08:41 am
کرپشن اور الزاماتی بیانیئے کی ناکامی

کرپشن اور الزاماتی بیانیئے کی ناکامی

08:41 am

جب سانپ نکل جائے تو لکیر کو پیٹنے کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم عمران خان کو کوئی بتائے کہ پنچھی پنجرے سے اڑان بھر چکا … اب کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، این آر او نہیں دونگا، ریاست مدینہ قائم کروں گا، ڈیزل کے پرمٹ اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی پر بکنے والا مولانا، یہ گھسا پٹا بیانیہ بھی دم توڑ چکا۔ جانے والا جاچکا، چاہے آپ نے رحم کھاکر ہی اسے باہر بجھوایا ہو؟
جیلیں تو عام مریض قیدیوں سے بھری پڑی ہیں  مگر عمران خان کو ’’رحم‘‘ صرف نواز شریف پر ہی کیوں آیا؟ سچ بولئے سچ، اس لئے کہ وہ قومیں بھی تباہ و برباد ہو جایا کرتی ہیں کہ جس کے حکمران قوم سے جھوٹ بولنے کے عادی ہوں، وہ ملک بھی کبھی ریاست  مدینہ طرز اختیار کرہی نہیں سکتاکہ جس ملک کا وزیراعظم سٹیج پر کھڑا ہوکر دوسروں پر الزام تراشیاں کرنا، دوسروں کا مذاق اڑانا اپنی عادت ثانیہ بنالے۔
یہ خاکسار بار بار انہی صفحات پر لکھ چکا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن نے ڈیزل پرمٹوں میں کرپشن کی یا کشمیر کمیٹی کے فنڈز کا غلط استعمال کر رکھا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ قائم کرکے انہیں گرفتار کیا جائے، ’’مولانا‘‘ کو نیب انکوائری کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔
لیکن مولانا فضل الرحمن کا سب سے بڑا مخالف اگر وزیراعظم ہونے کے باوجود اپنی حکومت میں نہ تو ان کے خلاف کسی عدالت میں  کرپشن ثبوت پیش کرے، نہ انہیں نیب طلب کرے، نہ انہیں کرپشن الزامات میں گرفتار کرے، فقط تقریروں میں ان پر الزامات ہی لگاتا رہے تو پھر ہمیں کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ہم وزیراعظم کے اس ’’الزاماتی بیانئے‘‘ کی حمایت کرتے پھریں؟
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ’’ملک میں مہنگائی سابق حکمرانوں کی وجہ سے ہے‘‘ چودہ مہینے اقتدار سنبھالے آپ کو ہوگئے پلیز قوم کو یہ بھی بتا دیجئے کہ سابق حکمرانوں کے بھوت سے آپ کب تک قوم کو ڈراتے رہیں گے ؟ ان چودہ مہینوں میں عمران خان نے اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں درجنوں بار ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے وعدے کیے ہیں۔
عملاً کوئی ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھایا کہ جسے ریاست مدینہ کی طرز پر سمجھا جاسکتا ہو، ریاست مدینہ میں خلفاء راشدینؒ نے اسلام کے سنہری قوانین کو نافذ کیا تھا، عمران خان حکومت اگر صرف11 ماہ میں بھارت کے سکھوں کے لئے کرتارپور میں اربوں روپے کی لاگت سے دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ تعمیر کرسکتے ہیں تو انہیں کس نے روک رکھا ہے چور کی شرعی سزا نافذ کرنے سے ، انہیں کس نے روکا ہے کہ وہ ملک سے  اسلامی قوانین کا عملی نفاذ نہ کریں؟ تقریروں میں وعدے ’’ریاست مدینہ‘‘ کے اور فکر گوردواروں کی تعمیر کی، نام ریاست مدینہ کا اور قومی خزانے سے چار سو مندروں کی تعمیر کے وعدے اور اعلانات، نام ریاست مدینہ کا، ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور عریانی، وعدے ریاست مدینہ کے اور کرپشن میں ایک پرسنٹ بھی کمی لانے میں مکمل ناکامی۔دعوے ریاست مدینہ کے اور ہمدردیاں منکرین ختم نبوت کے ساتھ، کوئی حکومتی دستر خوان کا راتب خور بتائے کہ آقاء مولیٰﷺ یا خلفاء راشدینؓ نے ریاست مدینہ میں عیسائیوں، یہودیوں، ہندوئوں یا دیگر غیر مسلموں کی کتنی عبادت گاہیں بیت المال سے تعمیر کی تھیں؟
وزیراعظم اپنی تقریر میں فرماتے ہیں کہ ’’شکر کریں کہ ہمیں ان پر  یعنی نواز شریف پر رحم آگیا، جناب وزیراعظم! یہ شکر کی نہیں ’’فکر‘‘ کی بات ہے ، آپ کے بیانیئے کے مطابق جو شخص کروڑوں عوام کی غربت کا ذمہ دار ہے، جس شخص نے عوام کے پیسے کو لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رکھا ہو، اس شخص سے ایک ٹیڈی پیسہ بھی وصول کیے بغیر اس پر ’’رحم‘‘ کھانے سے کیا ملک میں قانون کی حکمرانی کا تصور مضبوط ہوسکے گا؟
قوم تو اب اس فکر میں مبتلا نظر آرہی ہے کہ کپتان کاکرپشن کے خلاف بیانیہ بھی کہیں کسی سے ’’ادھار‘‘ لیا ہوا تو نہیں تھا؟ آپ کے سارے کرپشن بیانیئے کی بنیاد تو نواز شریف تھا، اگر نواز شریف پر رحم کھاکر آپ نے اسے بیرون ملک روانہ کر دیا تو پھر کون سی کرپشن اور کہاں کا بیانیہ؟ یہاں ہر طرف چھانگا مانگا ہے،  عمران خان بھی بس وزیراعظم ہی ہیں، میرے وزیراعظم، چنانچہ وزیراعظم کا اسٹیٹس انجوائے کیجئے، مزے اڑایئے، ’’تبدیلی‘‘ ’’انقلاب‘‘ تو نواز شریف اپنے ساتھ ہی لندن لے گئے، ویسے نواز شریف عمران خان کی سوچ سے کئی گنا بڑھ کر تیز ثابت ہوئے، کپتان کے کرپشن بیانیئے کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوڑ کر یہ جا اور وہ جا، اب وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ’’رحم‘‘ کھایا، ’’سر جی قوم کو اب پتہ چلا کہ آپ نے نواز شریف پر جو کھایا تھا وہ ’’رحم‘‘  تھا۔
چلیں… اس بے پناہ مہنگائی کے دور میں آپ نے کچھ تو ’’کھایا‘‘ لیکن  یہ ’’کھایا‘‘ ہوا اب ہضم کیسے ہوگا؟ یہ آنے والے دنوں میں اندازہ ہو جائے گا، موٹروے افتتاحی تقریب سے وزیراعظم کے خطاب کو سن کو صاف پتہ چل رہا تھا کہ یہ خطاب ’’وزیراعظم‘‘ کا نہیں ، بلکہ تحریک انصاف کے عمران خان کا تھا۔
چودہ مہینوں سے قوم پاکستان کے ’’وزیراعظم‘‘ کا خطاب سننے کے لئے ترس گئی ہے… ایسا خطاب کہ جس میں قوم کے لئے کوئی خوشخبری ہو، ایسا خطاب کہ جس میں قوم کے لئے امید سحر کی جھلکیاں ہوں، جس میں قوم کے معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مورال کی بلندی کا نسخہ موجود ہے۔
بھلا یہ بھی کوئی تقریر ہے، این آر او نہیں دوں گا، نہیں چھوڑوں گا، پاکستان واپس جاکر جیل سے پنکھا اور اے سی اتروا لوں گا، ور اب عمران خان نے نواز شریف کے کمرے سے ایسا اے سی اتروایا کہ موصوف کو جیل سے نکال کر لندن روانہ کرنا پڑگیا، پاکستان کی سیاست اس وقت ’’نفرتوں‘‘ کی آماجگاہ بن چکی ہے، حکمرانوں اور اپوزیشن سیاست دانوں کے مابین ایک د وسرے کا احترام کرنے کا  جذبہ مفقود ہوچکا ہے، چور، ڈاکو، اوئے توئے کا کلچر تیزی سے رواج پاچکا ہے، صرف عدلیہ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم سمیت ملک کے ہر ادارے کو طاقتور اور کمزور کے لئے الگ قانون کا تاثر درست کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کے ان چودہ مہینوں میں امیر اور غریب کے لئے الگ قانون کی بدعت کو ختم نہیں کرسکے۔