06:30 am
معجزات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

معجزات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

06:30 am


مجھے بتایئے کہ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے کیا چیز بنائی؟ فرمایا: اے جابر! بیشک بالیقین‘ اللہ تعالیٰ
(گزشتہ سے پیوستہ)
مجھے بتایئے کہ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے کیا چیز بنائی؟ فرمایا: اے جابر! بیشک بالیقین‘ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبیﷺ کا نور اپنے  نور سے پیدا فرمایا‘‘۔ (فتاوی رضویہ ج30 ص658‘ الجزء المفقود من الجزء الاول من المصنف‘ لعبدالرزاق‘ ص 63‘ رقم18)۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میرا مشورہ ہے کہ ’’نور‘‘ کے مسئلہ پر تفصیلی معلومات کیلئے مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ کا ’’رسالہ نور‘‘ کا مطالعہ فرمایئے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہﷺ میں آپ سے ارشاد گرامی سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں؟ ارشاد فرمایا: ابوہریرہ ! اپنی چادر پھیلائو، میں نے پھیلا دی تو مالک جنت‘ قاسم نعمت ﷺ نے اپنے دست رحمت سے چادر میں کچھ ڈال دیا اور فرمایا: ’’اے ابوہریرہ ! اسے اٹھا لو اور سینے سے لگا لو‘‘۔ میں نے حکم کی تعمیل کی‘ اسکے بعد(میرا حافظہ اس قدر مضبوط ہو گیا کہ) میں کوئی بھی چیز نہیں بھولا۔(صحیح البخاری ج1‘94,62حدیث 2350,119‘ دارالکتب العلمیتہ بیروت)
معلوم ہوا‘ اللہ غفار عزوجل نے مدنی سرکار جناب احمد مختارﷺ کو بے شمار اختیارات سے نوازا ہے۔ بے شک مادی چیزیں دینا بھی اپنی جگہ مگر ہمارے میٹھے میٹھے آقاﷺ نے تو نظر نہ آنے والی شے قوت حافظہ بھی اپنے غلام اور ہمارے آقا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عنایت فرما دی!
اللہ غفار عزوجل کی عطا سے سرکارنامدارﷺ کو علم غیب حاصل ہے اور سرکار عالی وقارﷺ لوگوں کو غیب کی خبریں بتاتے بھی ہیں۔ اس ضمن میں ایک ایمان افروز روایت پڑھیئے اور جھومیے:
حضرت سیدتنا انیسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: مجھے میرے والد محترم نے بتایا: میں بیمار ہوا تو سرکار عالی وقارﷺ میری عیادت کیلئے تشریف لائے دیکھ کر فرمایا: تمہیں اس بیماری سے کوئی حرج نہیں ہو گا لیکن تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی جب تم میرے وصال کے بعد طویل عمر گزار کر نابینا ہو جائو گے؟ یہ سن کر میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ ! میں اس وقت حصول ثواب کی خاطر صبر کروں گا۔ فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائو گےچنانچہ صاحب شیریں مقالﷺ کے ظاہری وصال کے بعدان کی بینائی جاتی رہی‘ پھر ایک عرصہ کے بعد اللہ عزوجل نے ان کی بینائی لوٹا دی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی ج6ص479‘ دارالکتب العلمیتہ بیروت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اللہ کے محبوبﷺ اپنے پروردگار عزوجل کی عطا سے اپنے غلاموں کی عمروں سے بھی باخبر ہیں اوران کیساتھ جو کچھ پیش ہونے والا ہے اسے بھی جانتے ہیں۔ قرآن پاک کی بیشمار آیات مبارکہ سے سرکار مدینہﷺ کے علم غیب کا ثبوت ملتا ہے۔ یہاں صرف ایک آیت کریمہ پیش کی جاتی ہے چنانچہ پارہ 30 سورۃ التکویر کی آیت نمبر24 میں ارشاد خداوندی ہے: ترجمہ کنزالایمان: اور یہ نبی (ﷺ) غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30 التکویر24)
بیان کردہ روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی مصیبت آئے یا مسلمان معذور ہو جائے تو اسے صبر کر کے اجر کا حقدار بننا چاہئے‘ چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرامﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’جب میں اپنے بندہ کی آنکھیں لے لوں پھر وہ صبر کرے‘ تو آنکھوں کے بدلے اسے جنت دوں گا‘‘۔ (صحیح البخاری ج4ص6حدیث 5653‘ دارالکتب العلمیتہ بیروت)
مکہ مکرمہ میں ایک تاجر آیا۔ اس سے ابوجہل نے مال خرید لیا مگر رقم دینے میں پس و پیش کی، وہ شخص پریشان ہو کراہل قریش کے پاس آ کر بولا: آپ میں سے کوئی ایسا ہے جو مجھ غریب اور مسافرپر رحم کھائے اور ابوجہل سے میرا حق دلوائے؟ لوگوں نے مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب کی طرف اشارہ کرکے کہا : ان سے بات کرو‘ یہ ضرور تمہاری مدد کریں گے۔ اہل قریش کے’’ان صاحب‘‘ کے پاس بھیجنے کا منشا یہ تھا کہ اگر یہ صاحب ابو جہل کے پاس گئے تو وہ ا ن کی توہین کریگا اوریہ لوگ(یعنی بھیجنے والے) اس سے حظ (یعنی لطف) اٹھائیں گے۔ مسافر نے ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا احوال سنایا، وہ اٹھے اور ابو جہل کے دروازے پر تشریف لائے اور دستک دی۔ ابو جہل نے اندر سے پوچھا: کون ہے؟ جواب ملا محمد(ﷺ)۔ ابو جہل دروازے سے باہر نکلا‘ اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ پوچھا: کیسے آنا ہوا؟ بے کسوں کے فریاد رس، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کا حق کیوں نہیں دیتا؟ عرض کی: ابھی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اندر گیا اور رقم لا کر مسافر کے حوالے کر دی اوراندر چلا گیا۔ دیکھنے والوں نے بعد میں پوچھا: ابو جہل! تم نے بہت عجیب کام کیا۔ بولا: بس کیا کہوں‘ جب محمدعربی(ﷺ) نے اپنا نام لیا تو ایک دَم مجھ پر خوف طاری ہو گیا، جونہی میں باہر آیا تو ایک لرزہ خیز منظر میری آنکھوں کے سامنے تھا‘ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دیو پیکر اونٹ کھڑا ہے‘ اتنا خوف ناک اونٹ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا‘ چپ چاپ بات مان لینے ہی میں مجھے عافیت نظر آئی ورنہ وہ اونٹ مجھے ہڑپ کر جاتا۔ (الخصائص الکبری للسیوطی ج1ص 212‘ دارالکتب العلمیتہ بیروت)