09:18 am
انسانیت کا دفاع اور پی ٹی ایم

انسانیت کا دفاع اور پی ٹی ایم

09:18 am

جس ملک میں ایک، دو یا سو نہیں بلکہ ہزاروں این جی اوز سرگرم رہتی ہوں، جس ملک میں اینٹ اٹھائو تو نیچے سے انسانی حقوق کے کارکن برآمد ہوتے ہوں، اس ملک میں جب بات انسانیت کے دفاع کی آئے تو یہ ساری این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام نہاد کارکن ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر کے سینگ۔
میں نے گزشتہ روز کے کالم میں بھی لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کو شدید خطرات لاحق  ہوچکے ہیں،بھارتی فوج کے درندے ’’انسانیت‘‘ کو  بے توقیر اور رسوا کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج کے بے پناہ مظالم کی وجہ سے انسانیت سسک رہی ہے، کشمیر میں سسکتی ہوئی انسانیت دیکھ کر بھی این جی اوز مارکہ نام نہاد کارکنان انسانی حقوق کے اندر ’’انسانیت‘‘ انگڑائی لینے پر آمادہ نہیں ہے، سنا ہے کہ پی ٹی ایم کے منظور پشتین بھی اپنا تعارف حقوق انسانی کے کارکن کے طور پر کرواتے ہیں؟
اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں جس سنگ دل، مذہب اور فوج دشمن کو دیکھو وہ اپنا تعارف حقوق انسانی کے کارکن کے طور پر ہی کرواتا نظر آئے گا، لیکن ’’انسانی حقوق‘‘ دراصل ہیں کیا ان ’’بالفوں‘‘ کی جانے بلا؟
کیا ہی اچھا موقع تھا منظور پشتین کے پاس، انہیں چاہیے تھا کہ وہ ایک دن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے بھی نکالتے، انسانی حقوق کا کوئی بھی جینوئن کارکن مقبوضہ کشمیر میں ’’انسانیت‘‘ پہ ڈھائے جانے والے مظالم سے غافل کیسے رہ سکتا ہے؟
اگر پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستانی فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاسکتا ہے تو کشمیر میں انسانوں پہ مظالم ڈھانے والی بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی ایم کو موت کیوں پڑتی ہے؟
مجھے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی نہ عادت ہے اور نہ شوق، لیکن سوال  اٹھانا میرا حق ہے کہ آخر مظالم و جابر،دہشت گرد نریندر مودی کی  مذمت کرتے ہوئے’’حقوق انسانی‘‘ کے کارکن منظور پشتین کا دل کیوں کانپتا ہے؟
اسلام آباد کی سڑکوں پر’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ کا متنازعہ نعرہ لگانے والے ڈاکٹر پرویز ھود کہاں ہیں؟ انہیں کشمیریوں کو خاک و خون میں تڑپانے والی بھارتی فوج نظر کیوں نہیں آرہی؟ اگر ڈاکٹر پرویز ھود کا نریندر مودی یا بھارتی فوج کے خلاف کوئی بیان سامنے آیا ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ سامنے لائیں۔ اگر محسن داوڑ یا منظور پشتین نے پی ٹی ایم کے  پلیٹ فارم سے بھارتی فوج کے خلاف کوئی ایک بھی احتجاجی مظاہرہ کیا ہو، جلسہ کیا ہو یا بیان دیا ہو انہیں بھی چاہیے کہ  اس کی تفصیل ہمیں ارسال کریں ہم  اسی قلم سے انہیں خراج تحسین پیش کریں گے‘ ان شاء اللہ۔
کشمیر میں ’’انسانیت‘‘ کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والوں کو حقوق انسانی، کا کارکن کہنا بھی ’’انسانیت‘‘ کی توہین کے مترادف ہے، پاک فوج کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والے پی ٹی ایم کے لیڈروں کی زبانیں بھارتی فوج کی مذمت کرتے ہوئے ’’تالو‘‘ سے کیوں چمٹ جاتی ہیں؟
الحمدللہ پاکستان میں کوئی بھی مذہبی، سیاسی یا سماجی جماعت ایسی نہیں کہ جس نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت نہ کی ہو، شاعر ہوں، ادیب ہوں یا فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات انہوں نے بھی کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنا فرض منصبی جانا‘ حتیٰ کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتی برادری کے نمائندوں نے بھی مقبوضہ کشمیر کے انسانوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز مظالم کی بھرپور مذمت کی، لیکن منظور پشتین اور ان کی پی ٹی ایم اس حوالے سے خاموش ہے مکمل خاموش، آخر کیوں؟ انہیں کشمیری جوانوں کے لاشے گراتے بھارتی فوجی نظر کیوں نہیں آرہے؟ کشمیری مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والے بھارتی سورما ان کی آنکھوں سے اوجھل کیوں ہیں؟
جس بابری مسجد کی حمایت میں بعض ہندو دانشور بھی بات کرنے پر مجبور ہوئے، اس شہید بابری مسجد کی حمایت سے بھی پی ٹی ایم جی چراتی ہوئی نظر آرہی ہے تو کیوں؟ انسانیت کو لاحق ہونے والے خطرات کو دور کرنے کے لئے ظالم  درندہ صفت انسانوں سے تو جہاد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ جو لوگوں کا مال لوٹتے ہوں، انسانوں کو زور، زبردستی غلام بناتے ہوں، مائوں کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کو گولیاں مارتے ہوں، بہنوں کے سامنے ان کے بھائیوں کا قتل عام کرتے ہوں،قوموں کی عزت اور احترام کی دھجیاں اڑاتے ہوں،بھارت کے ایسے درندوں کے خلاف منظور پشتین اینڈ کمپنی اگر لڑنہیں سکتی، کم از کم ان بھارتی درندوں کی کھل کر مذمت تو کر سکتی ہے، کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی تو کر سکتی ہے، لیکن اگر این جی اوز مارکہ خرکار اور پی ٹی ایم کے ڈرامہ باز بھارتی فوج کی مذمت بھی نہیں کرتے، نریندر مودی جیسے بدمعاش کے خلاف بیان تک دینے کے لئے  تیار نہیں ہوتے پھر اس  حقیقت کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ پی ٹی ایم کی دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے۔
کسی کے ذہن میں یہ سوال مت آئے کہ  منظور پشتین کون سا حکومت میں ہے کہ جو کشمیریوں پر مظالم بند کروانے میں کوئی کردار ادا کر سکے، یقیناً حکومت عمران خان کی ہے، پی ٹی ایم کی نہیں، اسی لئے پی ٹی ایم سے کشمیر کو آزادی دلوانے کا مطالبہ کوئی نہیں کر رہا لیکن نریندر مودی اور بھارتی فوج کی مذمت کرنے، ان کے ظلم و ستم کے خلاف احتجاجی جلوس نکالنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے ایک ذمہ دار پاکستانی ہونے کی حیثیت سے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جاسکتا ہے۔
منظور پشتین کو چاہیے کہ یا تو آئندہ انسانی حقوق کا نام لینا چھوڑ دے یا پھر کشمیر میں انسانیت پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف مظلوم کشمیریوں کی حمایت پر کمربستہ ہو جائے۔(وماتوفیقی الاباللہ)