06:31 am
بیماری پر سیاست اور سیاست کی بیماری

بیماری پر سیاست اور سیاست کی بیماری

06:31 am

تحریک انصاف بڑے فیصلوں سے بچنے کی راہ پر گامزن ہے، پاناما، خرابی صحت، دھرنے، ڈیل
تحریک انصاف بڑے فیصلوں سے بچنے کی راہ پر گامزن ہے، پاناما، خرابی صحت، دھرنے، ڈیل و ڈھیل، میڈیکل بورڈ، ضمانت، گارنٹی کی بھول بھلیاں، بالاخر میاں نواز شریف کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت عدالت سے ملی۔ اگرچہ یہ قطعی طور پر انتظامی معاملہ تھا، صحت کی سنگین صورتحال کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ تھا، عدالت ضمانت کا حکم بھی دے چکی تھی مگر انسانی مسئلے کو گارنٹی کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی بنانا تحریک انصاف کی مجبوری تھی۔ حکمراں جماعت اس معاملے پر دو دھڑوں میں تقسیم نظر آئی، انسانی مسئلے پر باہر بھیجنا اور اسکی مخالفت، یوں بہرحال یہ فریضہ بھی عدلیہ کو ادا کرنا پڑا۔ تحریک انصاف جانے کیوں ہر بڑے فیصلے کیلئے اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ کی جانب دیکھتی ہے، متنازع ذمہ داریوں سے بچنا کوئی سیاسی حکمت عملی ہے یا کمزوری، ویسے آپس کی بات ہے اتنی سیاسی سمجھ بوجھ عمران خان کی ٹیم میں نظر نہیں آتی کہ اسے حکمت عملی تعبیر کیا جائے۔
بیماری پر سیاست ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، قائد اعظم کی بیماری سے لیکر رحلت تک، جگہ جگہ سیاست نظر آتی ہے، مادر ملت فاطمہ جناح کی بیماری اور موت پر کیا کیا سیاست ہوئی، یہ دونوں باب اب بھی بہت سارے جوابات کے منتظر ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد کی بیماری سیاست پر حآوی رہی، جو سیاسی تاریخ کا دلچسپ باب ہے، قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہاب نامہ میں پورا احوال کہانی سا لگتا ہے۔ بہرحال سلطنت خداداد کے پہلے آرمی چیف جنرل ایوب خان کی مدت ملازمت میں توسیع سے اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایسی سیاسی کھڑکی کھلی جو کبھی بھی بند نہ ہو سکی، بہرحال یہ ایک طویل داستان ہے۔  تو جناب پاکستانی سیاست پر آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاالحق کی موت کے انمٹ نقوش موجود ہیں، ایک طرف بھٹو کے جیالے ہیں تو دوسری جانب شدت پسندی، دہشت گردی اور جہادی عناصر، یوں بھٹو اور ضیا دونوں معاشرے کا جیتا جاگتا کردار ہیں۔ پیپلز پارٹی آج بھی محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے باعث سیاسی میدان کا حصہ ہے، آپس کی بات ہے زرداری اور بلاول کی شخصیات میں ایسا کرشمہ موجود نہیں اسی باعث آج تک  بی بی کا نام لیکر سیاست کی جا رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی میں جو بھی دم خم ہے اور بینظیر بھٹو کے باعث ہے۔ کلثوم نواز کی بیماری اور پھر موت پر سیاسی رہنمائوں نے خوب خوب جوہر دکھائے، حضور سنتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر شاید ہماری طرف ذھن سے بھی عاری ہے ورنہ شاید سیاست اتنی شقی القلب تو کہیں بھی نہیں ہے۔
یہ بات باعث حیرت ہے کہ عمران خان جتنی پراعتماد اور پرعزم شخصیت سمجھے جاتے ہیں انکی حکومت اتنی ہی کمزور اور کنفیوزڈ نظر آتی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ قانون میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں کہ بیمار قیدی کو علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا جا سکے، ہزاروں بیمار قیدی دوران قید اسپتالوں میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ بہرحال اگر عدالت نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر میاں نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی تو ای سی ایل سے نام نکالنا حکومت کا انتظامی معاملہ تھا۔ اگر سابق وزیر اعظم عدالتی سزا ہونے کے بعد جیل جانے کیلئے وطن پہنچ سکتا ہے تو اب فرار کی بات میں معقولیت کیسے ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اسے انسانی مسئلہ جان کر باہر بھیجنے پر رضامند تھے تو پھر گارنٹی کی سیاست کی کیا ضرورت تھی، تحریک انصاف کی ابہامی سیاست کی داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ اگر قانون کیساتھ کھڑا ہونا تھا تو کھڑے رہتے، اگر انسانی مسئلے پر سہولت دینی تھی تو دے دیتے، مگر تحریک انصاف حسب روایت بڑے اور متنازع فیصلوں کیلئے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی آڑ لی۔ انتظامی اور سیاسی فیصلے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی جھولی میں ڈالنا تحریک انصاف  اور شاید جمہوری نظام کیلئے بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما خود کو جتنا مضبوط اور بے خوف ثابت کرتے ہیں، عملی طور پر تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ بہرحال عظیم تر حقیقت یہ ہے کہ تین بار کے وزیر اعظم کو بغرض علاج بیرون ملک جانے پر فرار ہونے کا خدشہ ہے، اگرچہ ماضی قریب میں وہ جیل جانے کیلئے لندن سے لاہور پہنچتا ہے اور قید کا سامنا کرتا ہے۔ جب تک یہ سطور آپ تک پہنچیں شاید میاں نواز شریف روانہ ہو چکے ہونگے یا ہونیوالے ہوں، یہ بھی سچ ہے کہ انکی صحت تشویشناک ہے مگر مجھے یقین ہے کہ صحت سنبھلی تو وطن واپس ضرور آئینگے اور خراب صحت کیساتھ  ڈانس بھی نہیں کرینگے۔ جناب حقیت تو یہ ہے کہ سیاسی رہنما کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے، گارنٹی مانگی جا سکتی ہے، الزامات لگائے جا سکتے ہیں مگر فوجی آمر مشرف سلیمانی ٹوپی پہن کر بیرون ملک روانہ ہو جاتا ہے، سنگین غداری کے الزامات والے سابق صدر کیلئے نہ کسی گارنٹی کی ضرورت ہے نہ ہی اسکی وطن واپسی کیلئے کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے، یہی ہماری سیاست اور نظام کی سب سے بڑی بیماری ہے۔
اسلام آباد دھرنا ختم ہو گیا، مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر بعض قومی شاہرائوں پر دھرنا ضرور جاری ہے مگر یہ علامتی ہے۔ چوہدری پرویز الہی کہتے ہیں دھرنا جس یقین دہانی پر ختم کروایا گیا وہ مولانا فضل الرحمان کے پاس امانت ہے، پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لسانی تصادم کے بعد امن کے لہراتے پرچم بے وجہ تو نہیں۔ بہرحال فی الوقت تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن براہ راست تصادم سے بچ گئے جو نظام کیلئے خوش آئند ہے، جہاں تک امانت کا تعلق ہے تو اس بارے میں بھی اچھی امیدیں رکھنی چاہئیں، جمہوریت کا سفر جاری رہنا چاہیئے۔ ایوب، یحییٰ، ضیا، مشرف کی آمریت کے دور گزر گئے، 72 سالوں سے جمہوریت اور آمریت کو بھگتاتے بھگتاتے عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے۔ جموری حکومت سے بھی نااہلی اور سیاست کی البیلی ادائیں نہیں اب عوام نتائج چاہتے ہیں، شاید اسی باعث دو جماعتوں کی موروثی سیاست ٹھکرا کر تحریک انصاف کو چنا ہے۔ تحریک انصاف کے پاس جراتمندانہ فیصلوں اور عوامی فلاح کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں، پی ٹی آئی کا سمجھنا ہو گا کہ سیاست میں اپوزیشن آسان ترین جبکہ حکومت مشکل ترین کام ہے۔ حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن جیسی جارحیت اور بے عملی سنگین سیاسی غلطی ثابت ہو گی، اگر آپ عوام کی توقعات پر پورے نہ اترے تو شاید سیاست میں زندہ بھی نہ رہ سکیں۔
خیر بیماری پر سیاست تو ہوتی ہی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم سب کو سیاست کی بیماری لاحق ہے۔ بہتر سال سے جاری سیاسی نوٹنکی اور عوام تماشائی، سیاستداں، ادارے، انتظامیہ سب کے حالات سدھر گئے نہ سدھرے تو بائیس کروڑ عوام کے جو ملک کے حقیقی وارث ہیں۔ یقین جانیے بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ملک میں سیاست کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا، اتنی سیاست کہ ریاست کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔