیا۔ آپ ؐ کاپہلا حق یہ ہے لوگ آپؐ پر ایمان لائیں اور ایمان دل کے یقین والاہو، محض ایک عقیدہ نہ ہو۔دوسرا حق یہ ہے کہ جب حضورﷺ کو اللہ کا رسول مانا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپؐ کا اتباع کیا جائے، حضور ﷺ پر ایمان اگر واقعتا ایمان ہے تو انسان کے اندر اتباع کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ جیسے ایمان باللہ کا تقاضا عبادت رب یعنی اللہ کی بندگی ہے، ایمان بالرسالت کا تقاضا اتباع رسول ہے۔ اتباع محبت کے جذبہ کے ساتھ آپؐ کی اطاعت کا نام ہے۔دل کی حقیقی محبت، طبیعت کی پوری آمادگی اور ایک گہرے قلبی لگائو کے ساتھ جب انسان کسی کی پیروی کرتا ہے تو وہ صرف اس حکم ہی کی پیروی نہیں کرتا جو وہ اپنی زبان سے واضح الفاظ میں دے رہا ہو بلکہ وہ اس کی ہرادا کی پیروی کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہے اور اس کے چشم وابرو کے اشاروں کا منتظر رہتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرے محبوب کو کیا پسند ہے اور کیا نا پسند، ان کی نشست وبرخاست کا طریقہ کیا ہے، ان کی گفتگو کا انداز کیا ہے، چلتے کس طرح ہیں، وہ لباس کون سا پہنتے ہیں، انہیں کھانے میں کیا چیز مرغوب ہے۔ ان چیزوں کے بارے میں خواہ کبھی کوئی حکم نہ دیا گیا ہو، لیکن جس کے دل میں کسی کی حقیقی محبت جاگزیں ہو جائے، جو کسی کا والہ وشیفتہ ہو جائے، اس کے لیے وہ احکام جو الفاظ میں دیے گئے ہوں، زبان سے اشارہ فرمائے گئے ہوں یا وہ کام جن کے کرنے کی ترغیب و تشویق دلائی گئی ہو اُن کا تو کہنا ہی کیا وہ تو ہیں ہی واجب التعمیل، ایسے شخص کے لیے تو چشم وابرو کا اشارہ بھی حکم قطعی کا درجہ رکھتا ہے۔ محبوب کی ہر ہر ادا کی نقالی اور اس کے ہر قدم کی پیروی وہ اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے۔ گویا:  
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں
اس طرزِ عمل کا نام’’اتباع‘‘ ہے جس کی بڑی تابناک مثالیں ہمیں صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں نظر آتی ہیں۔  حضورﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے آپؐ کا اتباع لازم ہے۔اتباع کے دو اجزا محبت اور اطاعت ہیں۔ حضورﷺ نے انہیں اپنی دواحادیث میں جمع کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات نفس اس ہدایت کے تابع نہ ہو جائے، جو میں لے کر آیا ہوں ۔ دوسری حدیث ہے کہ:تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتاجب تک کہ میری ذات اس کے نزدیک اس کے والدین سے اس کی اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ بن جائے۔ انسان کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ کوئی شے نہیں ہے، مگر   نبی اکرمﷺسے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپؐ کی ذات ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو۔ 
اس ضمن میں حضرت عمر فاروق ؓکا واقعہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے ان سے سوال کیا: ’’عمرؓ! تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے؟ ذرا اندازہ لگائیے کہ اس گفتگو سے کس قدر اپنائیت کا احساس اُبھرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اقدسﷺ اور عمر فاروقؓ   کے مابین کس قدر قلبی و ذہنی قرب موجود تھا۔ سوال کا انداز خود بتا رہا ہے کہ یہ سوال اس ہستی سے کیا جا سکتا ہے جس کی محبت اور شیفتگی مسلم ہو۔ حضرت عمرؓ نے جواباً عرض کیا کہ ’’حضور آپؐ مجھے دنیا کے ہر انسان اور ہر شے سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘حضورﷺ نے پھر دریافت فرمایا:’’اور خود اپنی جان سے بھی؟ ‘‘اس پر حضرت عمرؓ نے کچھ توقف کیا اور پھر عرض کیا: اَلْآنَ‘‘ یعنی ہاں حضور! اب میں یہ بھی کہتا ہوں کہ آپؐ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز ہیں۔ حضرت عمرؓ نے حضورﷺ کے سوال کا جواب سوچ سمجھ کر اپنا جائزہ لے کر اور اپنے دل کے اندر جھانک کر دیا۔ ہمارے نعت گو حضرات کی طرح نہیں کہ زبانی جمع خرچ کرنے پر ہی اکتفا ہو اور دعوائے محبت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے جائیں، اِلاّ ماشاء اللہ حضرت عمرؓ کا جواب سن کر حضورﷺ نے فرمایا کہ ’’ہاں‘‘ اب تم مقامِ مطلوب تک پہنچے ہو۔‘‘ یعنی اگر میں تمہیں ہر چیز، ہر انسان، یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی محبوب تر ہو گیاہوں تو اب وہ صحیح تعلق پیدا ہوا جو اللہ کو مطلوب ہے۔
بہر حال اگر ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے تو اتباع کے اس تصور کو ذہن میں رکھئے، صرف آپؐ کے چند معمولات زندگی کی پیروی ہی اتباع نہیں ہے۔نبی اکرمﷺ نے جس عظیم الشان مشن کو آگے بڑھانے میں اپنی زندگی بسر کی تھی، اس اللہ کی کتاب قرآن کو لوگوں تک پہنچانا اور اس بنیاد پر ایک انسانی معاشرے کو قائم کر کے دکھادینا، جب تک ہم اس راستے کے راہی نہیں بنیں گے، اتباع رسولﷺ کا تقاضا پورا نہیں ہو گا۔ ٹھیک ہے، ہم میں سے کسی سے یہ سوال نہیں کیا جائے گاکہ تم نے اسلام کو غالب کیا تھا کہ نہیں البتہ اِس بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے شہادت علی الناس کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی کوشش کی تھی یا نہیں کی تھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرمﷺ کی سچی محبت اور آپؐ کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)