09:17 am
بھارتی ٹارچر سیلز

بھارتی ٹارچر سیلز

09:17 am

5 اگست کے بھارتی جارحانہ اقدامات کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فورسز کے کریک ڈائون کے دوران ہزاروں کشمیری حراست میں لئے گئے۔ ان میں سے سینکڑوں کو مقبوضہ ریاست کے اندر فورسز کیمپوں، ٹارچر سیلز، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر رکھا گیا۔ سینکڑوں کو ریاست سے باہر بھارتی جیلوں اور تعذیب خانوں میں رکھا گیا۔ بھارتی حراست میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں مگر قابض انتظامیہ نے صرف 144بچوں کی گرفتاری کا اعتراف کیا ہے۔ ان میں سے چند ایک کو تین ماہ بعد رہا کر دیا گیا۔ ان بچوں نے میڈیا کو اپنی اپنی درد بھری داستانیں سنائی ہیں جن میں سے ایک بچے کی داستان وائرل ہوئی۔ اس میں رونگھٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات کئے گئے ہیں۔ 
16 سالہ بچے گوہر(نام تبدیل کیا گیا تا کہ بھارتی فورسز انتقامی کارروائی عمل میں نہ لا سکیں)کوبھارت کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کے علاقے بریلی کی ایک قید خانے میں اپنے گھر سے 700 کلو میٹر کے فاصلے پر قید رکھا گیا ، جہاں144 نابالغ لڑکے بھی تھے، جنہیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد قابض حکام نے حراست میں لیا تھا۔اپنی قید کی یادداشتوں کے حوالے سے گوہر نے میڈیا کو بتایا کہ اس جیل میں کوئی بھی اس  سے بات نہیں کر رہا تھا، ان کے مطابق میں مجرم تھا۔اس سے قبل گوہرکو پولیس اسٹیشن سے کشمیر کی ایک جیل منتقل کیا گیا، جہاں اس نے پوری رات نیند کے بغیر گزاری،صبح اسے 20 دیگر کشمیریوں کے ہمراہ  فورسز کی بس میں وادی کے اونتی پورہ  فوجی ہوائی اڈے پر لے جایا گیا۔ وہاں سے، انہیں اتر پردیش جانے کے لئے پرواز پر بٹھایا گیا۔جہاز میں، ایک پولیس اہلکار نے گوہر کو گرفتاری کا وارنٹ دکھایا۔ اس نے کہا کہ تب تک مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ مجھے پبلک سیفٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔اس بدنام زمانہ کالے قانون کے تحت کسی کو بھی بغیر وجہ بتائے کم از کم دو سال تک قید رکھا جاتا ہے۔ہزاروں کشمیری اس کالے قانون کی گرفت میں لائے گئے ہیں۔ ہزاروں اب بھی بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ سینکڑوں کشمیری نوجوان ایسے ہیں جن کو قید کے دو سال مکمل ہونے پر کسی نئے کیس میں محبوس کیا جا تا ہے۔ اس ایکٹ کو مقبوضہ کشمیر میں متعارف کرنے اور نافذ کرانے والے فاروق عبد اللہ ، عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی سمیت لا تعداد بھارت نواز بھی ان دنوں اسی ایکٹ کے تحت قید کاٹ رہے ہیں۔ کیوں کہ بھارت کسی کشمیری کا خیر خواہ نہیں ہے۔ یہ بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے۔ گوہر کے مطابق قید کے دوران گوہرکے والدین کو اندازہ نہیں تھا کہ اسے کشمیر سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ لڑکے کو جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔رات 12 بجے کے قریب، وہ اتر پردیش کی بریلی جیل پہنچے، جہاں پولیس پہلے ہی زیر حراست ملزمان کا انتظار کر رہی تھی جو کشمیر سے آرہے تھے۔گوہر نے 24 گھنٹوں تک کچھ نہیں کھایا تھا۔
گوہر کا کہنا تھا کہ سارے سفر کے دوران، وہ  سوچتا رہا کہ اسے کبھی رہا نہیں کیا جائے گا، اور اسے  مار دیا جائے گا۔ اس کے رنگ سے لے کر بلبوں کی تعداد تک 16 سالہ گوہر کو اس کمرے کی ہر تفصیل یاد ہے جہاں اسے حراست میں رکھاگیا تھا۔اس نے دو ماہ  اس سیل میں گزارے اور اس عرصے کے دوران، وہ ہر دوسرے دن اپنی جینز دھوتا تھا۔ میرے پاس دو مہینوں سے صرف ایک ہی لباس تھا، جسے میں دھو کر پہنتا تھا۔گوہر کا کہنا ہے کہ ابتدائی دو دن تک، اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ یہ دن یا رات ہے۔’’لیکن بعد میں، میں نے محسوس کیا کہ چھت پر ایک سوراخ تھا جس کے ذریعے میں سورج دیکھ سکتا تھا۔‘‘
ایک ہفتہ تک وہ اکثر روتا رہتا، یہاں تک کہ وہ اس جگہ کا عادی ہو گیا۔ وہ اپنا وقت نماز میں گزارتا اوراللہ تعالی سے سے جیل سے آزاد کرنے کے لئے دعا کرتارہتا۔ گوہر نے بتایا کہ ہر صبح ایک پولیس والا اس سے ملنے آتا، اور اسے بیدار کرتا۔’’شاید وہ یہ دیکھنے کے لئے آتا تھا کہ میں مر گیا ہوں یا زندہ ہوں۔‘‘ بہر حال، وہ امید کرتا رہا کہ اس کا رہائی کا حکم آئے گا۔گوہر کو آخر کار بتایا گیا کہ اسے رہا کردیا جائے گا۔ اگلے ہی دن اس کی رہائی پر، وہ جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں کو مرکزی گیٹ پر اپنا انتظار کرتے دیکھ کر خوش ہوا۔اگرچہ گوہرکے سرٹیفکیٹ کے مطابق وہ 16 سال کاہے، لیکن حراست میں لینے والے حکام نے لکھا ہے کہ وہ 22 سال کا تھا۔ گوہر کے اہل خانہ کے مطابق، نظربندی کے آرڈرمیں بتایا گیا ہے کہ اس نے بارہویں جماعت جسے مقبوضہ کشمیر میں ٹی ڈی سی کہا جاتا ہے، بورڈ کا امتحان مکمل کیا تھا۔ تاہم اس کے خاندان نے بتایا کہ وہ ابھی تک امتحان میں شریک نہیں ہوا ہے۔گوہر کے جیل سے رہا ہونے کے بعد بھی، اس کے اہل خانہ کو اس کے بارے میں معلوم نہیں تھا، کیوں کہ مقبوضہ وادی ابھی بھی مواصلاتی لاک ڈاون میں ہے۔ تاہم، ان کے اہل خانہ نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں ایک  درخواست دائر کی تھی۔اس مدت کو یاد کرتے ہوئے گوہرکی ماں نے بتایا کہ اس نے دو مہینے روتے ہوئے گزارے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے سوچا کہ میرے بیٹے کو برسوں جیل میں رہناپڑے گا۔‘‘گوہر کا امتحان 9 نومبر کو شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جیل سے رہائی کے بعد تعلیم حاصل کرنے کا احساس نہیں ہے۔جب وہ اپنے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھتا ہے اور اپنی کتاب کھولتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک جگہ تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے کہا،اسی وجہ سے اب میں پڑھائی نہیں کرسکتا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں کسی جگہ بند ہوں۔
اب مطالعہ نہ کرنے پر گوہرکے اہل خانہ اسے ملامت نہیں کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جیل میں دو ماہ گزارنے کے بعد وہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔گوہر کی والدہ نے کہا ’’ وہ گھر میں ہے، اور یہ میرے لئے کافی ہے۔ ‘‘
یہ اکیلے گوہر کی  داستان نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں بچے اسی کرب میں مبتلا ہیں۔ ہزاروں افراد ایسے ہیں جو بیس بیس سال سے بھارتی ٹارچر سنٹرز میں سڑ رہے ہیں۔ بھارت کا مقصد بھی یہی ہے کہ کشمیریوں کو جیلوں میں ڈال کر ان کو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج کر دیا جائے۔قید کے دوران بھارتی فورسز کشمیری قیدیوں کو بجلی کے کرنٹ لگاتے ہیں۔ نازک حصوں پر بجلی کی تاریں لگا کر جھٹکے دیتے ہیں۔ جسموں پر گرم استری پھیرتے ہیں۔ موم بتیاں جلا کر ان پر نوجوانوں کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ سگریٹ سے جسموں کو داغا جاتا ہے، مگر بھارت کشمیریوں کو جھکا نہ سکا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو بھارت سختیوں اور مظالم سے کچل نہ سکا۔ کشمیریوں کا عزم چٹان سے بھی سخت ہے۔ کشمیری کسی بھی صورت میں کوئی بھی قربانی دے کر بھارت سے مکمل آزادی کا عزم کر چکے ہیں۔ دنیا بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو آزاد کرانے کے لئے آواز بلند کرنے سے قاصر ہے۔ جب کہ بھارت میں لا تعداد گونتاناموبے قائم ہیں جہاں کشمیریوں کو زیر حراست قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے سامنے بھارت کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات کشمیریوں کی نسل کشی کے نام پر استوار ہو رہے ہیں۔ پتہ نہیں مسلم ممالک اس تاثر کو کب اور کیسے غلط ثابت کر سکیں گے۔