09:13 am
بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عالمی تشویش

بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عالمی تشویش

09:13 am

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر اور دو وزرائے اعظم کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سرمارک لائل گرانٹ نے متبہہ کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پرپاک بھارت جنگ ہوئی تو برطانیہ کو 20ملین پونڈ کی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کرے ورنہ مستقبل میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے ’’دی فوریس‘‘ میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی خصوصی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت جلد بازی میں برطانیہ وہاں سے چلا گیا تھا اور کشمیر پر اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہا تھا جس کے باعث پاک بھارت میں مسئلہ کشمیر وجہ نزاع بن گیا تھا جس کے سبب خطے کی صورتحال کشیدہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 72سال کے تلخ تنازعہ میں تین جنگیں لڑی گئیں، پاکستان اور بھارت (دونوں ایٹمی طاقتوں) کے درمیان بہت سی جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ دہشت گردی کی لاتعداد کارروائیوں، وادی میں بڑھتی ہوئی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ماحول میں اب وقت آگیا ہے کہ سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ امریکہ، برطانیہ کی قیادت میں بین الاقوامی کمیونٹی کو اس سلسلے  میں متحرک  ہونا چاہیے۔
15نومبر ڈھاکہ بنگلہ دیش میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع، ڈھاکہ میں بھارت مخالف بینرز اہم اور نمایاں مقامات پر آویزاں کئے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ کشمیری حمایت مہم وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کی موجودگی میں سامنے آئی ہے کیونکہ آسام سے جن مسلمانوں کو نکال دینے اور غیر ملکی قرار دینے کا مودی حکومت کا فیصلہ ہوا ہے وہ 14لاکھ بنگال ہیں۔ اگر موجودہ حکومت کامیاب ہوگئی تو یہ آسامی 14لاکھ بنگالی مسلمان بنگلہ دیش کو واپس زبردستی بھیج دئیے جائیں گے۔
عالمی محققین نے بھارت کے انتہا پسند ہندو ریاست بنتے عمل کا جائزہ لینا شروع کر دیاہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں نامور محقق میکس بوٹ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں مودی سرکار پر تنقید ہے کہ وہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے میں مصروف ہے۔ کشمیر اور آسام کے حوالے سے انسانی حقوق کی روشنی میں تنقید ہے۔ مسلمانوں پر تشدد کا بھی ذکر ہے۔ مضمون میں میکس بوٹ نے کشمیر کے لاک ڈائون کا بھی ذکر کیا ہے۔ مودی سرکار کی چھ سالہ بدترین کارکردگی کا بھی تجزیہ ہے۔ اوصاف نے اس مضمون کا خلاصہ 17نومبر کو شائع کر دیا ہے۔ تفصیل خبر کی صورت میں شائع شدہ خلاصے میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
حال ہی میں امریکی کانگرس کے ٹام لینٹس ہیومن رائٹس کمشن کی مقبوضہ کشمیر پر کھلی سماعت ہوئی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس امریکی حمایت پر کمیشن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ٹام لینٹس انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر  پر کھلی سماعت 14نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔ کمیشن نے اپنے مشاہدات میں مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم  شدہ متنازع حیثیت کو دوبارہ لاگو کیا ہے۔ 
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ دبائو ڈالے تاکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیاء پر ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک ماہ سے بھی کم مدت میں امریکی کانگرس کے ٹام لینٹس کمیشن کی سماعت کا انعقاد کیا گیا ہے۔ پاکستان نے امریکی نمائندگان کانگرس کی کاوشوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔
17نومبر کو بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین سے جنسی زیادتی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی شرمناک حکمت عملی بھارتی ٹی وی کے ٹاک شو میں بے نقاب ہوگئی۔ ہندتوا تشدد پر مبنی اس مودی حکومت عملی کو خود سابق میجر جنرل ایس پی سنہا نے اپنی زبان سے کہا کہ کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی حمایت کرتا ہوں۔ انتقام لینے کے لئے کشمیری خواتین کا ریپ ہونا چاہیے۔ پروگرام کے دوران  ایس پی سنہا  کی دیگر شرکاء اور خاتون میزبان کے ساتھ تکرار بھی ہوئی۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بجا طور پر بھارتی فوج کے عمل کو شرمناک قرار دیا ہے۔