09:15 am
پہلی گیند پر چھکّا

پہلی گیند پر چھکّا

09:15 am

حزب اختلاف تحریک انصاف کی حکومت کو رخصت کرنے کے اپنے مشترکہ مقصد میں ناکام ہوگئی۔ عمران خان کے استعفے سمیت اپوزیشن کے اعلانیہ اہداف تو حاصل نہیں ہوسکے  تاہم مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو جیل سے نکال کے بیرون ملک لے جانے اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کو اسلام آباد کی جیل سے سندھ کی ’’تحویل‘‘ میں دینے کے غیر اعلانیہ اہداف میں سے ایک میں جزوی کام یابی ہی  ہاتھ آسکی۔
حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور مذاکرات کے ذریعے صورت حال کو ٹالتی رہی  یہاں تک کہ قدرت کی مداخلت آپہنچی۔’’سردی کے جرنیل‘‘ نے نیپولین اور ہٹلر جیسوں کی افواج کو شکست دے رکھی ہے تو مولانا کا ذکر ہی کیا! اپنے قائد کی تقریر ختم ہونے کے فوری بعد ہی مارچ کے شرکاء نے اپنا بوریا بسترا سمیٹنا شروع کردیا۔ دھرنے کی تھکاوٹ نے  پہلے ہی کئی حامیوں کو گزشتہ ہفتے ہی واپسی پر مجبور کردیا تھا۔ مولانا کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ 
فضل الرحمن کے جمع کیے گئے ہجوم کو خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا، انھیں حکومت کی جانب سے کوئی فیس سیونگ بھی نہیں مل سکی۔ اگرچہ فضل الرحمن مہینوں دھرنا دینے کی دھمکی دیتے رہے لیکن بعض حلقوں کے مطابق تیرہویں دن ہی شرکا کھسکنا شروع ہوچکے تھے۔ پلان ’’اے‘‘ تو ہوا ہوگیا اور فضل الرحمن نے احتجاج کو ملکی سطح پر پھیلانے کے اپنے ’’پلان بی‘‘ کا اعلان کردیا ہے۔ ان کی اپنے بارے میں غلط فہمی حیران کُن ہے۔  میڈیا نے بھی ان کے اس وہم کو یقین میں بدلنے کے لیے بڑے جتن  کیے کہ وہ سیاسی جماعت جو فضل الرحمن کے ذاتی سیاسی مفاد کا محض ایک ذریعہ ہے، اب ایک بڑی سیاسی قوت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مولانا کی آنکھ تو اسی وقت کھل جانی چاہیے تھی جب پیپلزپارٹی نے سندھ میں شاہراہیں بند کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مولانا نے اپنے پلان بی کے لیے ’’رہبر کمیٹی‘‘ کی منظوری حاصل نہیں کی اور ممکن ہے کہ انھیں پہلے ہی اندازہ ہو کہ ان کے اس پلان کو اپوزیشن کی حمایت نہیں مل سکے گی اس لیے انہوں نے از خود ہی یہ قدم اٹھایا۔ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ابتدا ہی سے نیم دلانہ رویہ رکھا۔ ان دونوں جماعتوں کا اندازہ تھا کہ کسی بڑی احتجاجی تحریک کے لیے ان کی تیاری نہیں اور موسم تیور بھی ان سے چھپے نہیں تھے۔ اسی لیے ان جماعتوں نے مولانا کی حمایت میں محتاط رویہ اپنایا اور جے یو آئی(ف) کی شکستِ فاش میں حصے دار بننے سے محفوظ رہے۔ 
کرپشن میں سزا یافتہ نواز شریف کو آزاد کروانے کا دوسرا منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ موصوف آزادی مارچ کی پیش قدمی کے ساتھ ہی بیمار پڑ گئے اور حیرت یہ ہے کہ انھیں ایسی کیا بیماری ہے جس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔ روپیہ پیسہ ان کے لیے  کوئی مسئلہ نہیں اور معالجین کو کہیں سے بھی پاکستان بلایا جاسکتا ہے۔ جو ڈرامائی صورت حال پیدا کی گئی اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مقصد کسی طرح نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا ہے، اس کا ان کے علاج معالجے سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت اور عدلیہ نے فضل الرحمن کی طرح نواز شریف کے ساتھ بھی رعایت برتی اور انھیں باہر جانے کی اجازت دے دی۔ حکومت کی سطح پر تو اسے اس لیے بھی دریا دلی کہا جاسکتا ہے کہ  نواز شریف سے متعلق کسی بھی قسم کی نرمی برتنے پر عمران خان کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
اس سب کے باوجود نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ شرط صرف یہ رکھی گئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے اسحاق ڈار جیسے ساتھیوں کی طرح فرار نہیں ہوں گے۔ نواز شریف کی واپسی کو (کسی حد تک) یقینی بنانے کے لیے اچھی خاصی بڑی رقم کے بانڈ کا مطالبہ رکھا گیا۔ اگر نواز شریف وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں تو بھلے سے ضمانتی بانڈ کی رقم کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ، یہ دینے میں کیا ہرج ہے۔ اس میں تو وہ رقم بھی شامل کرلی جائے  جو وہ اور ان کا خاندان منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک لے جاچکا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اگر واقعی شدید بیمار ہیں اور انھیں اپنی جان پیاری ہے تو انھیں چلے جانا چاہیے لیکن یہ خوف اگر صرف دوسروں کے لیے ہے تو بھلے سے رکے رہیں۔ ان کا فیصلہ جو بھی ہو حکومت نے نواز شریف کی صحت اور زندگی کے لیے خود پر عائد ہونے والی ذمے داریاں پوری طرح ادا کی ہیں۔ اگر نواز شریف ملک میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انھیں یا تو اسپتال میں ہونا چاہیے یا جیل میں، جاتی امرا میں ان کا کیا کام؟
جیل پہنچتے ہی آصف زرداری کی طبیعت بھی ناساز رہنے لگی ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ وہ 1997سے 2004 تک ایسی ہی ایک ’’قید‘‘ کاٹ چکے ہیں۔ قید میں ہونے کے باوجود وہ 1990میں قومی اسمبلی اور 1997میں سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے اور برائے نام ہی ان ایوانوں کی کارروائی میں شریک ہوئے۔ مزید یہ کہ اس دور میں جب وہ ’’شدید بیمار‘‘ ہوتے تھے تو ان کے ’’خصوصی علاج‘‘ کے لیے ضیاء الدین اسپتال کی پوری ایک منزل مختص کردی جاتی تھی۔ ’’جیل‘‘ سے رہائی کے بعد آصف زرداری نے دبئی اور نیویارک میں جلاوطنی اختیار کی اور 27دسمبر 2007کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب انہیں اپنا سیاسی مستقبل نظر آیا تبھی پاکستان واپس  آئے۔ اقتدار میں آتے ہی وہ صحت یاب ہوگئے اور یہ شیخیاں بھی بھگاریں کہ انھیں صحت کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ 
 ایک بار پھر منی لانڈرنگ اور پارک لین کرپشن کیس میں وہ 10جون سے عدالتی ریمانڈ پر ہیں اور س بار انھیں سندھ کے بجائے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ظاہر ہے انھیں یہاں جیسی سہولیات دستیاب نہیں۔ جب انہوں نے اپنی صحت کی خرابی کی شکایت کی تو ایک معالجین کی ایک ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور 21اگست کو انھیں اسپتال میں داخل کردیا گیا۔ میڈیکل ٹیم نے جیل حکام کو یہ تجویز دی کے آصف زرداری کو ادویات کی فراہمی اور فزیوتھراپی یقینی بنائی جائے۔ اکتوبر میں وہ (نواز شریف کی طرح) پلیٹی لیٹس کی کمی کے باعث ایک بار پھر اسپتال میں داخل ہوئے لیکن اطمینان بخش رپورٹس آتے ہی انھیں واپس جیل بھیج دیا گیا۔ ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ خدا نے چاہا تو مولانا فضل الرحمن اس حکومت کو گرانے کے اپنے مقصد میں کام یاب ہوں گے۔ یعنی وہ کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ اس کے بعد وہ بہ آسانی جیل سے نکل آئیں گے اور ان کی کارستانیاں بُھلا دی جائیں گی۔ 
یہ کیسی شرمناک بات ہے کہ سیاست کے بڑے کھلاڑی بوڑھے ہوچکے ہیں، درد سے کراہتے ہیں، لیکن اپنے کیے کرائے کی ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ شاید انھیں اس بات کا ادراک ہی نہیں تھا کہ ٹیکس چوری اور غیرقانونی مال کو ملک سے باہر منتقل کرنے جیسے جن کاموں کو وہ اپنا حق سمجھتے رہے، انھیں ہی کرپشن کہا جاتا ہے۔ گزرتی عمر کے ساتھ انہوں نے کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمیں اب سیاست دانوں کی ایک ایسی نئی نسل کی ضرورت ہے جو دیانت داری سے پاکستان کی خدمت کرے اور اس کے لیے اپنا مفاد ملک پر مقدم نہ ہو۔ توقع ہے کہ نواز شریف(یا ان کا خاندان) بانڈ جمع کروا کر بچ نکلے۔ زرداری کو شاید کچھ عرصہ جیل ہی میں رہنا پڑے۔ یا شاید اس وقت تک جب وہ برسوں تک سمیٹے گئے مال کا کچھ حصہ دینے کے لیے آمادہ نہ ہوجائیں۔ جب ویت نام کی جنگ کسی نتجے پر نہیں پہنچ رہی تھی تو 1966میں امریکی صدر لینڈن بی جانسن کو ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جارج ایکن نے مشورہ دیا  تھا’’فتح کا اعلان کریں اور نکلیں‘‘۔ خیر، سیاست کے میدان میں عمران خان نے پلان اے کی پہلی گیند پر تو چھکا لگا دیا ہے اور پلان بی بھی کوئی رنگ لاتا دکھائی نہیں دیتا۔ سیاست میں موقع محل دیکھ کر ہی بہادری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اسی لیے مولانا فضل الرحمن کو بھی بس فتح کا اعلان کرکے اسلام آباد سے نکلنے میں عافیت نظر آئی۔ 
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)