06:29 am
جناب وزیراعظم قوم پوچھتی ہے؟

جناب وزیراعظم قوم پوچھتی ہے؟

06:29 am

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کو ایک سو چار دن ہوچکے ہیں‘ کشمیر کے بچے مائوں کی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کو ایک سو چار دن ہوچکے ہیں‘ کشمیر کے بچے مائوں کی جھولیوں میں بھوک سے بلک رہے ہیں‘ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر ادویات تک ناپید ہوچکی ہیں مگر پاکستان کی پوری حکومت اس تگ دو میں لگی ہوئی ہے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالاجائے یا نہ نکالاجائے؟
کوئی ٹیپو سلطان کو ہیرو ماننے والے عمران خان سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ آخر وہ ’’کشمیر‘‘ کے معاملے کاکرنا کیا چاہتے ہیں؟انہیں کتنے کشمیریوں کی لاشیں درکار ہیں کہ جس کے بعد وہ ’’پتھر‘‘ اٹھا کر’’اینٹ‘‘ کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں گے؟
عمران خان وزیراعظم ہیں کشمیر کو بھار ت کے خونی پنجے سے نجات دلانے کے لئے جہاد کا اعلان انہوں نے کرنا ہے‘ وہ اعلان جہاد کرنے کے لئے بھی اگر آمادہ نہیں ہیں تو کیوں؟ کرتارپورہ راہداری کھولنے اور سکھوں کو اربوں روپے کی لاگت سے دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ تعمیر کرنے سے کیا کشمیر آزاد ہو جائے گا‘ اگر نہیں تو پھر نجوت سنگھ سدھو اور اس کے دگر سکھوں کو خوش کرنے والے عمران خان بتائیں کشمیری جو خون کے آنسو رو رہے ہیں ‘ مظلوم کشمیریوں کے ان آنسوئوں کا کیا بنے گا؟
حیر ت کی بات ہے کہ آپ کو سکھوں کی فکر ہے‘ ہندوئوں کے چار سو مندروں کی تعمیر کی تو فکر ہے‘لیکن کشمیریوں کی نعروں‘ تقریروں اور احتجاجوں سے بڑھ کر کوئی فکر نہیں‘ بادشاہ سلامت! آپ کی تقریروں‘ نعروں اور احتجاجوں نے ان سو دنوں کے کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کو اگر ایک ٹیڈی پیسے کا بھی ریلیف فراہم نہیں کیا تو ان تقریروں اور نعروں کا کیا فائدہ؟
پاکستان کے عوام کو تمہارے نعروں اور تقریروں سے کیا لینا دینا تھا وہ تو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی سے ہمکنار دیکھنا چاہتے ہیں؟
آزادی تو بہت دور کی بات آپ تو کشمیر سے کرفیو بھی ختم نہیں کرواسکے۔ ایک سو چار دن کے کرفیو نے مقبوضہ کشمیر کو ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کے لئے جہنم زار بنا دیا ہے‘ ان سو سے زائد دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں سکول بند‘ کالجز اور یونیورسٹیوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں‘ مساجد میں پنجگانہ نمازوں کی کیا کہیں وہاں تو جمعہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ مقبوضہ کشمیر کے بہادر جرنیل سید علی گیلانی عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں دہائیاں دے رہے ہیں کہ کشمیر کی عفت مآب مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی عزتیں  خطرے سے دوچار ہوچکی ہیں۔
یار لوگ سید علی گیلانی کو ’’بوڑھا‘‘ قرار دیتے ہیں لیکن یہ خاکسار کشمیر کے اس بہادر جرنیل کو ’’بوڑھا‘‘ نہیں سمجھتا۔ ’’بوڑھے‘‘ تو وہ ہیں کہ جو شہیدوں کے لہو سے بے وفائی اور غداری کرتے ہیں … ’’بوڑھے‘‘ تو وہ حکمران ہیں کہ جو بدمعاش‘ درندہ صفت دہشت گرد نریندر مودی کو بار بار کالیں کرکے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ سید علی گیلانی ! تو نریندر مودی جیسے خناس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ’’آزادی‘‘ کے لئے للکارتا ہے‘ شمع آزادی کا پروانہ سید علی گیلانی  چاہے سو سال کا بھی ہو جائے‘ میرے نزدیک وہ سارے اس کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں جو صاحب اقتدار ہوکر بھی مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے بد ترین مظالم کو روکنے میں نہ صرف یہ کہ ناکام ہیں بلکہ وہ اس معاملے پر عالمی حمایت حاصل کرنے میںبھی مکمل ناکام ثابت ہوئے۔
لال بجھکڑوں کا فتویٰ تھا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر جہاد جائز نہیں ہے‘ صاحب! اسی لئے  تو بار بار حکومت کے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم دیکھے نہیں جاتے۔ اس لئے خدارا فوراً جہاد کا اعلان کرو‘ ہم نریندر مودی جیسے بدمعاش دہشت گرد کی کتنی مذمت کریں؟ میرے کالم گواہ ہیں کہ میں نے اس موذی کو روز اول سے ہی قلم کے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔
مگر ہمارا وزیراعظم نریندر مودی نہیں بلکہ عمران خان ہے‘ اس لئے میرے سمیت ہر پاکستانی تو وزیراعظم عمران خان سے پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ اگر  کرتارپور راہداری کے بعد کھوکھرا پار کا راستہ کھولنے سے مودی راضی ہوسکتا ہے تو دیر مت کیجئے‘ صرف کھوکھرا پار ہی نہیں‘ جہاں سے دل چاہے راستہ کھول دیجئے ‘ لیکن اگر آپ لڑ نہیں سکتے ‘ جہاد کا اعلان کر نہیں سکتے‘ تو جلدی کیجئے… کشمیریوںپر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ چاہے منت ترلا بھی کیوں نہ کرنا پڑے … ضرور کریں اور بھارت کو راضی کرکے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بندکروائیں۔
 اگر کوئی ’’جہاد’’ نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے‘ لیکن قوم کو بتائے تو سہی کہ آخر کشمیر کے مسئلہ کا حل کیا ہے؟ کشمیر میں  پل پل انسانیت موت کی طرف بڑھتی جارہی ہے‘ ایک  دو دس نہیں بلکہ ایک کروڑ انسانوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں۔ ان انسانوں کا عیسائیت یا یہودیت سے تعلق نہیں بلکہ ان سب کے دامن دین اسلام سے جڑے ہوئے ہیں‘ یہ سارے وہ ہیں کہ جو پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہوئے گولیوں سے چھلنی ہو جاتے ہیں مگر پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔
یہ بھارتی استبداد سے آزادی چاہتے ہیں‘ انہیں پاکستان سے محبت اور پیار ہے‘ یہ غلامی سے نفرت کرتے ہیں‘ کیا ان ایک کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کو بھارتی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جاسکتا ہے؟ اگر برطانیہ نے کشمیریوں کی مدد کرنا ہوتی تو 72 سال قبل وہ یہ مسئلہ پیدا ہی کیوں کرتا؟ اس سے بڑا جاہل کون ہوگا کہ جو یہ بھی نہیں جانتا کہ مسئلہ کشمیر انگریز سرکار کا ہی پیدا کردہ ہے‘ پھر وہ کیونکر بھارت کے خلاف پاکستان کی مدد کرے گا؟
اگر امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی مدد کرنا ہوتی تو وہ اب تک  کرچکا ہوتا‘ ہم نے اگر امریکہ کے لئے خدمات سرانجام دیں تو اس نے ہمیں ڈالر عطا کئے‘ اس سے بڑھ کر ہمارا اس سے تعلق کیا ہے؟ کہ جو جو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ترجیح دے گا۱ رہ گیا اقوام متحدہ ‘ تو جو اقوام متحدہ اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں کا بھارت سے آج تک احترام نہیں کرواسکا کیا وہ کشمیر آزاد کروائے گا؟
جناب وزیراعظم بس کر دیں بس! قوم کو یہ مت بتائیں کہ کشمیر کے معاملے پر کون ثالثی کاکہہ رہا ہے اور کون حمایت کررہا ہے؟ ایک وزیر اعظم کی حیثیت سے  آپ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں‘ اس لئے قومپ سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے  ہوئے سو دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے‘ پاکستان کی ’’شہہ رگ‘‘ آخر کب تک بھارت کے زیر تسلط خون اگلتی رہے گی؟