08:42 am
ایک بیٹی باپ کو رخصت کرتی ہے

ایک بیٹی باپ کو رخصت کرتی ہے

08:42 am

٭نوازشریف :روتی ہوئی ماں بیٹیوں کو چھوڑ کر لندن روانہO وزیراعظم عمران خان کے اپوزیشن پر’طوفانی‘ حملے... اپوزیشن کا سخت جوابO فوج حکومت کے ساتھ ہے، جنرل آصف غفورO جنرل باجوہ ایران پہنچ گئےO آزادی دھرنا، لاہور کا گھیرائو، دن بھر ٹریفک جامO ایران میں شدید مظاہرے، ٹماٹر رک گئےOپرویز مشرف،28 نومبر، غداری کا فیصلہO شاہد خاقان عباسی: ضمانت پر رہا ہونے سے انکارO آصف زرداری کی حالت زار خرابO سیاچن، برفانی تودہ گرنے سے 6 بھارتی فوجی ہلاک۔
٭ایک بڑے مسئلے کا ایک منظر ختم، دوسرا منظر شروع! تاریخ نے یہ تماشا بھی دیکھا کہ سنگین جرم میں جیل میں سزا بھگتنے اور تین مزید مقدموں میں ملوث’مجرم‘!کی داستان ایک دن عدالت، اگلے دن فیصلہ، تیسرے دن آزاد، ملک سے ’ہمیشہ‘ کے لئے باہر! میں نے پہلے بھی ’ہمیشہ‘ کی وضاحت کی ہے۔ نوازشریف کو چار ہفتے کے لئے بیرون ملک علاج کی رخصت دی گئی ہے جو ضرورت پڑنے پر بڑھ بھی سکتی ہے۔ نوازشریف کو دنیا کی واحد بیماری ہے جس کا ملک میں ممتاز ترین ڈاکٹروں کے اعلیٰ سطح کے سات میڈیکل بورڈ سراغ نہ لگا سکے! ایسی بیماری جس کا کئی ماہ سے مسلسل علاج کے باوجود علاج نہ ہو سکا، یہ عدالت کے عطا کردہ چار ہفتوں میں کیسے ٹھیک ہو جائے گی؟ لندن کے ڈاکٹر علاج میں توسیع کی سفارشات بھیجتے رہیں گے، ضمانتی علاج میں توسیع ہوتی رہے گی، چار ہفتے، چار ماہ، چار سال اور پھر سات سال! سات سال اس لئے کہ ایک کیس میں سات سال کی قید بُھگتی جا رہی ہے۔ یہ سات برسوں میں لندن میں ختم ہو جائے گی۔ باقی تین مقدموں میں ابھی کوئی سزا نہیں اس لئے بندہ بشر بالکل آزاد۔ پنجرہ خالی رہ جائے گا، پنچھی آزاد اُڑتا پھرے گا۔
٭میں اس معاملے کی دوبارہ تفصیل میں نہیں جائوں گا۔ سب کچھ بار بار چھپ چکا ہے۔ ہاں کچھ باتیں کہ لوگ اپنے ماں باپ اور اولادوں کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہیں اور یہاں! ایک بندہ بشر اپنی تقریباً 93 سالہ ماں (92 سال آٹھ ماہ) اور بال بچوں والی بیٹی کو روتے ہوئے چھوڑ کر اپنی ذات کے تحفظ کے لئے باہر چلا گیا! بیٹی مریم نواز کا مسئلہ زیادہ گھمبیر کہ اسے اپنے علیل والد کی خبر گیری کے لئے ضمانت پر رہائی ملی تھی، والد کے بیرون ملک ہونے کے باعث ضمانت کا یہ جواز باقی نہیں رہا۔ اسے اب واپس جیل جانا ہو گا۔ وہ مکمل صحت مند ہے، پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے، نام ای سی ایل میں شامل ہے۔ تاریخ کے مکافات بھی عجیب ہیں کہ والدہ کلثوم نواز لندن میں آخری سانس لے رہی تھی اور والد جیل میں تھا، لندن نہ جا سکا اور اب شدید علیل والد چار خطرناک بیماریوں کے ساتھ لندن میں اور بیٹی جیل میں! تاریخ کیسے کیسے سبق سکھاتی ہے! بے انتہا دولت کس کام کی کہ جیل میں شام ہوتے ہی بیرک میں بند، دولت کے ڈھیر کچھ نہ کر سکیں۔ یہی عالم کسی نہ کسی طرح صدر کے عہدے پر پہنچنے والے آصف زرداری کا ہے۔ اسے بھی متعدد خطرناک بیماریاںلاحق ہیں، سانس کی رکاوٹ، ریڑھ کی ہڈی کا بڑھتا ہوا درد، گردے میں پتھری، دل کی رگیں بند، شوگر کا لاعلاج مرض اور ہائی بلڈ پریشر! اندرون و بیرون ملک 87 محلات، پلازے، فارم ہائوس، ملکوں ملکوں فلیٹس، گھوڑوں کے فارم متعدد فیکٹریاں، ہزاروں ایکڑ اراضی! اور کسی بھی قسم کی اضافی سہولت کے بغیر صرف ایک پنکھے والا بارہ فٹ، 10 فٹ کا سلاخوں والا کمرہ! ہاں کمر کی ایک تکلیف ایک اور ’جری مرد‘ شہباز شریف کی بھی معروف ہے۔ بیشتر وقت سوئی رہتی ہے، کبھی کسی خاص ضرورت کے وقت جاگ پڑتی ہے پھر سو جاتی ہے۔ اس ’کمر درد‘ نے بھی ذاتی کاروباری سلسلوں میں لندن کے بہت پھیرے لگوائے۔ اب لندن پہنچتے ہیں پھر معائنے شروع ہو جائیں گے! ’’حَذَراے چیرہ دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!‘‘
٭میں ٹیلی ویژن پر ایک دلگداز قسم کا منظر دیکھ رہا ہوں۔ ایک بیٹی ہوائی اڈے پر جا کر الوداع کرنے کی بجائے گھر میں ہی کرب ناک کیفیت سے دوچار‘ باپ کو کس انداز میں سینے سے لگ کرگنگا جمنا کی طرح جل تھل آنکھوں اور سسکیوں کے ساتھ ایسی منزل کی طرف رخصت کر رہی ہے جو بہت دور ہے، جہاں کے لئے پہلے بھی اسی حال، اسی انداز کے ساتھ ماں کو بھی رخصت کیا تھا اور پھر ماں کس عالم میں واپس آئی تھی! مریم نواز نام کی یہ بیٹی ایک بار عدالت میں باپ کو ملنے گئی تھی اور باپ پر پہلی نظر پڑتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہوائی اڈے پر باپ کو رخصت کرنے جائے گی مگر وہ تو گھر میں ہی حوصلہ ہار گئی، باپ کے رخصت ہونے کے منظر کی تاب نہ لا سکی، طیارے کی رخصتی کیسے دیکھ لیتی؟ مریم بیٹا! میں بھی بیٹیوں کا باپ ہوں۔ میں تمہارا دکھ سمجھتا ہوں، جانتا ہوں ماں باپ کے آرام کے لئے بیٹیاں کس طرح رات بھر جاگتی ہیں، سردی سے بچانے کے لئے بار بار اٹھ کر ماں باپ پر کمبل ڈالتی ہیں۔ مریم سیاست الگ! آپ بھی میری بیٹی کی طرح ہیں۔ ایک بار باپ نے تمہیں اشکوں بھری آنکھوں کے ساتھ پیا گھر کے لئے رخصت کیا تھا! اور آج تم…!! تمہارے دکھ نے مجھے بے حد دکھی کر دیا ہے۔ آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے! میں تمہارے لئے سکون اور بہتر حالات کی دُعا کر رہا ہوں!
٭نوازشریف کی صورتِ حال سے دل بہت بوجھل ہے۔ عالی شان تخت اور تختہ کا فاصلہ کتنا کم ہے اور یہ بیماریاں! آصف زرداری، خاقان عباسی، سید خورشید شاہ اور اب حکومت کے انعام الحق اور شیخ رشید! کیا حاصل ہوا بڑے بڑے ایوانوں کی راہداریوں میں پھرنے سے! میں نے ایران کے بادشاہ اور ترکی کے آخری سلطان عبدالحمید کی کبھی انتہائی شاندار خواب گاہوں کو اُجڑی ہوئی عبرت ناک حالت میں دیکھا ہے۔ ایران کے انتہائی جابر شہنشاہ کی قاہرہ کی ایک تنگ گلی کے آخر میں ایک چھوٹے سے عام قبرستان میں معمولی قبر!! اور سلطان عبدالحمید! اسی طرح استنبول کے کسی عام قبرستان میں! اور میرے اسی شہر لاہور میں داتا گنج بخشؒ کے مزار پر روزانہ ایک لاکھ افراد کو تین وقت لنگر ملتا ہے!
٭اور اب کچھ دوسری باتیں۔ گزشتہ روز ہزارہ ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے وزیراعظم کے باوقار منصب سے بہت نیچے اتر کر ذاتی سطح پر اپوزیشن پر جو سخت لفظی لاٹھی چارج کیا، مجھے اس پرحیرت  نہیں ہوئی کہ میں یہ منظر بار بار دیکھتا آ رہا ہوں۔ شائد ابھی تک موصوف کوکسی نے نہیں بتایا کہ انتخابی تقریروں اور وزیراعظم کے منصب کی تقریروں میں 180 درجے کا فرق ہوتا ہے۔ انتخابی تقریروں میں مخالف کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی فلک شگاف شعلہ بیانی کے بعد اسی مخالف کے ساتھ جپھیاں ڈال کر یوں مل جاتے ہیں جیسے پانی میں پتاسہ گھل جاتا ہے! عمران خان نے انتخابات سے پہلے اور بعد میں 126 دنوں میں مخالف وزیراعظم کو (اوئے…!) جس انداز میں مخاطب کیا اس کی تو کوئی وضاحت ہو سکتی تھی مگر خود وزیراعظم کا باوقار عہدہ سنجیدگی، متانت، تدبر، حلیم اور رواداری اور بُردباری کے جو تقاضے کرتا ہے، ان کی طرف موصوف نے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ وہی انتخابی زبان، وہی للکار، اور دھمکیاں! گزشتہ روز تقریب میں، ’’ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا مولانا، بالی وڈ (فلم کی دنیا) کا ایکٹر شہباز شریف اور لبرلی کرپٹ بلاول‘‘ وغیرہ کے الفاظ نے پھر ذہن کو بوجھل کر دیا ہے۔ میں نے اعلیٰ افسر بھی دیکھے ہیں جو چپڑاسیوں کو بھی عزت سے بلاتے ہیں۔ خود تحریک انصاف کے ایک ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی تقریر بہت طوفانی اور جارحانہ تھی! مجھے ایک اور احساس ہو رہا ہے کہ شائدکہیں اپوزیشن کے نئے انتخابات کے مطالبہ کے مطابق عمران خان نے انتخابی تیاریاں تو شروع نہیں کر دیں! ایسی باتوں کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے نوخیز ولی عہد‘ اچانک چیئرمین‘ بلاول نے وزیراعظم کے خلاف بدزبانی کی حد تک جو باتیں کہیں ان پر حیرت کیسی کہ برخوردار کو جس روز اچانک سے پارٹی کی چیئرمینی ہاتھ آئی تھی، اسی روز سے یہی زبان جاری ہے!