08:36 am
 بدترین قحط الرجال 

 بدترین قحط الرجال 

08:36 am

 بلاشبہ اِس وقت  بھارت کے سر پر پاکستان کی بربادی کا بھوت سوار ہے۔ دونوں ممالک کے دفاتر خارجہ کے درمیان چھڑنے والی لفظی جنگ کو معمول کی کارروائی نہ سمجھا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک فرانسیسی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سبرا منیم جے شنکر نے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کی صورت میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے تعلقات بہتر کرنے کے لیے بھارت کو مطلوب افراد کی حوالگی کی شرط عائد کی ہے۔ اِس شرط سے بھارت کا ریاستی تکبر  اور پاکستان کے خلاف نفرت مزید  کھُل کر سامنے آ ئی  ہے ۔  
حالات کی سنگینی کا درست  اندازہ لگانا  ہو تو مطلوب افراد کے نام جان لیجئے ! یہ ہیں حافظ سعید صاحب اور دائود ابراہیم ۔ انہی دنوں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک ریلی میں شعلہ بیانی فرماتے ہوئے پاکستان کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی دھمکی ایک مرتبہ پھر دوہراتے ہوئے یہ معنی خیز پیشکش بھی کی ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی پالیسی ترک کر دے تو بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔  ان بیانات کو کئی زاویوں سے جانچا جا سکتا ہے لیکن اختصار کے پیشِ نظر  تجزئیے کو پاکستان کی سالمیت کو لاحق خطرات تک محدود رکھتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ بھارت اپنے بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے  پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کا کارڈ استعمال کر رہا ہے۔ راقم گزشتہ کئی مضامین میں بار بار بھارتی  جارحانہ عزائم کی جانب توجہ مبذول کرواتا رہا ہے ۔ خدارا  ارباب اقتدار ان دھمکیوں کو معمولی نہ سمجھیں !  ہمہ وقت یہ خیال ذہن میں رہے کہ نئی دلی کے راج سنگھاسن پر ایک  مذہبی جنونی دہشت گرد  جماعت براجمان ہے۔ آر ایس ایس کے بطن سے جنم لینے والی بی جے پی بھارت سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کرنا چاہتی ہے۔ مسلم دشمنی اور پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دے کر ہندو دہشت گرد ٹولے نے دوسری مرتبہ بھارت میں انتخابی میدان مار کر حکومت تشکیل دی ہے۔  اسرائیل اور امریکی اسٹیبلشمنٹ میں پائے جانے والے با اثر  مسلم دشمن عناصر بھارت  کی پشت پر ہیں ۔ اس پشت پناہی کے بل پر مقبوضہ کشمیر کا مخصوص ریاستی تشخص  بیک جنبش قلم ختم کرتے ہوئے مودی سرکار کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔  سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ  سو دن سے زائد عرصہ گذرنے کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور مواصلاتی بندشوں کا غیر انسانی سلسلہ جاری ہے۔  ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد مقدمے کے غیر منصفانہ فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کے تمام ریاستی ادارے بشمول عدلیہ آر ایس ایس کے شدت پسندوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہیں ۔ درج بالا بیانات کو ایل او سی پر بھارتی ننگی جارحیت اور آزاد کشمیر سمیت شمالی علاقہ جات کو ہڑپ کرنے کی خواہش سے ملا کر دیکھا جائے تو اس امر سے انکار ممکن نہیں رہتا کہ بھارت پوری شدت سے پاکستان کے وجود کو مٹانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اگرچہ پاک دفتر خارجہ کے ترجمان نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی کے جیتے جاگتے ثبوت کھل بھوشن یادو کا حوالہ دے کر مودی سرکار کو آئینہ دکھایا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس رد عمل کی حیثیت معمول کی خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں ! معاملہ ہمارے ارباب اقتدار کی سوچ سے زیادہ سنگین دکھائی دے رہا ہے۔ جب بھارت کے وزیر  اعظم  نریندر مودی  نے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی دی ! وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک سے زائد مرتبہ پاکستان پر فوجی حملہ کرنے اور ملک  توڑنے  جیسے مہلک  عزائم  کا اظہار کیا  اور وزیر خارجہ  سبرامنیم جے شنکر نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا تو ہمارے وزراء ان حساس معاملات پر کان دھرنے کے بجائے دیگر مشاغل میں مصروف دکھائی دئیے۔ وزیر دفاع بھارت کو جواب دینے کے بجائے احتجاج کرنے والی اپوزیشن سے مذاکرات میں مصروف تھے۔ وزیر خارجہ  جنہیں کہ بھارتی جارحانہ سفارت کاری کے مقابل اپنی وزارت کے معاملات نبٹانے کے   لئے  سب سے زیادہ متحرک  ہونا چاہئے  تھا  وہ کبھی پنجاب کی صوبائی حکومت کے معاملات پر گیان کے موتی بکھیرتے ہیں تو کبھی حزب اختلاف سے سینگ ٹکراتے دکھائی دیتے ہیں ۔  نکمی ٹیم نے اقوام متحدہ میں  وزیر اعظم کی تاریخی تقریر کے اثرات زائل کر دیئے ہیں ۔  ہٹلر  اور نازی ازم  سے  تشبیہ دئیے جانے کے  بعد دنیا بھر سے منہ چھپاتا بھارت ایک مرتبہ پھر اپنی سفارتی چابکدستی ، عیارانہ حکمت عملی اور ہمارے سدا کے نکھٹو وزراء کی کو تاہیوں کی بدولت  پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ اپوزیشن کے احتجاج اور ملک گیر مارچ کی بے وقت کی راگنی نے بھی بھارت کو   سکھ کا سانس دلایا اور پاکستان کی نکمی حکومت  کو  انتہائی نازک  حالات میں اندرونی محاذ پر الجھا کر ملکی سالمیت سے غافل کیا ۔  پاکستانی حکومت کا تساہل اور ناقص منصوبہ بندی ایل او سی کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں میں مایوسی پھیلا رہی ہے۔ پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔  ایسے وقت جبکہ دشمن پاکستان کو چاروں طرف سے گھیر کر مارنے کی تیاری کر رہے ہیں ہماری حکومت اور حزب اختلاف  بیمار قیدیوں کی ضمانت، بیرون ملک علاج ، سفری انتطامات ، الزامات کے تبادلے ، سیاسی گالم گلوچ اور اپنے اپنے قائدین کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہیں ۔ بلاشبہ یہ ایک قومی  المیہ ہے  !  یہ بدترین  قحط الرجال ہے!