08:38 am
یاروں مجھے معاف رکھو

یاروں مجھے معاف رکھو

08:38 am

اس بوڑھے شخص کو عرصہ سے دیکھ رہا تھا وہ اکثر  نشے میں چور کوئی گیت گاتا یا کسی سیاسی لیڈر کے انداز میں تقریر کرتاگذرتاچلا جاتا اس کوکبھی ہوش وہواس میں نہیں دیکھا دن میں جب وہ کہیں  ملتا تو کسی بلند جگہ بیٹھا ہوتا ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی حکمران وقت اپنے دربار میں تخت شاہی پر جلوہ آفروز ہو بڑے زور زرو سے ہاتھ ہلا ہلا کر جانے کیاکچھ کہہ رہاہوتا ‘ کم لوگوں کی ہی سمجھ میں اس کئی تقریر آتی ہوگی کبھی کبھی کوئی خوش حال مگر پریشان  شخص اس کے پاس بیٹھا ہوتا جواس سے اپنی پریشانی کے حل کیلے کچھ دریافت کررہا ہوتا کوئی سٹے باز تاجراس کی باتوں سے اپنے لے سٹے کانمبر نکال رہاہوتا وہ اپنے حال میں مگن رہتا وہ شاید اپنے گھر کا رستہ بھی بھول چکا تھا اسے شاید پوری طرح آنے جانے والوں کادرست احساس بھی نا ہوتا ہو‘ ہاں آنے جانے والے اس کی خدمت میں جو نذرانے چھوڑ جاتے وہ کرپشن میں نہیں شمار ہوتے وہ تواس کو پرسرور مست لمحے گذار نے کے کام آتے ہوںگے  اس کے عقیدت مند اسے بادشاہ کہتے ہی نہیں تھے۔ واقعی اسے بادشاہ سمجھتے بھی تھے وہ تھابھی بادشاہ۔ بقول لوگوں کے اس میں ایک کمزوری یہ بھی تھی کہ وہ اپنے دشمن کو خوب پہچانتا تھا دشمن کونہیں بھولتا تھا اس کے حواریوں کاکہنا تھا کہ بادشاہ کی حکومت بہت وسیع ہے وہ جوچاہتاہے وہ کرگذرتا ہے اسے روکنے ٹوکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی ‘کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ شراب کانشہ نہیں کرتا اسے تو اقتدار کانشہ ہے اسے جن لوگوں نے اس مقام تک پہنچایا ہے ان کی حکومت میں اس کاہی قانون چلتا ہے۔
 بادشاہ اگر کسی سے ناراض ہو جائے تو وہ آزاد نہیں رہے سکتا اس کاقانون حرکت میں آجاتاہے وہ بندہ قید ہوجاتاہے اس کی ناداد ہوتی ہے ناہی فریاد ہوتی ہے بہت پہنچی ہوئی چیزہے مجمع میں سے کسی صاحب نے ازرہ تفنن آواز لگائی کہ اگر ایساہے تو میاں نواز شریف کو کیوں نہیں روک لیا۔  دوسرے کسی کونے سے آواز آئی زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ناکوئی کسی کومار سکتا ہے نا بچا سکتا ہے پھرکسی نے کہا مارا نہیں تو مرنے جیسا تو کر دیا‘ ادھمواہوکربھگاکرلے جایاجارہاہے ‘کچھ دن اور ٹھر جاتا توقصہ ہی تمام ہوجاناتھا۔ بادشاہ آج کل بہت غصے میں ہے‘ دیکھنا کیا تماشا ہونے والا ہے ‘جانے اچانک بادشاہ کوکیا ہوا اس نے زور زور سے چلانا شروع کردیا لوگ آہستہ آہستہ سرکنے لگے بادشاہ توبادشاہ تھا اس نے کھڑے ہوکر اول فول تقریر شروع کردی۔ حسب معمول وہی آواز گونجنے لگی وہ اپنے حال میں مست چلا جارہاتھا جس طرح وہ اندھیری گلیوں میں چلتا دیکھائی دیتا ہے خطرہ تھاکہیں ٹھوکر کھا کر منہ کے بل ناگر جائے اس کے چاہنے والوں کاخیال ہے کہ وہ دور تک دیکھتاہے اس سے کچھ چھپا نہیں وہ بہت پہنچی ہوئی چیز ہے اس کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں اوپروالے بھی اس کابہت خیال رکھتے ہیں اس لئے ہی شاید اس کاجودل چاہتا ہے کرتا چلا جارہاہے ‘اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں آج اسے دیکھنے والے سب کے سب حیران رہ گے اس نے اچانک اپنے منتخب تخت سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی منہ کے بل زمین پرآگرا کچھ لوگوں جو شاید اس کے ہمدرد ہوںگے دوڑ کراسے اٹھانے بڑھے تھے ایک دل جلے نے جوشاید اس بائولے سے تنگ آیاہوہوگا بولا خوشامدیوں نے اس کادماغ خراب کررکھاہے مرنے دیتے گراہی توہے ایسوں کوتو موت بھی نہیں آتی ۔
سامنے کچھ لوگ بیٹھے جوشاید سیاست پربات کررہے تھے اس ہنگامے کودیکھ کر تھوڑی دیر تواس تماشے کودیکھاکئے‘ پھر ایک صاحب جو کافی سنجیدہ تھے بولے موجودہ حکومت چند دن میں جاتی نظر آرہی ہے آپ کاکیا خیال ہے جس طرح حزب اختلاف متحد ہوکر میدان میں آنے کی تیاری کررہی ہے وہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے کہ کچھ ناکچھ ہونے والاہے وزیراعظم کاغصہ ان کی گھبراہٹ بہت کچھ کہہ رہی ہے ایک صاحب نے بادشاہ کواٹھانے والوں کے مجمع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بادشاہوں کاایساہی حشر ہوتا ہے۔ آخر میں  منہ کے بل ہی گرتے ہیں۔ 
تیسرے صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا بھائی آپ بتارہے تھے کہ میاں نوازشریف کو حکومت کسی قیمت پر جانے نہیں دے گی کیوں آخر ایسی کیابات ہوگی جوآپ یہ بتارہے ہیں۔ کیاآپ اخبار نہیں پڑھتے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے مطابق فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیاجاسکتاہے ہوسکتا ہے واقعی چیلنج کردیاجائے اور میاں صاحب کاجانا ملتوی ہوجائے۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوناچاہے میاں صاحب تو مر جائیں گے۔ کیوں مرجائے گے۔ اس لئے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ کوئی نہیں مرتا اللہ کے حکم کے بغیر ہر کسی کی موت کاوقت اللہ نے مقرر کررکھا ہے اس سے ایک منٹ پہلے نابعد کوئی نہیں مرسکتا اور اگر میاں صاحب کاٹائم پورا ہوگیا ہے تو کوئی طاقت نہیں روک سکتی وقت اور جگہ ہر ایک انسان کے لئے مقرر ہے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میاں صاحب اپنی بیگم کلثوم نواز کی طرح بیرون ملک جاکر ہی اپنی منزل کوپہنچیں۔ یار کچھ تو اچھا بولا کرو جب بولتے ہو ایسے ہی بولتے ہو یہ بھی توہوسکتا ہے کہ میاں صاحب کاوہاں علاج ہو جائے علاج تو یہاں بھی ہوسکتا تھا مگر علاج کرنیوالوں کی سمجھ میں مرض ہی نہیں آرہا توعلاج کیاکرئیں گے بیرون ملک  مرض کی تشخیص کیلئے لے جایاجارہاہے انہیں ملک سے فرار نہیں کرایاجارہاجیسا کہ ان کے مخالفین کاگمان ہے۔ وہ شیر دل انسان ہے کلثوم کے انتقال کے بعد اسے معلوم تھا کہ لاہور پہنچتے ہی اسے گرفتار کرلیا جائے گا اور ایسا ہوابھی اس کے باوجود وہ آیا وہاں رکا نہیں اپنی بیٹی کوبھی ساتھ لایاتھا اب جب اس کی زندگی اس کاسیاسی مستقبل دائو پرلگا ہے وہ کیسے وہاں روک سکے گا اب بھی وہ باہر جانا نہیں چارہا اس کابھائی اور اہل خاندان اسے مجبور کرکے لے جارہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ میاں کی زندگی خطرے میں ہے اسے بچانا ضروری ہے کیونکہ کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ موجودہ صورت حال میں جوکوئی اچھی صورت حال نہیں ہے ۔ مسلم لیگ ن جو میاں صاحب کے سہارے کھڑی ہے اگر میاں صاحب کوکچھ ہوگیا تو پارٹی بکھر کے رہ جائے گی اس لے میاں نوازشریف کازندہ اور صحتمند رہنا بہت ضروری ہے جبکہ حکومت کسی قیمت پر انہیں ہاتھ سے نکلنے نہیں دیناچاہتی۔