09:19 am
ایک ملک میں دوسرے ملک کا سزا یافتہ آزاد قیدی!

ایک ملک میں دوسرے ملک کا سزا یافتہ آزاد قیدی!

09:19 am

٭نوازشریف بالآخر ملک سے باہرOپرویز الٰہی اور فضل الرحمن:ایک دوسرے کے خلاف تردیدیںO لندن تک ایئر ایمبولنس، وہاں پرائیویٹ گاڑیO قیدیوں کی رہائی، شعرا کا کلامOمیں اگلے سال میں وزیراعظم ہوں گا:بلاول…وزیراعظم میں ہوں گا: شہباز شریف…آئندہ وزیراعظم فضل الرحمن ہوں گے: اکرم درانی…سب غلط، عمران خان 5 سال وزیراعظم رہیں گے! فردوس عاشق اعوان۔
٭کوئی نئی رکاوٹ نہ آئی تو کالم کی اشاعت تک قطر سے ایمبولنس آ چکی ہو گی یا شائد نوازشریف کو لے کر براستہ قطر لندن روانہ ہو چکی ہو گی۔ لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو علاج کے لئے چار ہفتے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا ہے کہ حسب ضرورت اس ضمانت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے سادہ معنی یہ ہیں کہ ’’سزا یافتہ مجرم‘‘ ہمیشہ کے لئے آزاد ہو گیا۔ نوازشریف کو بیک وقت دل، شوگر، خون کے خلیے کم ہونے، گردوں کی خرابی اور پتھری کی بیماریاں لاحق ہیں۔ ان میں ہر بیماری غیر معینہ مدت کا طویل علاج مانگتی ہے اس کے باوجود مریض کا پہلے کی طرح نارمل اور توانا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا، بڑھاپے اور شدید ضعف کے باعث وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا۔ سو نوازشریف کی سیاست، صحت، نارمل چلنا پھرنا سب ناممکن! ظاہر ہے یہ بیماری غیر معینہ عرصے تک چلتی جائے گی اور مریض لندن کی فضائوں میں آزاد زندگی گزارتا رہے گا جب تک سات سال کی قید، پرانا زیر اپیل مقدمہ اور نئے تین مقدمے، سب معطل رہیں گے۔دنیا بھر کی تاریخ کا پہلا واقعہ، پہلا کیس کہ جیل میں بند سزا یافتہ مجرم کوخود حکومت،عدالت اپوزیشن مل کر بیرون ملک  بھیج رہی ہیں۔ میں نے جاننے کی بہت کوشش کی کہ دنیا بھر کے کسی ملک میں اس نوعیت کے قیدی کو  اتنی اعلیٰ سہولتوں کے ساتھ جلوس اور نعروں کے ساتھ باہر بھیجا گیا ہو! کوئی ایسی مثال نہیںملی۔ سو! قارئین کرام! نوازشریف کی قید، سزا، اربوں کا جرمانہ سب ماضی کی داستان بن گئے!
٭کہا جا رہا ہے کہ اب دوسرے بیمار قیدیوں کی ملک کے اندر یا باہر رہائی اور آزادی کا راستہ کھل گیا ہے! بھولے بھالے معصوم لوگ! کس مریض کو گھر پر آرام کرنے یا کروڑوں کے اخراجات کی امیر ایمبولینس منگوانے کی اجازت ہو گی؟ کچھ ذکر ائیر ایمبولنس کا! دنیا بھر میں مسافر طیارے تیار کرنے والی کمپنیاں الگ سے مریضوں کے فضائی سفر کے لئے ائیر ایمبولنس بھی تیار کرتی ہیں۔ یہ بڑے سائز کا طیارہ ہوتا ہے۔ اس کے اندرمکمل ہسپتال ہوتا ہے۔ انتہائی نگہداشت کا خصوصی وارڈ، آپریشن روم، آکسیجن، ای سی جی وغیرہ کے جدید آلات، ول کے ساتھ لگانے والے سٹنٹ، دو سپیشلسٹ ڈاکٹر، دو نرسیں، طبی عملہ، ہر قسم کی میڈیکل ٹیسٹ اور دوائیں! ہر قسم کی آسائشوں والے علاج معالجہ کی سہولتوں کے ساتھ آکسیجن کے ذریعے سانس تو بحال رکھا جا سکتا ہے مگر اتنی بلندی (30 ہزار فٹ) پر زمین کی مقناطیسی کشش بہت کم رہ جاتی ہے جو دل کے مریضوں کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق سفر کے دوران مریض کی حالت بگڑنے لگے تو طیارے کو فوری طور پر نیچے کسی بھی ایئرپورٹ پر اتارنا پڑتا ہے تا کہ نارمل زمینی کشش حاصل کی جائے۔ نوازشریف کے لئے آنے والے ایئرایمبولنس میں 10 گھنٹے کی پرواز کا تیل موجود ہوگا لاہور سے لندن کا سفر پانچ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ نوازشریف والی ایئرایمبولنس تین گھنٹے سفر کے بعد قطر میں اترے گی جہاں ایک بار میڈیکل ٹیم مکمل معائنہ کے بعد طیارے کو جانے کی اجازت دے گی۔
٭قارئین کرام، اتنی تفصیل کے باوجود بہت اہم بات یہ ہے کہ فضائی سفر کے لئے مریض کے خون کے صحت مند خلیے (پلیٹ لیٹس) کی کم از کم تعداد 50 ہزار ہونی چاہئے مگر نوازشریف کے خلیوں کی یہ تعداد ہر ممکن علاج کے باوجود 24 ہزار سے اوپر نہیں جا رہی تھی۔ یہ تعداد بڑھانے کے لئے غیر معمولی مقدار میں اسٹیریورائڈ ٹیکے لگانا ہوں گے جو نہائت خطرناک عمل ہے۔ دل کے مریضوں کے لئے یہ خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، فوری طور پر گردے فیل ہونے اور فالج کا خطرہ ہوتا ہے! 
٭قارئین کرام! آج کالم نوازشریف کی باتوں سے بھر گیا مگر ابھی ایک اہم حصہ باقی ہے کہ قید و بند کے حوالے سے مجھ پر ادبی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ بہت سے معروف شعراء کے شعر یاد آ گئے۔ شاعر لوگ جانے والے موسموں کے علاوہ آنے والے موسموں کی پیش گوئی کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ حالات اور شاعری کے ان اکابرین کی باتیں ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ اقبال: قیدی پرندے کی فریاد ’’
آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے!
 میں بے زباں ہوں قیدی، تو چھوڑ کر دُعا لے
فانی بدایونی (1961ء… 1879ء)  
فصل گل آئی یا اجل آئی؟ کیوں درِ زنداں کھلتا ہے؟ 
کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا ؟
 ملک بدری کے بارے میں فانی نے کہا 
فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گوروکفن! 
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
 اب غربت کی جگہ دولت پڑھ لیجئے! اسی فانی بدایونی نے کیا کمال کی بات کہی کہ
فانی کفِ قاتل میں شمشیر نظر آئی
 لے خواب محبت کی تعبیر نظر آئی!
 دل ان کے نہ آنے تک لبریز شکائت تھا
 وہ آئے تو اپنی ہی تقصیر نظر آئی!
آگے چلئے۔ مولانا محمد علی جوہر کہتے ہیں ۔
 چمن تو ہم نے خود چھوڑا ہے گُل چِیں!
 گِلے پھر کیا کریں قید و قفس کے؟
جوش ملیح آبادی۔
کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے، گونج رہی ہیں تکبیریں؟ 
اُکتائے ہیں شائد کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں!
 امید فاضلی۔
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی!
 اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا!
 میر تقی نے اسی غزل میں کہا کہ
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا!
 کل اس پر یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا!
 ایک آخری شعر سلیم کوثر کا! اس میں نوازشریف کے علاوہ ایک اور نام بھی دکھائی دے رہا ہے۔ قارئین خود ڈھونڈ لیں، ورنہ کہیں گے، بلاوجہ آصف زرداری کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ سلیم کوثر کا شعر۔
تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے!
 پھر پسِ دیوارِ زنداں رات بھر روتا ہے کون؟
٭کچھ دوسری باتیں: چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ فضل الرحمان نے ایک سمجھوتہ کے تحت ختم کیا ہے۔ فضل الرحمن نے جواب دیا بالکل غلط ہے، کوئی ڈِیل نہیں ہوئی! البتہ یہ کہ ق لیگ کا حکومت کے ساتھ اتحاد ڈِھیلا ہو گیا ہے۔ پرویز الٰہی کا جواب الجواب آیا کہ بالکل غلط بات کہی ہے حکومت کے ساتھ اتحاد اسی طرح برقرار اور مضبوط ہے! اسے کوئی سازش ختم نہیں کر سکتی!…اور…اور جے یو آئی کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بہت سی باتیں طے پا چکی ہیں! جھوٹ+ غلط بیانی+ عیاری+ مکاری= سیاست!!
٭ایوان صدر:9 آرڈی ننس منسوخ ہونے کے باوجود آرڈی ننس جاری کرنے کا شوق پورا نہ ہوا۔ وزیراعظم دو دن کی چھٹی پر گئے، ایوان صدر نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ایک آرڈی ننس کے ذریعے  ہلال احمر کے چیئرمین نوازشریف کے فرنٹ مین، ڈاکٹر سعید الٰہی کو برطرف کر کے گلوکار ابرارالحق کو نیا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ اٹارٹی جنرل نے بتایا کہ متعلقہ قوانین میں ہلال احمر کے چیئرمین کو برطرف کرنے کا کوئی طریقہ ہی موجود نہیں! عدالت نے 29 نومبر تک حکم امتناعی جاری کر دیا ہے!٭فیس بک پر ایک غمزدہ شکل والی لڑکی کے ساتھ شعر درج تھا کہ ’’خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں، صَنَم رُوٹھ جائے تو میں کیا کروں؟‘‘ میں نے مخلصانہ مشورہ دیا کہ ’’میٹھے دہی کے ساتھ کلچہ کھائو!‘‘ اس پر لوگ ہنس رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں؟