06:32 am
راستوں کا حق کون ادا کرے گا؟

راستوں کا حق کون ادا کرے گا؟

06:32 am

اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ ان کا تعلق عقائد کے باب سے ہو یا عبادات سے،
اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ ان کا تعلق عقائد کے باب سے ہو یا عبادات سے، یا معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سے، اسلام کا اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا ہے کہ دوسروں کے جو حقوق تم پر عائد ہو تے ہیں، انہیں حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کرو۔ چاہے وہ حقوق چھوٹے چھوٹے مسائل سے متعلق ہوں یا بڑے بڑے مسائل سے ان کا تعلق ہو۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑے مسائل کے حل کے لیے کوششیں تو ضرور کرتے ہیں مگر چھوٹے چھوٹے معاملات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
انہی میں سے ایک اہم مسئلہ راستے کے حقوق کا بھی ہے ۔کوئی شخص راستے میں مستقل ٹھکانا نہیں بناتا مگرراستے سے گزرتے ہوئے اس سے اگر کسی کو تکلیف پہنچے تو اس کا اثر کافی دیر تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔ راستے کے حقوق کیا ہیں؟ شریعت نے کن امور کی نشاندہی کی ہے؟ کن امور کا خیال رکھنا اور کن کاموں سے بازرہنے کی اس نے تلقین کی ہے تاکہ ہر کسی کی زندگی اچھے طریقے سے گزرے؟ 
راستے کے حقوق کے حوالے سے متعدد احادیث مروی ہیں جن میں مختلف احکامات ملتے ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیںکہ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے پر ہیز کرو۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ہماری مجبوری ہے کہ ہم محفل جماتے ہیں اور آپس میں گپ شپ کرتے ہیں۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا: نظروں کو جھکا کر رکھو، تکلیف دہ چیز کو دور کرو، سلام کا جواب دو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرو۔ (بخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کریمؐ نے راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے، لیکن اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو پھر چند امور کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ واضح رہے کہ راستوں پر بیٹھنے سے مراد دکانوں، ہوٹلوں، مساجد کے باہر، گلی کے کونے میں کھڑے ہونا اور اسی طرح بیچ راستے میں گاڑی روک کر بات چیت کرنا یا کسی کا انتظار کرنا بھی، اس میں شامل ہے۔
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ایک شخص راستے سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک کانٹا دیکھا اور اسے راستے سے ہٹا دیا، پس اس فعل پر اللہ نے اس کی قدر دانی کی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری)
قناتیں لگا کر راستہ بند کرنا بھی تکلیف دینے میں شامل ہے۔ البتہ ایسی جگہ پر قنات/ شامیانا لگانا جہاں لوگوں کو کوئی اعتراض نہ ہو تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ اس میں ہر طرح کے پروگرامات شامل ہیں، چاہے وہ شادیاں ہوں یا مذہبی نوعیت کے پروگرامات۔ اگر اس سے لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو راستہ بند کرکے ان پروگرامات کا انعقاد شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ کام ہے۔ یہ بات بھی تکلیف دہ ہے کہ بیچ راستے میں کوئی شخص اپنے مقصد کے لیے گڑھا وغیرہ کھودے اور پھر اس کو صحیح طریقے سے ہموار کرکے بند نہ کرے۔ اس میں انفرادی طور پر بھی لوگ شامل ہیں اور ادارے بھی۔ کیوں کہ کچھ ادارے، مثلاً واپڈا، سوئی گیس، ٹیلیفون وغیرہ کے ادارے اپنے صارفین کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے سڑکوں کی کھدائی کردیتے ہیں مگر پھر صحیح طور پر اسے بند نہیں کرتے۔ لہٰذا، انہیں چاہیے کہ سہولت مہیا کرنے کے بعد انھیں اذیت میں مبتلا نہ کریں بلکہ اس راستے کو صحیح طور پر بند کریں۔
اس سب کے برعکس سیاسی چپقلش کے باعث پاکستان میں صورتحال اس سے مختلف ہے۔ اس وقت ایک مذہبی جماعت کی طرف سے ہمارے ملک میں موٹر ویز اور قومی شاہراہوں سمیت صوبوں اور مختلف شہروں کو آپس میں ملانے والی مرکزی سڑکیں بلاک ہیں، جماعت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی دیواریں ہل چکی ہیں، درخت کی جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اور اب ہم نے اسے ایک آدھ جھٹکا دے کر گرا دینا ہے۔24گھنٹے کے اندر ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے پورا پاکستان بند ہو گیا، کراچی سے باہر جانے والی شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، پنجاب میں داخل ہونے والے راستے اس وقت بند ہیں، بلوچستان میں داخل ہونے والے راستے اس وقت بند ہیں، افغانستان سے چمن اور کوئٹہ آنے والے راستے بند پڑے ہوئے ہیں، شاہراہ قراقرم اور چکدرہ کے مقام پر شاہراہ سوات بھی بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کا احساس ہے کہ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں تو عوام کو مشکلات پیش آتی ہیں لیکن جب راستے میں بڑا پتھر پڑا ہو تو اسے ہٹانے کے لیے لوگوں کو کچھ مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے، آج سب سے بڑا پتھر موجودہ ناجائز حکومت ہے اور ہم نے عوام کی طاقت کے ساتھ اس پتھر کو راستے سے ہٹانا ہے۔
مظاہرین کی جانب سے مردان، بنوں، مانسہرہ، مالاکنڈ، نوشہرہ میں سڑکیں بلاک، خضدار میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کررکھا ہے جبکہ کراچی میں حب ریور روڈ بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ میں مظاہرین نے گھوٹکی سے گزرنے والی قومی شاہراہ پر بارش کے باوجود دھرنا دیا، جس سے دونوں اطراف پر ٹریفک معطل رہی، دھرنے کے مقام پر شامیانے بھی لگا دیئے گئے جبکہ مذکورہ جماعت کی مرکزی قیادت کے حکم پر چھوٹی بڑی مسافر گاڑیوں اور ایمبولینس کو راستہ دیا جا رہا ہے۔ موٹروے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سے سندھ کی جانب آنے والی ٹریفک کا رخ متبادل راستے کی جانب کردیا گیا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں مظاہرین نے شامیانے لگا کر رات جی ٹی روڈ پر ہی گزاری ۔ نوشہرہ میں تمام سرکاری اور نیم سرکاری سکول بند رہے۔ جبکہ راولپنڈی، لاہور، اسلام آباد جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ بلوچستان کے علاقے لورالائی میں شبوزئی کے مقام پر جے یو آئی اور پشتونخوا میپ کے کارکنوں کا احتجاج کے باعث کوئٹہ ڈیرہ غازی خان اور لورالائی ژوب میں قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہی۔ ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے پنجاب کو کوئلہ کی سپلائی بھی معطل رہی۔
ویسے تو مظاہرین کو روکنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں شہری عرفان علی نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت اور احتجاجی جماعت کے سربراہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب سندھ روڈ، رحیم یار خان، انڈس ہائی وے سمیت دیگر سڑکوں کو بند کرنے کی کال دی گئی ہے، یہ حکم آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے تحت حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور سڑکیں بند کرنے کو غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
قارئین کرام! اسلام دین فطرت اور فطرت انسانی آسانی کی متقاضی ہے اسی لیے حدیث مبارکہ میں آتا ہے دین میں آسانی ہے اسلام ہر ایسا طریقہ اختیار کرنے سے روکتا ہے جس سے انسان کے دین ومذہب، جان ومال اورنسل وعقل کو نقصان پہنچتا ہو۔ یہاں سے یہ امر انتہائی واضح ہو جاتا ہے کہ جو کوئی بھی مشکلات پیدا کرے رکاوٹیں ڈالے اور لوگوں کے بوجھ میں اضافہ کرے تو وہ دین حق کے حقیقی مزاج کے خلاف کھڑا ہوگا، اللہ اپنے بندوں پر آسانیاں فرماتا ہے۔ مگراقتدار اور سیاست کے نام پر رکاوٹیں کھڑے کرنے والوں نے شائد! یہ حدیث نہیں پڑھ رکھی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)