09:11 am
عبرتناک اورشرمناک

عبرتناک اورشرمناک

09:11 am

کیاکہنے،کیابات تھی،منہ سے پھول جھڑتے تھے ۔ خوشبوکی برسات تھی اورمحبتوں کی بارش میں بہت نہایا۔ لطف،کرم اور عنایت،ہاں انسان تھے،کبھی کبھارلہجہ بدل جاتا تھا، چہرہ سرخ ہوجاتااوربات کرتے کرتے آوازرندھ جاتی،آنکھیں برسنے لگتیں، بہت  دیرتک سب روتے اور پھرسکون چھاجاتا۔ ایسے تھے وہ،محبت کاپیکر،جسے چھو لیامحبت بن گیا۔ چہارسو مسکراہٹ، امید کاجھونکا،نسیم صبح۔ہرحال میں دیکھا، ہنستے ہوئے بھی،روتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی،بے خود ناچتے ہوئے بھی۔اذان کی آواز آتے ہی ان کی آواز گونجتی ’’چلوجی بلاواآیا،تیری آوازمکے مدینے،ہا ں ہاں آرہاہوں،تیری محفل سے گیاہی کب تھا کہ بلارہا ہے!صدقے جاں قربان جاں،چلوجی بلاوا آیا۔‘‘
بارش کاموسم ہمیشہ میرے لئے،چلئے چھوڑئیے۔ کالی گھٹاچھاجاتی اورآسمان کی آنکھیں برسنے لگتیں، تب میں پکارتا’’بہت بھرگیا ہے ناں وہ،اب خالی ہوگا اور ہمیں بھرے گا ۔ اب ہم کہاں جائیں گے برسنے کیلئے،خالی ہونے کیلئے‘‘پہلے بہت ہنستے اورپھرمیرا ہاتھ پکڑکرکہتے چل!میں پوچھتا،کہاں؟وہ کہتے ’’رب کی شان دیکھیں گے،پودے دیکھیں گے ،درخت دیکھیں گے‘‘ہم کھیتوں کی راہ لیتے۔راستے بھرمیں گنگناتے جاتے’’پیلوپکیاں نے،پکیاں نیں وے، آچنوں رل یار‘‘
’’یہ تو بتائیے برسات رک جا تی ہے لیکن یہ درخت اتنی دیر تک کیوں برستے رہتے ہیں؟‘‘
’’کیاہوگیاہے تجھے‘‘؟
’’یہ تومیرے سوال کاجواب نہیں ہے‘‘ توکہتے ’’وہ دیکھ سارے درخت دھل کرکیسے نکھرگئے ہیں‘‘جی ہاں،ایک دن میں نے پوچھا تھا’’درخت تونکھرگئے ہیں مگرہم کب نکھریں گے ؟  بہت دیرروئے لیکن جواب بالکل نہ دیااورمجھے بھی اصرارکی ہمت نہ ہوئی۔
وہ تو بارش کی طرح آیا،برس کرچل دیا
اس نے کب دیکھاکہ کتنی دیرتک رویا شجر                            
میں کہیں اورنکل رہاہوں،مجھے آپ سے کوئی اوربات کرنی تھی اورنجانے میں کیاکیاکہہ رہاہوں۔ بس میرے پاس باتیں ہی باتیں ہیں اور آپ کودیکھ کربیشمارسوالات جمع ہوجاتے ہیں۔ تھوڑے سے وقت میں بہت سے سوالات کاجواب لینے کی آرزو میں ڈھنگ کا تسلسل بھی قائم نہیں رہتا۔بے ربط گفتگو سے بھی خوف آتاہے کہ وقت کاضیاع ان کوبالکل پسند نہیں۔ایک دن کہنے لگے’’اللہ جی جیسادوست،محبت کرنے والا،شفقت کرنے والاتو کوئی  ہے ہی نہیں‘‘۔
’’اچھاجی وہ کیسے‘‘میں نے پوچھاتھاان سے، اورپھردریابہنے لگا!
دیکھ وہ پکارتاہے، آناں میرے گھر،توکہاں جارہا ہے؟میں تجھے بلارہاہوں پیارسے،آناں میرے گھر۔کوئی اس طرح پیارسے بلائے اورمیں نہ جائوں اس کے گھر،تووہ کتنارنجیدہ ہوتاہے!اورجب بلابلاکر تھک جائے توکہتاہے:چل تیری مرضی،مت آ۔تھک جاتاہے ،مایوس ہوجاتاہے،گھرنہیں بلاتا،رابطہ ختم ، لیکن اللہ نہیں چھوڑتابلانا۔دن میں پانچ بار آواز دیتا ہے۔ آناں،آناں میرے گھر‘اور جب بندہ نہیں جاتا اس کے پاس،تووہ کہتاہے،چل تونہیں آرہا،تجھے فرصت نہیں،تجھے بہت کام ہیں،توچل مجھے بلالے اپنے گھر‘اورپھربھی ہم نہیں سنتے،تب وہ کہتاہے: تو مجھے چھوڑبیٹھاہے،بھول بیٹھاہے،توہے ہی ایسا،لیکن میں نے تجھے پیداکیاہے،میں توتجھے کبھی نہیں چھوڑسکتا، تووہ پھراس کے ساتھ ساتھ رہتاہے،خاموش۔
ہم نجا نے کہاں کہاں منہ مارتے پھرتے ہیں، نجانے کس کس جگہ اپناسرجھکاتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، سفارش کرتے ہیں،جائزونا جائزکرتے ہیں، حق تلفی کرتے ہیں،خیانت کرتے ہیں،منافقت کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں،کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ مکاری اور ریاکاری کرتے ہیں،دھوکادیتے ہیں، اعتبار توڑتے ہیں،معصومیت سے کھیلتے ہیں، لوگوں کو زندہ درگورکردیتے ہیں،ان کی  مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں،محبت کے نام پرہوس میں مبتلا ہیں،دوسروں کے مال پرنظررکھتے ہیں،اسے ہتھیانے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔دن رات جھوٹی قسمیں کھاکردوسروں کامال غصب کرتے ہیں،اپنی مجالس میں اجتماعی طورپرغیبت اورچغلی مشغلہ کے طور پرا ختیارکئے ہوئے ہیں،لوگوں کے دلوں کوجوڑنے کی بجائے توڑنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔
نجا نے کیاکیاکرتے ہم،اوراتنابھی نہیں جانتے کہ وہ جسے ہم بھلابیٹھے ہیں،ہمارے ساتھ ساتھ ہے،سب کچھ دیکھ رہاہے،سب کچھ سن رہاہے اور ہمارے دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبرہے۔ہماری ہرمنافقت سے آگاہ ہے،لیکن ہم بازہی نہیں آتے چاہے کچھ کرلو،کہیں نہیں چھپ سکتے اس سے،چھپ ہی نہیں سکتے،ہم بہت بے شرم ہیں۔جناب خواجہ اجمیر نے کیاخوب کہا’’رب سے اتنی حیاتوکرجتنی تواپنے پڑوسی سے کرتاہے‘‘لیکن نہیں،ہمیں توکچھ سمجھ ہی نہیں آتی،تب آتی ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے،بلا نے والا اپناقاصدبھیج دیتاہے کہ چل ختم ہوئی کہانی، بس بس،بہت جمع کرلیاسامان،اب اسے چھوڑنا ہے، ساتھ توکوئی بھی لے کر نہیں گیا،بہت ہلکان ہوگیا تھا ناں، اسے جمع کرتے کرتے!توچل اب یہی ہے انجام۔دوگزکفن کاٹکڑالے اورچل۔بہت پسند کرتا تھا اپنے لئے کپڑے، خوشبوکو چھوڑکافورمیں بس،اورچل، مجھے کب سمجھ آئے گی،مجھے کب سمجھ آئے گی۔بہت دیرہوگئی ناں۔
ہاں میں نے انہیں ہرحال میں دیکھاہے ہنستے ہوئے بھی اورروتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی اور ناچتے ہوئے بھی،ان سب نے میرے لئے راستے آسان کئے،ہرفلسفہ پانی کر دیا،وہ سب میرے اندر میرے ساتھ رہتے ہیں ، میرے یاربیلی،جن سے میں آج بھی ہر بات پوچھ لیتااورمسکراتے ہوئے جواب پاتاہوں۔
جاناہے،چلے جاناہے،کسی کوبقانہیں،ہاں ایک ہی گرہے،اس کابن جا،وہ تمہیں امرکردیگا۔اسی کوسجدہ کر،ہزارسجدوں سے نجات دلادے گا،اسی کاخوف دل میں رکھو، اغیار کے تمام خوف سے تمہیں آزادکر دے گا۔اس کے سامنے جھکناسیکھوجوساری دنیا کو تمہارے لئے مسخرکردے گا۔بے گناہ اوربے قصور افراد کورہائی دلائو تمہیں حزن وملال سے رہا کردے گا۔جن کے گھروں کو بربادکیاہے ان گھروں کوآباد کرووہ تمہیں دنیااورآخرت میں آبادکرے گا۔جن کی کردارکشی کی ہے،اس گناہ عظیم کی برملا معافی ما نگواور اتنی دیرتک اس عمل کوجاری رکھوجب تک ان کے اقربامعاف نہ کردیں۔مہلت کاوقت ختم ہورہا ہے۔ اگراب بھی خالق کائنات کی طرف رجوع نہیں کیا،تو پھر عبرتناک اورشرمناک انجام کیلئے تیارہوجا!
گلیوں میں میری لاش کو کھینچے پھروکہ میں
جاندادہ ہوا ئے راہ گزر تھا میں